• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غصے کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

استفتاء

شوہر کا بیان :

میں  زید اللہ اور اس کے رسول کو حاضر و ناظر جان کر یہ بیان حلفی دیتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی  زینب  کو طلاق طلاق کے حرف جتنا میرے ذہن میں ہے چار یا پانچ دفعہ کہے ہیں میں اپنی بیوی کو اس کے والدین کے گھر سے لینے گیا وہاں میری بیوی کی والدہ کے ساتھ اور اپنی بیوی کے ساتھ سارا دن تلخ کلامی ہوتی رہی جس کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ اور شدید غصے کی حالت میں میں نے یہ الفاظ بولے ہیں جب میں یہ الفاظ بول رہا تھا تب میرے دماغ کی سوچنے کی کیفیت بالکل نہیں تھی اور نہ ہی میرا کوئی طلاق دینے کا ارادہ تھا بس مجھے اپنے لفظ” میں نے طلاق دی ” بولنے کا علم تھا اس کے بعد والے کا نہیں ۔ مفتی صاحب اب ہم دوبارہ رجوع کرنا چاہتے ہیں برائے مہربانی رہنمائی کر دیں۔

بیوی کا بیان :

میں اپنے میکے رہنے کے لیے آئی ہوئی تھی بیٹی کی بیماری کی وجہ سے مجھے تقریبا 20 دن رکنا پڑا جب میرے شوہر مجھے لینے کے لیے آئے تو ان کی صبح کے وقت میری والدہ کے ساتھ کچھ تلخ کلامی ہوئی پھر شام کے وقت جب ہم واپس جانے لگے میں تیاری کر رہی تھی تو میرے شوہر نے مجھے آ کر کہا کہ “میں نے طلاق دی “میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھا کہ یہ کیا کہہ رہے ہو انہوں نے پھر بھی اس کے بعد طلاق طلاق کا لفظ چار سے پانچ بار کہا اور کہہ کر چلے گئے۔ میرے شوہرکو غصہ بہت زیادہ آتا ہے یہاں تک کہ وہ غصے میں دو مرتبہ 50 ہزار کا موبائل توڑ چکے ہیں لیکن جس وقت میرے شوہر نے مجھے طلاق کے الفاظ کہے وہ اتنے غصے میں نہیں تھے کہ بالکل اپنے ہوش و حواس ہی میں نہ ہوں بلکہ انہوں نےاپنے  ہوش و حواس میں ہی یہ الفاظ مجھے کہے ہیں۔

شوہر کے والد کا بیان :

میرے بیٹے کو غصہ کافی زیادہ آتا ہے دو مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اس نے شدید غصے میں 50،50 ہزار کے موبائل توڑے ہیں اور اکثر غصے میں بہت کچھ کہہ جاتا ہے پھر بعد میں معافی مانگتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ غصے میں کچھ الفاظ کہے ہوں اور بعد میں وہ اس کو یاد بھی نہ ہوں ۔

بیوی کے والد کا بیان :

میرا داماد میری بیٹی کو لینے کے لیے آیا تھا اور جس وقت انہوں نے جانا تھا میری بیٹی جانے کے لیے کپڑے بیگ میں ڈال رہی تھی اور میری اہلیہ ساتھ والے گھر میں ٹھنڈے پانی کا انتظام کرنے کے لیے گئی تاکہ یہ جاتے جاتے ٹھنڈا پانی پیتے جائیں میرا داماد میرے بیٹے کے ساتھ بیٹھا موبائل دیکھ رہا تھا پھر اچانک آیا اور میری بیٹی کو یہ طلاق کے الفاظ بول دیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں  طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور اس سے کوئی خلاف عادت قول یا فعل بھی سرزد نہیں ہوا۔ غصے کی ایسی کیفیت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ۔ نیز طلاق کے الفاظ میں اگرچہ بظاہر بیوی کی طرف اضافت نہیں پائی جا رہی لیکن معنیً اضافت پائی جا رہی ہے کیونکہ طلاق بیوی کو ہی دی جاتی ہے اور سوال میں سیاق و سباق سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے کہ شوہر نے طلاق کے الفاظ بیوی کو ہی بولے ہیں۔

رد المحتار (4/444) میں ہے:

ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اه. ………….. ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه………… وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف إلخ. فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف، والله أعلم

درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:

كرر لفظ الطلاق وقع الكل.

 (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

در مختار مع رد المحتار(439/4) میں ہے:

وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه (وبعد أسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved