- فتوی نمبر: 36-133
- تاریخ: 20 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز کی شرطوں کا بیان
استفتاء
1۔جارجٹ2۔شیفون3۔کرنکل4۔کریب
ان دوپٹوں میں نماز کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر یہ دوپٹے اتنے باریک ہوں کہ ان میں بالوں کا رنگ نظر آتا ہو تو ان میں نماز نہ ہوگی۔ اور اگر اتنے موٹے ہوں کہ ان میں بالوں کا رنگ نظر نہ آتا ہو تو ان دوپٹوں کو اوڑھ کر نماز ہو جائے گی۔
شامی (1/410) میں ہے:
(وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح (خلا الوجه والكفين) فظهر الكف عورة على المذهب (والقدمين) …………. (وعادم ساتر) لا يصف ما تحته
(قوله لا يصف ما تحته) بأن لا يرى منه لون البشرة احترازا عن الرقيق ونحو الزجاج
ہندیہ (1/58) میں ہے:
والثوب الرقيق الذي يصف ما تحته لا تجوز الصلاة فيه
البحر الرائق (1/283) میں ہے:
وحد الستر أن لا يرى ما تحته حتى لو سترها بثوب رقيق يصف ما تحته لا يجوز
فتاویٰ محمودیہ (5/521) میں ہے:
سوال : آج کل بہت باریک دوپٹے چلے ہیں جس میں سر کے بال صاف نظر آتے ہیں اس قسم کا دوپٹہ اوڑھ کر نماز درست ہوتی ہے یا نہیں ؟
جواب : عورت اگر ایسا باریک دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے گی تو نماز درست نہ ہوگی۔
مسائل بہشتی زیور (1/134) میں ہے:
ایسا باریک لباس پہننا جس میں سے کھال کی رنگت نظر آتی ہو حرام ہے اور اس سے نماز بھی نہیں ہوتی اسی طرح عورت اگر باریک چادر یا دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے جس میں سے بالوں کی سیاہی چمکتی ہو تو اس سے نماز درست نہیں ہوتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved