• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نکاح کے وقت لڑکی سے اجازت لینے کے بارے میں مختلف سوالات

استفتاء

1۔نکاح کے وقت لڑکی سے اجازت لینا ضروری ہے ؟

2۔اجازت ولى اور غير ولى دونوں لے سکتے ہیں یا صرف ولی لے سکتا ہے؟

3۔ولی کون کون ہو سکتے ہیں؟

4۔لڑکی کی طرف سے اجازت خود سے کہنا ضروری ہے یا کسی عورت سے کہلوائے یا سر ہلائے ؟

5۔کیا اوڑھنی کو گرہ لگانے سے اجازت سمجھا جانا درست ہے؟

6۔اس اجازت پر گواہ ضروری ہیں ؟ اگر ہیں تو کتنے گواہ ضروری ہیں؟

7۔ اجازت محرم  اور غیر محرم دونوں لے سکتے ہیں یا صرف محرم لے سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ جی ہاں ضروری ہے ، عاقل بالغ لڑكى كا نكاح اس كى اجازت اور رضا مندى كے بغير جائز نہيں۔

2۔ولی اور غیر ولی دونوں لے سکتے ہیں۔

3۔”اگر لڑكى كى شادى  پہلے ہو چکی ہو اور اس کی اولادبھی ہو  تو لڑکی  کا ولی سب سے پہلے اس کا بیٹا  ہے پھر پوتا  ہے  اگر یہ نہ ہوں تو لڑکی کا باپ ولی  ہے اور کنواری لڑکی کا سب سے پہلا ولی باپ ہے،  اگر باپ نہ ہو تو دادا،  وہ نہ ہو تو پر دادا ، اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو سگا بھائی،  سگا بھائی نہ ہو تو سوتیلا یعنی باپ شریک بھائی، پھر بھتیجا، پھر بھتیجے کا لڑکا، پھربھتیجے کا پوتا یہ بھی نہ ہو تو سگا چچا پھر سوتیلا چچا یعنی باپ کا  باپ شریک بھائی پھر سگے چچا کا لڑکا پھر اس کا پوتا، پھر والد کے باپ شریک بھائی  کا لڑکا اور پوتا یہ کوئی نہ ہوں تو باپ کا چچاولی ہے پھر اس کی اولا داگر باپ کا چچا اور اس کے لڑکے پوتے پڑپوتے کوئی نہ ہوں تو دادا کا چچا پھر اس کے لڑکے پوتے پھر پڑپوتے وغیرہ یہ کوئی نہ ہوں تب ماں ولی ہے۔ پھر دادی پھر نانی پھر پرنانی پھر حقیقی بہن پھر سوتیلی بہن جو باپ شریک ہو۔ پھر جوبھائی بہن ماں شریک ہوں پھر پھو پھی پھر ماموں پھر خالہ پھر چچا کی بیٹیاں پھر پھوپھی کی بیٹیاں وغیرہ۔

4۔لڑکی اگر باکرہ  (کنواری) ہو اور اجازت ولی طلب کر  رہا ہوتو  لڑکی کے لیے خود زبان سے اجازت  دینا ضروری نہیں ہے  بلکہ کسی عورت سے کہلوانا یا”اثباتا” سر ہلانا بھی اجازت کے لیے کافی ہے،اور اگر ثیبہ (مطلقہ یا بیوہ)  ہویا باکرہ (کنواری)  تو ہو لیکن اجازت غیر ولی طلب کرے تو لڑکی کا زبان  سے بول کر اجازت دینا ضروری ہے۔

5۔اگر عرف ہو تو درست ہے ورنہ نہیں۔

6۔اجازت پر گواہ بنانا ضروری نہیں ہے، البتہ مستحب ہے۔لہٰذا اگر گواہ بنانا چاہیں تو دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہوں گی۔

7۔ دونوں لے سکتے ہیں۔

ہندیہ (1/ 287)میں ہے:

لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل.

الدرالمختار مع ردالمحتار (3/ 58)میں ہے:

ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو الفضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة (أو ضحكت غير مستهزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت) فلو بصوت لم يكن إذنا ولا ردا حتى لو رضيت بعده انعقد سراج وغيره، فما في الوقاية والملتقى فيه نظر (فهو إذن)

(قوله وهو السنة) بأن يقول لها قبل النكاح فلان يخطبك أو يذكرك فسكتت، وإن زوجها بغير استئمار فقد أخطأ السنة وتوقف على رضاها بحر عن المحيط.

الدرالمختار مع ردالمحتار (3/ 62)میں ہے:

(فإن استأذنها غير الأقرب) كأجنبي أو ولي بعيد (فلا) عبرة لسكوتها (بل لا بد من القول كالثيب) ………………. (أو ما هو في معناه) من فعل يدل على الرضا

ہندیہ (1/ 283)میں ہے:

تثبت الولاية بأسباب أربعة بالقرابة والولاء والإمامة والملك، كذا في البحر الرائق. وأقرب الأولياء إلى المرأة الابن ثم ابن الابن، وإن سفل ثم الأب ثم الجد أبو الأب، وإن علا، كذا في المحيط۔ ثم الأخ لأب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم ثم ابن الأخ لأب، وإن سفلوا ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم ثم ابن العم لأب، وإن سفلوا ثم عم الأب لأب وأم ثم عم الأب لأب ثم بنوهما على هذا الترتيب ثم عم الجد لأب وأم ثم عم الجد لأب ثم بنوهما على هذا الترتيب ثم رجل هو أبعد العصبات إلى المرأة وهو ابن عم بعيد…………… وعند عدم العصبة كل قريب  ………….. الأم ثم البنت ثم بنت الابن ثم بنت البنت ثم بنت ابن الابن ثم بنت بنت البنت ثم الأخت لأب وأم ثم الأخت لأب ثم الأخ والأخت لأم ثم أولادهم هكذا في فتاوى قاضي خان.

وبعد أولاد الأخوات العمات ثم الأخوال ثم الخالات ثم بنات الأعمام ثم بنات العمات۔

ہندیہ (1/ 294)میں ہے:

يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانية ناقلا عن خواهر زاده

شرح مختصر الكرخی (3/ 456)میں ہے:

وقد قال أصحابنا: إن التوكيل بالنكاح لا يفتقر إلى الشهادة

شامی  (3/ 21)میں ہے:

وأما الكتابة ففي عتق المحيط يستحب أن يكتب للعتق كتابا ويشهد عليه صيانة عن التجاحد كما في المداينة بخلاف سائر التجارات للحرج؛ لأنها مما يكثر وقوعها له وينبغي أن يكون النكاح كالعتق؛ لأنه لا حرج فيه

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved