- فتوی نمبر: 36-188
- تاریخ: 01 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > متفرقات خاندانی معاملات
استفتاء
کسی شخص پر چوری کا محض شک ہونے کی صورت میں شرعی طور پر قسم لینے اور اس کے انکار کرنے کا حکم بتاديں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کسی شخص پر چوری کا محض شک ہونے کی صورت میں اس سے قسم لی جا سکتی ہے تاہم اگر وہ قسم نہ دے تو اسے قسم دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور انکار کی صورت میں مدعی کا دعویٰ ثابت نہ ہوگا اس لیے کہ دعویٰ میں ایک تو جزم اور یقین ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں دعویٰ جزم اور یقین کیساتھ نہیں پایا جارہا بلکہ محض شک ہے لہٰذا جب دعویٰ کا تحقق نہیں تو مدعی علیہ پر قسم دینا لازم نہیں اور دوسرے مدعی علیہ پر قسم اس وقت لازم ہوتی ہے جب دعویٰ حاکم یا مُحکم کے سامنے ہو۔
المحیط البرہانی (8/160) میں ہے:
الدعاوى نوعان: صحيحة وفاسدة، فالاستحلاف إنما يجري في الصحيحة منهما لا في الفاسدة، وإذا ادعى المدعي عند القاضي دعوى فعلى القاضي أن ينظر فيه، فإن كان فاسداً لا يلتفت إليه، وأمر المدعي بالكف عنه، وإن كان صحيحاً سمعه وأقبل على المدعى عليه
دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام (4/174) میں ہے:
يشترط في الدعوى، وقوع طلب الحق بلفظ يدل على الجزم واليقين. فلذلك لو ادعى أحد قائلا: إنني أظن، أو أشتبه بأن لي في ذمة هذا الرجل كذا درهما، أو يجب أن يكون لي في ذمته كذا دراهم لا تصح بل يجب عليه أن يبين بأنه يطلب له منه يقينا كذا مبلغا .
کفایت المفتی (5/239) میں ہے:
سوال: ایک شخص کو اپنی بی بی پر شک ہے کہ کسی غیر شخص سے زنا کیا ہے، مرد چاہتا ہے کہ بی بی کو حلف دے، بی بی حلف لینے کے لیے تیار ہے۔ مرد کا شک بغیر حلف کے دور نہیں ہو سکتا، کیا حلف دینا درست ہے؟
جواب: اس صورت میں مرد کو اپنے اطمینان کے لیے بی بی سے حلف لے لینے کا مضائقہ نہیں، قضاءً بی بی پر حلف لازم نہ ہونا دوسری بات ہے۔ ہاں مرد کو یہ لازم ہے کہ اگر بی بی حلف سے انکار کر دے تو محض اس وجہ سے اس پر ملوث بالزنا ہونے کا یقین نہ کرے۔
امداد المفتین (2/746) میں ہے:
سوال: چار آدمی اپنے وطن سے سفر کی غرض سے نکلے۔ اثناء سفر میں ان چاروں میں سے ایک کے بیس روپیہ چوری ہو گئے۔ صاحبِ مال کو اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایک پر شبہ ہوا اور شبہ کی بنیاد پر اس نے دعویٰ کر دیا۔ لیکن مدعی چونکہ بینہ سے عاجز تھا اور مدعا علیہ اس کے دعوے کا منکر تھا، اس لیے «البینة علی المدعی والیمین علی من أنکر» کے ماتحت مدعا علیہ سے قسم طلب کی گئی۔ اس صورت میں کیا مدعا علیہ کو قسم کھانی چاہیے یا نہیں؟ اور حدیث مذکور کا حکم عام ہے، یعنی ہر صورت میں یہی حکم ہوگا، یا حدیث مذکور کا حکم کسی خاص صورت کے لیے اور کوئی خارجی شرط بھی ہے؟
جواب: اگر مدعی علیہ سچا ہے تو اس کو قسم کھانی جائز ہے، لیکن اس کے ذمہ ضروری اور واجب اس وقت تک نہیں جب تک کہ کسی حاکمِ مسلم کی طرف سے مرافعہ نہ ہو۔ مدعی از خود اس کو قسم کھانے پر مجبور نہیں کر سکتا اور درصورتِ انکار از حلف جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ البتہ اگر مقدمہ حاکم کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے حلف سے انکار کرے تو یہ شخص جھوٹا قرار پائے گا اور دعویٰ اس پر ثابت ہو جائے گا۔
الغرض، اس صورتِ مذکورہ میں چونکہ مدعی جزم کے ساتھ دعویٰ نہیں کرتا، محض شبہ ظاہر کرتا ہے، لہٰذا اس کے خصم پر حلف اٹھانا ضروری نہیں۔
امداد الفتاویٰ (5/513) میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہےکہ مکان سے مبلغ ۴۳ روپیہ نقد چوری ہوگئے اور میرا گمان ہے کہ بکر لے گیا۔ بکر صاف منکر ہے کہ میں نے یہ روپیہ نہیں چرایا، زید کی خواہش ہے کہ بکر دو چار آدمیوں کے سامنے یہ کہدے کہ اگر میں نے یہ روپیہ چرایا ہو تو میری بیوی پر تین طلاق کسی حاکم یا زید کو ایسی قسم یا اقرار بکر سے لینا جائز ہے یا نہیں جبکہ بکر مسجد میں کھڑا ہو کر تین مرتبہ یہ کہنے کو تیار ہو کہ خدا کی قسم زید کا روپیہ میں نے نہیں چرایا اور نہ مجھے اس کا کوئی علم ہے ایسی حالت میں حاکم اور زید پر اس کا یقین کرلینا ضروری ہوگا یا نہیں ؟
الجواب: اس مسئلہ میں دو مقام پر اختلاف ہے۔ ایک یہ کہ حلف بالطلاق کا حق مدعی کو ہے یا نہیں ایک قول اکثر کا یہ ہے کہ یہ حق نہیں اور اصل مذہب یہی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اس زمانہ میں اس کا حق ہے بعض نے دونوں قولوں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ یہ حاکم کی رائے پر ہے اگر وہ ضرورت سمجھے تو ایسا حلف لے لے۔
دوسرا اختلاف یہ ہے کہ اگر ایسا حلف لیا جاوے مگر مدعی علیہ انکار کرے تو آیا حاکم مدعی کا دعویٰ ثابت کردے جیسا کہ قسم سے انکار کرنے کا یہی حکم ہے یا یہ کہ پھر خدا کی قسم لی جائے۔ ا س میں بھی دو قول ہیں ۔ احقر کی رائے یہ ہے کہ اختلاف اول میں دوسرا قول لیا جائے کہ مدعی کو اُس کا حق ہو اور اختلاف ثانی میں بھی دوسرا قول لیا جاوے کہ اس انکار سے مدعی کا دعویٰ ثابت نہ کیا جاوے بلکہ صرف خدا کی قسم لے لی جائے، پھر فائدہ اس حلف لینے کا یہ ہوگا کہ شاید کاذب ہونے کی صورت میں ڈر کر حق کا اقرار کرلے۔
والدلیل علي هذا المجموع هذه الروایات۔ والیمین بالله تعالیٰ لابطلاق ولاعتاق وإن ألحّ الخصم، وعليه الفتوى تاتارخانية، وقیل إن مست الضرورة فوّض إلی القاضي اتباعا للبعض فلو حلفه القاضي به فنکل فقضی عليه بالمال لم ینفذ قضاءه على قول الأكثر کذا في خزانة المفتین وظاهره أنه مفرع على قول الأكثر إما على القول بالتحلیف بهما فیعتبر نکوله ویقضی به وإلا فلا فائدة، بحر. واعتمده المصنف قوله وإلا فلا فائدة تظهر فائدته فیما إذا کان جاهلا بعدم اعتبار نكوله فإذا طلب حلفه به بما یمتنع و یقر بالمدعی. درر البحار کذا في الدر المختار ورد المحتار
تتمۂ جواب بالا: بعدتحریر جواب بالا ایک دوست کے متوجہ کرنے سے تین امر اور ذہن میں آئے ایک یہ کہ یہ جواب اُس وقت ہے جبکہ زید کے قول کو دعویٰ کہاجاوے لیکن واقع میں وہ شرعاً دعویٰ نہیں کیونکہ دعوے کا صیغہ وہ ہے جس میں جزم و تحقیق ہو اور یہاں محض گمان کی خبر ہے۔
في رد المحتار: عن البحر: لم أراشتراط لفظ مخصوص للدعوى وینبغی اشتراط مایدل علی الجزم والتحقیق، فلو قال أشک أو أظن لم تصح الدعوى.
اس لیے صورت مسئولہ میں زید کو بکر سے کسی قسم کے حلف کا بھی حق نہیں ۔
امر دوم یہ کہ یہ جواب اُس صورت میں ہے کہ جب دعویٰ حاکم کے اجلاس میں یا کم از کم جس کو فریقین برضامندی حکم یعنی پنچ بنالیں ورنہ زید کو بکر سے دعوی جازمہ کے بعد بھی حلف لینے کا حق نہیں۔
في الدرالمختار: وشرطها أي شرط جواز الدعویٰ مجلس القضاء.
امر سوم ایک شبہ کا جواب ہے کہ نکول سے سرقہ ثابت نہیں ہوتا پھر حلف سے کیا فائدہ؟
جواب یہ ہے کہ قطع کے حق میں نکول حجۃ نہیں ضمان کے حق میں حجۃ ہے۔
في الدرالمختار: وکذا یستحلف السارق لأجل مال، فإن نکل ضمن ولم یقطع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved