• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

خالہ کے بیٹے کی بیٹی سے نکاح کا حکم

استفتاء

میری خالہ کا بیٹا ہے، آگے اس کی بیٹی ہے کیا اس  سے میرا رشتہ یا شادی ہوسکتی ہے؟ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ رشتے میں وہ آپ کی بھانجی یا بھتیجی لگتی ہے اس لیے آپ اس سے رشتہ نہیں کرسکتے۔ برائے مہربانی رہنمائی درکار ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

خالہ کے بیٹے کی بیٹی محرمات میں سے نہیں ہے لہذا اس سے نکاح جائز ہے۔

احکام القرآن للجصاص (3/86) میں ہے:

قوله تعالى: {وأحل لكم ما وراء ذلكم} . روي عن عبيدة السلماني والسدي: “أحل لكم ما دون الخمس أن تبتغوا بأموالكم على وجه النكاح”. وقال عطاء: “أحل لكم ما وراء ‌ذوات ‌المحارم ‌من ‌أقاربكم”

کفایت المفتی (5/41) میں ہے:

سوال : سگی خالہ یا  سگے چچا کی لڑکی کی لڑکی کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟

جواب: سگی خالہ کی لڑکی کی لڑکی سے نکاح جائز ہے اسی طرح سگے چچا کی نواسی سے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved