- فتوی نمبر: 36-115
- تاریخ: 05 اگست 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
اگر لڑکی کا نکاح ہو جائے لیکن ابھی رخصتی نہ ہوئی ہو اور اس لڑکے کی وفات ہو جائے ،تو (1) کیا لڑکے کی جائیداد میں سے لڑکی کو حصہ ملے گا؟ (2) اگر ملے گا تو کتنا حصہ ملے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
2،1۔ مذکورہ صورت میں رخصتی سے پہلے شوہر کی وفات ہونےکے باوجود بیوی کو شوہر کی وراثت میں سے ایک چوتھائی (4/1 ) حصہ ملے گا۔
روح المعانی (2/438) میں ہے:
ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن دخلتم بهن أولا إن لم يكن لهن ولد ذكرا كان أو أنثى واحدا كان أو متعددا منكم كان أو من غيركم …………… ولهن أي الأزواج تعددن أو لا الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد على التفصيل المتقدم.
شامی (10/532) میں ہے:
(ويستحق الإرث) ……… (برحم ونكاح) صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا
(قوله ونكاح صحيح) ولو بلا وطء ولا خلوة إجماعا
فتاویٰ محمودیہ (20/252) میں ہے:
سوال: ایک نا بالغہ لڑکی کا نکاح وکیل و گواہوں کی موجودگی میں حسب روئے شرع شریف اور دلہا کی جانب سے کچھ کپڑا اور سونا بھی دلہن کو دیا گیا لیکن خطبہ نکاح نہیں پڑھا گیا نیز جانبین اولیاء کی طرف سے قرار پایا کہ رخصتی آٹھ ماہ بعد ہوگی بقضائے الٰہی شوہر کا آٹھ ماہ کے بعد انتقال ہو گیا اب تک بیوی سے ایک بار بھی خلوت صحیحہ نہیں ہوئی تھی لہذا سوال یہ ہے کہ عورت کس قدر مہر کی مستحق ہے نیز جائداد منقولہ وغیرہ میں ترکہ شوہر سے حصہ پائے گی یا نہیں؟
جواب : صورت مسئولہ میں نکاح صحیح ہو گیا کیونکہ خطبہ پڑھنا نکاح کے لیے مندوب ہے فرض نہیں۔ ويندب إعلانه وتقديم خطبة
اور لڑکی مہر مقررہ کی مستحق ہو گی “ومن سمى مهرا عشرة فما زاده فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها لأنه بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته والشيء بإنتهائه يتقرر ويتاكد فيتقرر بجميع مواجبه” اور میراث کی بھی مستحق ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved