- فتوی نمبر: 36-180
- تاریخ: 31 اگست 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
میں نے چار لاکھ کا ٹریکٹر خریدا ،جس سے خریدا اب وہ مجھے کہتا ہے کہ مجھے چار لاکھ پچاس ہزار کا دے دو تو کیا اب واپس ساڑے چار لاکھ کا بیچنا سود ہوگا؟ یا جائز ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: (۱) کیا آپ نے اس ٹریکٹر کی قیمت (4لاکھ روپے) بیچنےوالے کو ادا کردی ہے؟ (۲)بعد میں وہ واپس خریدے گا یہ پہلے طے تھا یا اب ویسے ہی وہ واپس مانگ رہا ہے؟
جواب وضاحت: (۱) قیمت ادا کردی تھی۔ (۲)پہلے سے طے نہیں تھا بعد میں اتفاقاً یہ صورت پیش آئی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جائز ہے، سود نہیں۔
توجیہ: مذکورہ مسئلہ کے ناجائز ہونے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں:
1۔ پہلی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ “شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن الاول” کی صورت ہو نے کی بنا پر ناجائز ہو۔
اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ مذکورہ صورت میں پہلے خریدار نے مکمل قیمت ادا کردی تھی نیز قیمت بھی پہلی قیمت سے زیادہ ہے اس لیے یہ شراء ما باع باقل مما باع کی صورت نہیں بنتی۔
2۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اصلا یہ معاملہ قرض کا ہو یعنی ٹریکٹر والے کو قرض چاہیے ہو اور قرض دینے والا نفع(سود) حاصل کرنا چاہ رہا ہو تو حیلہ کے طور پر ٹریکٹر کو درمیان میں واسطہ بنایا گیا ہو۔
اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ سائل نے وضاحت کردی ہے کہ پہلے سے طے نہیں تھا اتفاقا یہ صورت پیش آئی ہے لہذا یہ وجہ بھی ناجائز ہونے کی نہ ہوگی اور معاملہ جائز بنے گا ۔
شامی (7/268) میں ہے:
(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول ……… (فإن اختلف) جنس الثمن أو تعيب المبيع (جاز مطلقا) كما لو شراه بأزيد أو بعد النقد.
(قوله قبل نقد كل الثمن الأول) قيد به؛ لأن بعده لا فساد، ولا يجوز قبل النقد، وإن بقي درهم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved