- فتوی نمبر: 36-129
- تاریخ: 20 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > مصارف زکوۃ کا بیان
استفتاء
ایک صاحب(جو کہ مسجد میں امام و خطیب بھی ہیں) فرما رہے ہیں کہ مسجد کی ضروریات زکوٰة کے مال سے پوری کی جا سکتی ہیں اور حوالہ کے طور پردرج ذیل عبارت بھیجی ہے۔
سوال: کیا زکوة کی رقم سے مسجد بن سکتی ہے ؟
جواب : میری رائے میں فی سبیل الله کی رقم سے مسجد بن سکتی ہے اور زکوۃ بھی فی سبیل اللہ کے ذیل میں آ جاتی ہے۔ ایک چیز کے متعلق ہمارے فقہاء عام طور پر کہتے ہیں کہ زکوۃ کو اس پر خرچ نہیں کیا جا سکتا ، وہ متوفی کی تجہیز و تکفین کا مسئلہ ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ زکوۃ میں کسی شخص کو مالک بنایا جاتا ہے اور چونکہ متوفی مالک نہیں بنتا ،لہذا متوفی کو زکوة کے ذریعے کفن دینا ممکن نہیں ۔ اس کا حل میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ زکوة کے ذریعے مرنے والے کو کفن نہ دیجیے بلکہ متوفی کے کسی قریبی رشتہ دار کو مدد کے طور پر زکوة دیجیے کہ وہ اس رقم سے اپنے متوفی عزیز کے کفن دفن کا انتظام کر سکے ۔ اس طرح سے وہ دشواری باقی نہیں رہتی جو عارضی طور پر پیدا ہو جاتی ہے ۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی شخص کی وفات ہو جائے اور اس کے قریبی رشتہ دار بالکل نہ ہوں تو بہتر یہی ہے کہ دیگر مسلمان اس کی مدد کریں چاہے وہ زکوة کی رقم سے ہی کیوں نہ ہو ۔ (خطبات بہاولپور، از ڈاکٹر محمد حمید اللہ)
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مسجد کی ضروریات زکوۃ کے مال سے پوری نہیں کی جا سکتیں۔ باقی مذکورہ صاحب نے حوالہ کے طور پر جو عکس بھیجا ہے اس میں ذکر کردہ بات درست نہیں کیونکہ اگرچہ مسجد میں پیسے خرچ کرنا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جو پیسے مسجد میں خرچ کیے جائیں وہ زکوۃ کے پیسے نہ ہوں کیونکہ زکوۃ کے پیسے کسی بھی کارِخیر میں لگانا کافی نہیں بلکہ اس کے لیے خاص شرائط ہیں جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ زکوۃ کے پیسے مالکانہ بنیاد پر کسی مستحق شخص کو دے دیے جائیں جبکہ مسجد کو پیسے دینے میں یہ شرط نہیں پائی جاتی جیسے متوفی کی تجہیز و تکفین زکوۃ کے پیسوں سے نہیں کی جا سکتی۔
شامی (2/343) میں ہے:
(وفي سبيل الله وهو منقطع الغزاة) وقيل الحاج وقيل طلبة العلم، وفسره في البدائع بجميع القرب وثمرة الاختلاف في نحو الأوقاف.
(قوله: وهو منقطع الغزاة) أي الذين عجزوا عن اللحوق بجيش الإسلام لفقرهم بهلاك النفقة أو الدابة أو غيرهما فتحل لهم الصدقة وإن كانوا كاسبين إذا الكسب يقعدهم عن الجهاد قهستاني (قوله: وقيل الحاج) أي منقطع الحاج. قال في المغرب: الحاج بمعنى الحجاج كالسامر بمعنى السمار في قوله تعالى {سامرا تهجرون} [المؤمنون: 67] وهذا قول محمد والأول قول أبي يوسف اختاره المصنف تبعا للكنز. قال في النهر: وفي غاية البيان أنه الأظهر وفي الإسبيجابي أنه الصحيح (قوله: وقيل طلبة العلم) كذا في الظهيرية والمرغيناني واستبعده السروجي بأن الآية نزلت وليس هناك قوم يقال لهم طلبة علم قال في الشرنبلالية: واستبعاده بعيد؛ لأن طلب العلم ليس إلا استفادة الأحكام وهل يبلغ طالب رتبة من لازم صحبة النبي – صلى الله عليه وسلم – لتلقي الأحكام عنه كأصحاب الصفة، فالتفسير بطالب العلم وجيه خصوصا وقد قال في البدائع في سبيل الله جميع القرب فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله وسبيل الخيرات إذا كان محتاجا. اهـ. (قوله: وثمرة الاختلاف إلخ) يشير إلى أن هذا الاختلاف إنما هو تفسير المراد بالآية في الحكم، ولذا قال في النهر والخلاف لفظي للاتفاق، على أن الأصناف كلهم سوى العامل يعطون بشرط الفقر فمنقطع الحاج أي وكذا من ذكر بعده يعطى اتفاقا وعن هذا قال في السراج وغيره: فائدة الخلاف تظهر في الوصية يعني ونحوها كالأوقاف والنذور على ما مر اهـ أي تظهر فيما لو قال الموصي ونحوه في سبيل الله، وفي البحر عن النهاية، فإن قلت: منقطع الغزاة أو الحج إن لم يكن في وطنه مال فهو فقير وإلا فهو ابن السبيل فكيف تكون الأقسام سبعة قلت: هو فقير إلا أنه زاد عليه بالانقطاع في عبادة الله تعالى فكان مغايرا للفقير المطلق الخالي عن هذا القيد.
ہندیہ (6/96) میں ہے:
ولو قال: فرسي وسلاحي في سبيل الله تعالى، فهذا على التمليك يملك رجلا واحدا فقيرا، وكذلك لو قال: ثلث مالي في غزو أو قال: في سبيل الله تعالى، أو قال: في السبيل فهذا على تمليك الفقراء.
النہر الفائق (1/462) میں ہے:
قال: بنى مسجدا للغير بنية الزكاة أو حج أو اعتمر أو أعتق أو قضى دين حي أو ميت بغير إذن الحي لا يجوز وهو الوجه لأنه لا بد من كونه تمليكا وهو لا يقع عند أمره بل عند أداء المأمور
البنایہ (3/156) میں ہے:
(ولا يبنى بها مسجد) ش: أي لا يبنى بالزكاة مسجد، لأن الركن في الزكاة التمليك من الفقير ولم يوجد
فتح القدیر (2/267) میں ہے:
(ولا يبنى بها مسجد ولا يكفن بها ميت) لانعدام التمليك وهو الركن
فتاوی دارالعلوم دیوبند (6/186) میں ہے :
سوال: آیت کریمہ إنما الصدقات للفقراء الآية میں وفي سبيل الله میں کون کون سے مصارف داخل ہیں عملہ وانجمن ہائے تبلیغ وحفاظت اسلام کی تنخواہ اور مصارف خوراک وسفر وغیرہ اس میں داخل ہیں یا نہیں ؟
الجواب: درمختار میں ہے: وفي سبيل الله وهو منقطع الغزاة وقيل الحاج وقيل طلبة العلم فسره في البدايع بجميع القرب الخ غرض یہ ہے کہ فی سبیل اللہ میں بےشک موافق تفسیر صاحب بدایع کے حملہ مصارف خیر داخل ہیں لیکن جو شرائط ادائے زکوۃ کی ہے وہ سب جگہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے, وہ یہ ہے کہ بلا معاوضہ تملیک محتاج کی ہونی ضروری ہے اس لیے حیلہ تمليك اول کرلینا چاہیے تاکہ تملیک کے بعد تبلیغ وغیرہ کے ملازمین کی تنخواہ وغیرہ میں صرف کرنا اس کا درست ہوجائے ۔
فتاویٰ رحیمیہ (7/187) میں ہے:
سوال : مسجد وغیرہ کی تعمیر میں زکوۃ کی رقم لی جا سکتی ہے؟ اگر کوئی تعمیر میں زکوۃ کی رقم استعمال کرنا چاہے تو اس کی زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں ؟
جواب : زکوۃ کی ادائیگی کے لیے مستحق زکوۃ کو کسی عوض مالک بنانا شرط ہے تملیک کے بغیر زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔ تعمیری کاموں میں استعمال کرنے کی صورت میں زکوۃ کی تملیک نہیں ہوتی لہذا مسجد ہو یا مدرسہ اس کی تعمیر میں زکوۃ کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved