- فتوی نمبر: 36-128
- تاریخ: 18 اگست 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > اصول دین
استفتاء
ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جو نر کھجوروں کے بڑھ کو مادہ کھجوروں کے بڑھ کے ساتھ ملاتا تھا ملانے سے منع کیا اس شخص نے اس دن کے بعد سے یہ کام نہ کیا اس کے بعد جب فصل ہوئی تو اتنی پیداوار نہ ہوئی اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ شخص آیا اور اپنا مسئلہ بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دنیا مجھ سے بہتر جانتے ہو ۔
اس حدیث سے ہمیں علمائے کرام یہ سبق بتاتے ہیں کہ اسلام میں دین کے معاملے میں ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فالو کرنا ہے اور جو دنیا کے معاملات ہیں وہ ہم میں جواس فیلڈ کے ماہر ہیں ان سے پوچھا جائے گا ۔
(1) میرا سوال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھانے کے طریقے بتائے ہیں جیسے کہ بدترین برتن وہ ہے جسے ہم بھرتے ہیں یعنی کہ ہمارا پیٹ اسی طرح کھانا کھانے کا ایک طریقہ یہ بتایا کہ ہم پیٹ کے تین حصے کریں ایک حصے میں کھانا کھائیں دوسرے حصے میں پانی پئیں اور تیسرا حصہ خالی رہنے دیں ۔اب یہ جو طریقے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بتائیں ہیں یہ اسلام سے ریلیٹڈ (متعلق)ہیں یا نہیں؟ اگر یہ دنیا سے ریلیٹڈ (متعلق)ہیں تو ہمیں ان معاملات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فالو کرنا چاہیے یا نہیں جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو چیزیں ملا کر بھی نہیں کھاتے تھے شہد میں دودھ ڈال کے یا دودھ میں شہد ڈال کے نہیں کھاتے تھے۔
(2) میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ ہمیں کس طرح پتہ چلے گا کہ کون سا معاملہ دنیا کا ہے اور کون سا معاملہ دین کا ہے کیونکہ ہر معاملہ ہمیں اسلام سکھاتا ہے جو کہ دین سے ریلیٹڈ ہے تو عام آدمی کو کس طرح پتہ چلے گا کہ کون سا معاملہ دین کا ہے اور کون سا دنیا کا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاوی کاموں کو سرانجام دینے کے جو طریقے بتلائے ہیں ان کا تعلق دین سے ہے مثلا کھانا کھانے کے آداب پانی پینے کے آداب سونے کے آداب وغیرہ وغیرہ اور ان طریقوں میں مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنی چاہیے باقی کھانے کی یا پینے کی یا پہننے کی جو جائز اشیاء ہیں مثلا گوشت سبزی، دال، پھل میں سے کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں یا ان میں سے کون سی چیز کس دن کھائیں یا کس دن نہ کھائیں اس کو شریعت نے ہماری مرضی پر چھوڑ دیا ہے کہ اس میں تم خود جانتے ہو اس میں شریعت کی رہنمائی کی ضرورت نہیں ۔
2۔اسے معلوم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جن کاموں کے کرنے یا نہ کرنے کا شریعت نے ہم سے مطالبہ نہیں کیا مثلا زراعت ہم کریں یا نہ کریں شریعت کا اس بارے میں ہم سے کوئی مطالبہ نہیں یہ دنیاوی امور کہلاتے ہیں اور جن کاموں کے کرنے یا نہ کرنے کا شریعت نے مطالبہ کیا ہے وہ دینی امور کہلاتے ہیں مثلا یہ کھاؤ یہ نہ کھاؤ اس طرح تجارت کرو اس طرح نہ کرو وغیرہ وغیرہ اور اگر کسی خاص چیز کے بارے میں کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا شریعت نے مطالبہ کیا ہے یا نہیں کیا تو اس چیز کے بارے میں علماء سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
شرح النووی على مسلم (15/ 116) میں ہے:
(أنتم أعلم بأمر دنياكم) قال العلماء قوله صلى الله عليه وسلم من رأيي أي في أمر الدنيا ومعايشها لا على التشريع فأما ما قاله باجتهاده صلى الله عليه وسلم ورآه شرعا يجب العمل به وليس إبار النخل من هذا النوع بل من النوع المذكور قبله مع أن لفظة الرأي إنما أتى بها عكرمة على المعنى لقوله في آخر الحديث قال عكرمة أو نحو هذا فلم يخبر بلفظ النبي صلى الله عليه وسلم محققا قال العلماء ولم يكن هذا القول خبرا وإنما كان ظنا كما بينه في هذه الروايات قالوا ورأيه صلى الله عليه وسلم في أمور المعايش وظنه كغيره فلا يمتنع وقوع مثل هذا ولا نقص في ذلك وسببه تعلق هممهم بالآخرة ومعارفها والله أعلم قوله»
تکملہ فتح الملہم (1/473 ) میں ہے:
نعم، هناك مجال للقول بأن المعالجات المروية عن رسول الله ﷺ ليست من قبيل تبليغ الرسالة، وليست جزءاً للشريعة، بمعنى أن يجب اتباعها لكل أحد في كل مكان وزمان يقول الشيخ ولي الله الدهلوي في حجة الله البالغة: اعلم أن ما روي عن النبي ﷺ ودون في كتب الحديث على قسمين:
أحدهما: ما سبيله سبيل تبليغ الرسالة، وفيه قوله تعالى: ﴿وما ءاتكم الرسول فخذوه وما نهكم عنه فانتهوا ) منه علوم المعاد، وعجائب الملكوت،
و ثانيهما :ما ليس من باب تبليغ الرسالة، وفيه قوله : إنما أنا بشر، إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به،أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: الْعَيْنُ حَقٌّ».معنی فاذا أمرتكم بشيء من رأيي فإنما أنا بشر». وقوله ﷺ في قصة تأبير النخل : فإني إنما ظننت ظناً، ولا تؤاخذوني بالظن، ولكن إذا حدثتكم عن الله شيئاً فخذوا به ؛ فإني لم أكذب على الله، فمنه الطب، ومنه باب قوله : عليكم بالأدهم الأفرح ومستنده التجربة. ومنه ما فعله النبي ﷺ على سبيل العادة دون العبادة». والله سبحانه وتعالى أعلم .
تكملہ فتح الملہم (5/348) میں ہے:
قوله : «وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْبِي ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ» : والمراد من الرأي هنا هو الظن في الأمور المباحة، كما دل عليه الحديث السابق، والأحاديث يفسّر بعضها بعضاً ، وقد صرّح عكرمة في آخر الحديث أنه روى حديث رافع هذا بالمعنى، بخلاف الحديث السابق ؛ فإن الظاهر فيه أنه يروى باللفظ ، وقد عبّر عكرمة الظن هنا بالرأي، فليس المراد اجتهاده صلی الله عليه وسلم في الأمور الشرعية؛ لأنه يجب اتباعه على الأمة، كما دل عليه النصوص المتكاثرة المتظافرة.
قال الشيخ ولي الله الدهلوي رحمه الله :واجتهاده بمنزلة الوحي ؛ لأن الله تعالى عصمه من أن يتقرر رأيه على الخطأ، وليس يجب أن يكون اجتهاده استنباطاً من المنصوص كما يظنّ، بل أكثره أن يكون علمه الله تعالى مقاصد الشرع وقانون التشريع والتيسير والأحكام، فبين المقاصد المتلقاة بالوحي بذلك القانون، ومنه حكم مرسلة ومصالح مطلقة لم يوقتها، ولم يبين حدودها، كبيان الأخلاق الصالحة وأضدادها . ومستندها غالباً الاجتهاد، بمعنى أن الله تعالى علمه قوانين الارتفاقات، فاستنبط منها حكمة وجعل فيها كلية . ومنه فضائل الأعمال ومناقب العمال. وأرى أن بعضها مستند إلى الوحي، وبعضها إلى الاجتهاد .
قوله : «فَخَرَجَ شِيصَاً : بكسر الشين، وهو البسر الرديء الذي إذا يبس صار حشفاً .
قوله : «أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنيَاكُمْ» : أي : بالأمور التي وكلها الشرع إلى التجربة، ولم يأت فيها بأمر أو نهي جازم.
التنوير شرح الجامع الصغير (4/ 271) میں ہے:
«”أنتم أعلم بأمر دنياكم”. (م) عن أنس وعائشة (صح).
(أنتم أعلم بأمر دنياكم) مني فإني ما بعثت إلا لإبعادكم من العذاب ودلالتكم على ما تنالون به الثواب لا زراعًا كما أفاده سببه أنه صلى الله عليه وسلم مر على قوم يلقحون نخلاً فقال لهم: “لو لم تلقحوا لصلح” فخرج شيصًا … فذكره، وفيه أنه لا ضير على الرسل في جهلهم بعض أعمال الدنيا، ولا نقص فيه عليهم وفيه أن من ظن في شيء من أمور الفلاحة ونحوها صلاحًا فله فعله، ولو ظن من هو»
اکمال المعلم (7/ 334) میں ہے:
«وقوله عليه السلام فى إنكار التذكير للنخل: ” لو لم تفعلوا لصلح وكان خيرًا، وما أظن يغنى ذلك شيئًا ” فتركوه، فنقصت، فقال: ” إنما أنا بشر، وإنما ظننت ظنًّا، فلا تؤاخذونى بالظن، فإذا حدثتكم عن الله [شيئًا] فخذوا، فإنى لن أكذب على الله، وإذا أمرتكم بشىء من رأيى فإنما أنا بشر “، وفى الرواية الأخرى: فخرجت شيصًا، فقال: ” أنتم أعلم بأمر دنياكم “: فمعنى قوله هنا: ” من أمرى “: يعنى فى أمر الدنيا، لا فيما رآه أو قاله من قبل نفسه فى اجتهاده فى الشرع والسير على القول بجواز الاجتهاد منه؛ لأن القسم الذى [قد أمر بالأخذ به بقوله: ” من دينكم وعن الله “، وهذا اللفظ الذى] قال فيه: ” من رأى ” إنما أدَّى به عكرمة فى الحديث على المعنى لقوله آخر الحديث أو نحو هذا، فلم يأت به بلفظ النبى مخففاً فلا يحيل به من لا تحقيق عنده.وقول النبى هاهنا للأنصار فى النخل ليس على وجه الخبر الذى يدخله الصدق والكذب فينزه النبى عن الحلف فيه، وإنما كان على طريق الرأى منه؛ ولذلك قال لهم: ” إنما ظننت ظنًا، وأنتم أعلم بأمر دنياكم “، وحكم الأنبياء وآراؤهم فى حكم أمور الدنيا حكم غيرهم من اعتقاد بعض الأمور على خلاف ما هى عليه، ولا وصم عليهم فى ذلك؛ إذ هممهم متعلقة بالآخرة والملأ الأعلى وأوامر الشريعة ونواهيها وأمور الدنيا يضادها؛ بخلاف غيرهم من أهل الدنيا الذين يعلمون ظاهرًا من الحياة الدنيا وهم عن الآخرة هم غافلون.»
لمعات التنقيح (1/ 456) میں ہے:
«وقوله: (قال) صلى الله عليه وسلم: (لعلكم لو لم تفعلوا كان خيرًا) قال ذلك برأي منه من غير أن يوحى إليه في ذلك شيء، فإنه رأى أمرًا من أمور الجاهلية غير معقول تأثيره في الزيادة والنقصان من غير نظر إلى أن له خاصية بجريان العادة، ولذا لم يمنعهم عن ذلك جزمًا، يعني ليس لي بأمثال هذا من أمور الدنياوية التفات وغرض، إذ ليس مما يتعلق به سعادة الدنيا والآخرة، إنما منعتكم عنه بمقتضى ظاهر رأي، ولعلي أخطئ فيها بمقتضى البشرية، وإنما المهتم من شأني بيان الأمور المتعلقة بالدين، فإذا أمرتكم بشيء منها فخذوه واعملوا به، وأما إذا أوحي إلي في شيء فيجب العمل، فافهم.»
ملفوظات حکیم الامت(12/148) میں ہے:
تابیر نخل والی حدیث مشورہ پر محمول ہے :حضور پرنور صلی اللہ علیہ و سلم نے تابیر نخل کے بارے میں اول مشورتا منع فرمایا اور بعد میں فرمایا “انتم اعلم بامور دنیاکم ” اس پر بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ جس قدر ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہوتا ہے وحی سے ہوتا ہے اور وحی میں خلاف کہاں ” وما ینطق عن الهوی ان ھو الا وحی یوحی ” ارشاد حق تعالی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ وحی سے جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں وہ احکام دینیہ میں ضرور واقعی ہوتے ہیں ۔ ان میں مشورتاً نہیں فرمایا جاتا اور جو امور دنیوی ہیں جن میں مشورہ ہے ان میں خلاف ممکن ہے ۔ انتم اعلم اسی واسطے فرمایا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امور دنیویہ میں شریعت کو دخل نہیں اور تابیر نخل کے قصے کو دلیل لاتے ہیں ۔ یہ بات غلط ہے ۔ اس واسطے کہ اوامر نواہی متعلقہ امور دنیا شریعت ہی سے ثابت ہیں ، پھر انکار کیونکر ہو سکتا ہے ۔ احکام جو متعلق امور دنیوی ہیں جن کا اہتمام ضروری ہے شریعت ہی سے ثابت ہیں ۔ پس معاملات میں دو مرتبے ہیں ۔ ایک تو تجربیات کہ فلاں کام کیونکر کریں کہ نفع ہو ، زراعت کیونکر کریں کہ غلہ پیدا ہو ، کھیت کیونکر جوتا جائے ۔ تخم ڈالنا کس وقت مناسب ہے ۔ یہ تو تجربات ہیں ۔ دوسرے شرعیات ہیں کہ فلاں صورت سے تجارت کرنے میں ربو ہو گا ۔ وہ حرام ہے ۔ فلاں صورت پر جائز مثلا ۔ یعنی احکام حلت و حرمت گو امور دنیاوی ہی سے متعلق ہوں ۔ یہ مسائل ہیں اور شریعت سے ثابت ہیں اور تابیر نخل تجربات سے ہے ۔
بیان القرآن( 4/196 ) میں سورہ احزاب کے تحت ہے:
فائدہ: آیت وَما كان الخ میں من امرهم دینی اور دنیاوی امر کے لئے عام ہے، لہذا اگر آپ دنیاوی امور میں بھی واضح یقین کے طور پر کوئی حکم فرمادیں تو اس پر عمل کرنا واجب ہوگا اور تا بیر نخل یعنی کھجور کے درخت پر پھل سے پہلے آنے والے پھولوں کو بیچ میں سے چیر کر نردرخت کے ذریعے مادہ درخت کے پھول میں ڈالنے سے متعلق حدیث میں جوار شاد ہے: أنتم أعلم بأمور دنیاکم : اپنے دنیاوی امور تم زیادہ بہتر طور پر جانتے ہو یہ اس صورت میں ہے جب آپ محض رائے اور مشورہ کے طور پر فرمائیں۔اور رہا یہ کہ پھر تو بغیر یقین اندازے سے فرمانے میں تو دینی امور میں بھی اتباع واجب نہیں جیسا کہ نفلوں کا معاملہ ہے پھرتا بیر والی حدیث میں جو آگے مقابلہ میں ارشاد فرمایا ہے: إذا أمرتكم بشيئ من الدین: یعنی جب میں تمہیں دین کے بارے میں کوئی حکم دوں تو اس پر عمل کرو: اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دینی امور میں ایک اتباع مطلق طور پر واجب ہے یعنی اعتقاد رکھنا۔ برخلاف دنیا دی امر کے اس کی مصلحت اور نفع دینے والی ہونے کا اعتقاد رکھنا بھی واجب نہیں۔ اور چونکہ حضرت زید کو قرینوں سے معلوم ہو گیا ہو گا کہ آپ رائے اور مشورہ کے طور پر طلاق نہ دینے کے لئے فرمار ہے ہیں، اس لئے اس کو نہ ماننا مَنْ يَعْصِ الله الخ میں داخل نہیں ہوا، جیسا کہ آپ نے حضرت بریرہ کو حضرت مغیث کے پاس رہنے کیلئے فرمایا اور انہوں نے یہ تحقیق کرنے کے بعد کہ یہ آپکی محض سفارش اور مشورہ ہے حکم نہیں ہےمنظور نہیں کیا اور اس پر انہیں ملامت بھی نہیں کی گئی۔
بیان القرآن میں سورہ حجرات کے تحت ہے :
اور جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں جو اللہ کی بڑی نعمت ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے: لَقَدْ مَنَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِم الخ لہذا اس نعمت کا شکریہ ہے کہ تم کسی بات میں آپ کی نافرمانی مت کرو، چاہے وہ بات دنیا وی ہی کیوں نہ ہو، اور اس فکر میں مت پڑو کہ دنیاوی امور میں خود حضور ہماری رائے کے مطابق عمل کیا کریں، کیونکہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان میں تمہارا کہنا مانا کریں تو تمہیں بہت نقصان پہنچے۔ اس کے برخلاف آپ کی رائے پر عمل کیا جائے، کیونکہ اس کے دنیاوی امر ہونے کی صورت میں اگر چہ اس میں مصلحت کے خلاف ہونے کا احتمال اپنے آپ میں نبوت کی شان کے خلاف اور محال نہیں۔ لیکن اول تو ایسے امور جن میں ایسا احتمال ہو، بہت ہی کم یعنی نہ ہونے کے برابر ہوں گے، پھر اگر کچھ ہوں بھی اور ان میں مصلحت فوت بھی ہو جائے تو یہ کتنی بڑی بات ہے کہ اس مصلحت کا بہترین بدل یعنی رسول کی اطاعت کا اجر اور ثواب ضرور ملے گا۔ اس کے بر خلاف کہ تمہاری رائے پر عمل ہو کہ وہ بہت ہی تھوڑے سہی پھر بھی کچھ ایسے بھی نکلیں گے جن میں مصلحت ہو، اگر چہ وہ متعین تو نہیں ہیں پھر بہت ہی کم ہونگےزیادہ احتمال نقصان ہی کا ہے، پھر اس نقصان کا کوئی بدل نہیں، اور اس وضاحت سے کثیر کی قید کا فائدہ بھی معلوم ہوگیابہر حال اگر آپ ﷺتم لوگوں کی موافقت کرتے تو تم بڑی مصیبت میں پڑ جاتے) لیکن اللہ تعالی نے تمہیں مصیبت سے اس طرح بچالیااس طرح کہ تمہیں (کامل ایمان کی محبت دی اور اس (کے حاصل کرنے) کو تمہارے دلوں میں اچھا کر دیا۔ اور کفر اور فسق (یعنی کبیرہ گنا ہوں) اور ( مطلق ) نافرمانی یعنی صغیرہ گنا ہوں سے تمہیں تمہارے دلوں میں ) نفرت دیدی (پیدا کر دی جس کی وجہ سے تمہیں ہر وقت رسول ﷺ کی رضا و خوشنودی کی تلاش رہتی ہے، اور جس کی وجہ سے تم رسول صلی ﷺ کی رضا کا سبب بننے والے اعمال سے متعلق احکام کو مان لیتے ہو۔ چنانچہ جب تمہیں معلوم ہو گیا کہ دنیاوی امور میں بھی رسول کی اطاعت واجب ہے اور مطلق اطاعت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا اور کامل ایمان حاصل کرنے کی رغبت پہلے سے موجود ہے، پس ) تم نے فورا اس حکم کو قبول بھی کرلیا، اور انہیں قبول کر کے ایمان کی اور تکمیل کرلی ایسے لوگ (جو ایمان کی تکمیل سے محبت رکھتے ہیں اللہ تعالی کے فضل و انعام سے سیدھے راستہ پر ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ احکام فرمائے ہیں تو وہ ان کی مصلحتوں کو جاننے والا ہے اور ( چونکہ ) حکمت والا ہے (اس لئے ان احکام کو واجب کر دیا ہے )
فائده: ﴿ وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللهِ ﴾ کے الفاظ کا ظاہر اس امر کا قرینہ ہے کہ ان میں کسی ایسے امر کا بیان ہے جو حضور ﷺکی زندگی کے ساتھ خاص تھا۔ اور احقر کے نزدیک وہ امر یہی دنیاوی معاملوں میں اطاعت کرنا ہے اور فی کثیر کہنا بھی اس کا قرینہ ہے کہ ایسے ہی امور مراد ہیں، کیونکہ دینی امور میں تو کسی ایک امر میں بھی (عدم اطاعت کی گنجائش نہیں، اور تخصیص کی وجہ یہ نہیں کہ اگر آپ اپنے بعد کے لئے ایسے احکام فرما جاتے تو اطاعت واجب نہ ہوتی بلکہ تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے ایسے احکام نہیں فرمائے، کیونکہ یہ احکام جزئی تھے اور حضور نے جو ہمیشہ باقی و قائم رہنے والی شریعت چھوڑی ہے، وہ کلی احکام ہیں، اور اس مسئلہ کی تحقیق کہ دنیاوی امور میں اطاعت کی شرط سے واجب ہے، سورۃ الاحزاب آیت: ۳۶ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِن وَلَا مُؤْمِنَةٍ ) میں گذر چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved