• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مرحومہ کے زیور کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

میری پھوپھی کا انتقال ہو گیا  ہے۔انہوں نے وراثت میں زیور چھوڑا ،ان کی کوئی اولاد نہیں تھی البتہ ان کے ورثاء میں شوہر اور پانچ بہن بھائی تھے دو بہنیں اور تین بھائی جو کہ اس وقت حیات تھے پھر اس کے بعد بھائیوں میں سے ایک بھائی فوت ہوئے ان کے ورثاء میں ایک بیٹا اور بیوی ہے پھر اس کے بعد ایک بہن کا انتقال ہوا ان کے ورثاء میں صرف شوہر حیات ہے انکی  اولاد کوئی نہیں ہوئی پھر اس کے بعد پھوپھی کے شوہر کا انتقال ہوا شوہر کے والدین ان سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے اور ان کی اولاد کوئی نہیں ہے ان کے ورثا میں دو حقیقی بھائی دو حقیقی بہنیں ایک رضائی بہن دو بھانجے اور پانچ بھتیجے زندہ ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحومہ کے ترکہ   کے 960 حصے کیے جائیں گے جن میں سے ہر  ایک بھائی  کو 132 حصے (13.7 فیصد فی کس)، بہن کو 66 حصے (6.8 فیصد)، فوت شدہ بھائی کی بیوی کو 15 حصے (1.5 فیصد)، فوت شدہ بھائی کے بیٹے کو  105 حصے (10.9 فیصد)، فوت شدہ بہن کے شوہر کو 30 حصے ( 3.1 فیصد)، مرحومہ  کے شوہر کے دونوں بھائیوں میں سے ہر بھائی کو 160 حصے (16.6 فیصد فی کس) ، مرحومہ کے شوہر کی دونوں بہنوں میں سے ہر بہن کو 80 حصے (8.3 فیصد فی کس) ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved