• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حدیث رکانہؓ سے غیر مقلدین کاتین طلاق کے ایک ہونے پر استدلال اور اس کا جواب

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

(1) طلاق کے مسئلے میں غیر مقلدین عام طور  پر حدیث رکانہ ؓ     پیش کرتے ہیں جس میں آپ ﷺ  نے ان سے پوچھا کہ تم نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دی ہیں تو جواب میں عرض کیا جی ہاں تو آپ ﷺ نے  ایک طلاق کے نفاذ کا اعلان فرمادیا تو احناف اس حدیث کا کیا جواب دیتے ہیں مطلع فرمائیں  ۔

(2) نیز یہ بتائیں کہ ایک شخص صراحتاً  تین طلاقیں دے  پھر حلف اٹھانے پر رضامند ہو کہ میری مراد تین نہیں تھیں تو کیا از روئے شریعت اس کی قسم تسلیم کی جائے گی یا نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ حضرت رکانہؓ کی  حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے پر استدلال درست نہیں   اس لیے کہ یہ حدیث دو طرح سے مروی ہے  مسند احمد  میں ہے کہ حضرت رکانہ ؓنے تین طلاقیں دی تھیں  اور سنن ابی داؤد  میں ہے کہ  انہوں نے طلاق بتہ دی تھی ۔ اس بارے میں محدثین کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ حضرت رکانہ  ؓ نے طلاق بتہ دی تھی ۔طلاق بتہ میں  ایک طلاق یا تین طلاق کی نیت کی گنجائش ہوتی ہے اور اس کا مدار طلاق دینے والے کی نیت پر ہوتا ہے ۔ اسی  وجہ سے   رسول اللہ ﷺ نے  حضرت رکانہؓ سے اس بارے میں قسم بھی لی کہ ان کی نیت صرف  ایک ہی طلاق  دینے کی تھی ۔ امام ابوداؤد  ؒ  فرماتے ہیں  ” هذا اصح من حديث ابن جريج ان ركانة  طلق امراته ثلاثا  لأنهم أهل بيته وهم أعلم به”  یعنی جس حدیث میں ہے کہ حضرت رکانہ ؓ نے طلاق بتہ دی  تھی وہ  اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے  جس میں ہے کہ  حضرت رکانہ ؓ نے  تین طلاقیں دی تھیں  کیونکہ طلاق بتہ والی بات ان کے گھر والے روایت کررہے ہیں اور  طلاق  جیسے  گھر یلو  معاملہ  کو گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں  ۔ لہٰذا  جب  صحیح بات یہی ہے کہ  انہوں نے تین طلاقیں دی ہی نہیں تھیں  تو اس حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے پر استدلال درست نہیں۔

(2) قاضی (عدالت) اور بیوی کے ہاں اس کی قسم تسلیم نہیں کی جائے گی یعنی عدالت اور بیوی  اس کی قسم کے باوجود تین طلاقیں ہی سمجھے گی۔

شرح النووی على مسلم (10/ 71) میں ہے:

«واحتجوا أيضا بحديث ركانة أنه طلق امرأته ألبتة فقال له النبي صلى الله عليه وسلم ما أردت إلا واحدة قال الله ما أردت إلا واحدة فهذا دليل على أنه لو أراد الثلاث لوقعن وإلا فلم يكن لتحليفه معنى وأما الرواية التي رواها المخالفون أن ركانة طلق ثلاثا فجعلها واحدة فرواية ضعيفة عن قوم مجهولين ‌وإنما ‌الصحيح ‌منها ما قدمناه أنه طلقها ألبتة ولفظ ألبتة محتمل للواحدة وللثلاث ولعل صاحب هذه الرواية الضعيفة اعتقد أن لفظ ألبتة يقتضي الثلاث فرواه بالمعنى الذي فهمه وغلط في ذلك»

سنن ابی داؤد( رقم الحديث 2208) میں ہے  :

عن نافع بن عجير بن عبد يزيد بن ركانة أن ركانة بن عبد يزيد طلق امرأته سهيمة البتة، فأخبر النبي صلى الله عليه وسلم بذلك، وقال: والله ما أردت إلا واحدة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “والله ما أردت إلا واحدة؟ ” فقال ركانة: والله ما أردت إلا واحدة، فردها إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فطلقها الثانية في زمان عمر، والثالثة في زمان عثمان. ….

قال أبو داود: وهذا أصح من حديث ابن جريج: أن ركانة طلق امرأته ثلاثا، لأنهم أهل بيته وهم أعلم به، وحديث ابن جريج رواه عن بعض بني أبي رافع، عن عكرمة، عن ابن عباس.

شامی (4/509) میں ہے :

كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء ۔

درمختارمع ردالمحتار(4/443)میں ہے:

(صريحه مالم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية ( كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)………  ……… (ويقع بها) أى: بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح………. (واحدة رجعية، وإن نوى خلافها)…….. (أو لم ينو شيئا)

وفي الشامية تحت قوله: (أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية.

صحیح بخاری (2/792) میں ہے :

باب: من قال لامرأته: أنت علي حرام…….وقال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

ترجمہ :  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے تین طلاقیں دی ہوں تو وہ فرماتے کہ اگر تم  ایک یا دو طلاقیں   دے دیتے ( تو پھر وہ حلال ہو سکتی  تھی ) کیونکہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا تھا ۔ اگر  تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں  تو پھر وہ حرام ہوگئی  ہے جب تک کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔

صحیح مسلم ( رقم الحدیث : 3656)  میں ہے :

عن نافع؛ أن ابن عمر  ……..وأما أنت طلقتها ثلاثا. فقد ‌عصيت ‌ربك فيما أمرك به من طلاق امرأتك. وبانت منك.

ترجمہ : نافع  رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (اکٹھی تین طلاق دینے والے سے )فرمایا تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی )تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (یعنی بتایا ہوا طریقہ ہے) اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے طلاق مغلظ کے ساتھ جدا ہو گئی ۔

سنن ابی  داؤد( رقم الحدیث: 2197 ) میں ہے:

عن مجاهد قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما فجاءه رجل فقال: انه طلق امراته ثلاثا. قال: فسكت حتى ظننت انه رادها اليه.

 ثم قال: ينطلق احدكم فيركب الحموقة  ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وان الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا ) وانك لم تتق الله فلا اجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امراتك

 ترجمہ :’’مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص  ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو(اکٹھی)  تین طلاقیں دے دی  ہیں تو (کیا گنجائش ہے اس پر) عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر ) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے پھر انہوں نے فرمایا تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں  دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اےابن عباس اےابن عباس (کوئی راہ نکالیئے کی دہائی دینے لگتا ہے ) حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ومن یتق الله یجعل له  مخرجا(جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں۔)‘‘

تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا  (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ  کی بات ہے) تو میں تمہارے لئے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تین طلاقیں دے کر) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved