• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

میرے والد صاحب 1967 ء میں انتقال کر گئے ، میرے والد کے والدین (دادا، دای) کا انتقال ان سے پہلے ہوگیا تھا۔ گاؤں میں ان کے مکان کے وارثین میں ایک بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل تھے۔1980ء میں بڑی بیٹی جو کہ شادی شدہ تھی، بغیر اولاد کے وفات پاگئی، اس کے انتقال کے وقت اس کا شوہر حیات تھا۔1983ء میں بڑے بیٹے (میرے بھائی) نے تمام وارثین کی رضا مندی سے گاؤں کا مکان  12 ہزار میں بیچ دیا اور باقی رقم  8 ہزار روپے اپنی طرف سے ڈال کر لاہور میں5 مرلے کا پلاٹ خرید لیا۔ اس پلاٹ پر انہوں نے ایک منزلہ مکان (گرے سٹرکچر ) تعمیر کیا۔

1988ء میں غیر شادی شدہ  بڑے بیٹے (میرے بھائی) کا انتقال ہو گیا اور یوں ورثاء میں والدہ، میری بہن اور میں رہ گئے۔2015ء میں میں نے اس مکان پر دوسری منزل تعمیر کی جس پر تقریبا 20 لاکھ روپے خرچ ہوئے ۔ یہ تمام رقم میں نے اپنی ذاتی رقم سے خرچ کی ۔دسمبر 2025ء میں والدہ کا بھی انتقال ہو گیا ہے ان کے والدین (نانا، نانی) کا انتقال والدہ سے پہلے ہوگیا تھا  اور میں اور میری بہن ورثاء میں شامل ہیں۔درج بالا تفصیلات کو مد نظر رکھتے ہوئے میرا سوال یہ ہے کہ:

1۔ اس مکان میں میری بہن کا جو تیسرا حصہ بنتا ہے کیا وہ مکان کی کل قیمت میں سے ہے یا جو رقم میں نے ( تقریباً 20 لاکھ)  خود خرچ کی ہے، وہ کل رقم سے منہا کر کے باقی رقم سے ان کا تیسرا حصہ بنے گا۔

2۔علاوہ ازیں کیا ٹرانسفر، رجسٹری یا کسی اور سرکاری طور پر ہونے والے اخراجات میں ان سے تیسرا حصہ وصول کیا جا سکتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت  میں آپ کے والد کی وراثت  تین حصوں میں تقسیم نہیں ہوگی بلکہ اس میں آپ کی فوت شدہ بہن کے شوہر کا بھی حصہ ہے لہذا اس گھر کی تقسیم کی صورت یہ ہوگی کہ پہلے عمارت کے بغیر  صرف زمین کی قیمت لگوائی جائے گی اور اس قیمت میں سے 4.375 فیصد فوت شدہ بہن کے شوہر کو ادا کیے جائیں گے پھر دوسری منزل کے ساتھ اور دوسری منزل کے بغیر گھر (یعنی پلاٹ اور پہلی منزل)  کی قیمت لگوائی جائے گی جو دونوں میں فرق ہوگا وہ آپ کو ملے گا اس کے بعد جو رقم بچے گی اس کے تین حصے کیے جائیں گے جن میں سے دو حصے آپ کو اور ایک حصہ آپ کی بہن کو ملے گا۔اور اس تقسیم کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ  صورت میں آپ کے والد کا گاؤں والا مکان جو 12 ہزار میں بیچا گیا تھا اس کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل رقم کے 1440 حصے کی جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوی کو 215 حصے (14.930 فیصد) یعنی  791.66 روپے اور دو بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو448 حصے(31.112 فیصد فی کس) یعنی3733.33 روپے، بیٹی کو 224 حصے (15.556   فیصد) یعنی 1866.66روپے اور شوہر کو 105 حصے (7.291 فیصد) یعنی 875 روپے ملیں گے پھر چونکہ اس رقم  میں 8 ہزار روپے شامل کرکے  لاہور میں 20 ہزار روپے کا پلاٹ خریدا گیا اس لیے لاہور  والے پلاٹ میں فوت شدہ بہن کے شوہر کے 875 روپے بھی شامل تھے جو 20000 روپے کا 4.375 فیصد بنتے ہیں لہذا  لاہور والی زمین کی قیمت میں سے 4.375 فیصد فوت شدہ بہن کے شوہر کو ملیں گے اور باقی رقم میں سے دوسری منزل کی قیمت یہ منزل بنانے والے  بھائی کو ملے گی اور باقی رقم بہن بھائی میں تقسیم ہوجائے گی کیونکہ فوت شدہ ماں بیٹے کے وارث صرف یہی دو بہن بھائی ہیں۔

2۔رجسٹری وغیرہ کے اخراجات  ورثاء پر ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے   تقسیم ہوں گے، سب پر برابر تقسیم نہ ہوں گے۔

شامی (6/256) میں ہے:

(‌وهو ‌على ‌عدد الرءوس) مطلقا لا الأنصباء خلافا لهما، قيد بالقاسم لأن أجرة الكيال والوزان بقدر الأنصباء إجماعا، وكذا سائر المؤن كأجرة الراعي والحمل والحفظ وغيرها شرح مجمع

قوله وغيرها) ‌كأجرة ‌بناء الحائط المشترك أو تطيين السطح أو كري النهر أو إصلاح القناة لأنها مقابلة بنقل التراب أو الماء والطين وذلك يتفاوت بالقلة والكثرة، أما التمييز فيقع لهما بعمل واحد

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام (3/154) میں ہے:

إذا كانت ‌التكاليف ‌الأميرية لأجل محافظة النفوس فتقسم على عدد الرءوس ولا يدخل في دفتر التوزيع النساء ولا الصبيان، وإذا كانت لمحافظة الأملاك فتقسم على مقدار الملك لأن الغرم بالغنم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved