- فتوی نمبر: 36-199
- تاریخ: 20 ستمبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چھوٹی عید کے بعد میں نے قرآن کی کلاس کیلئے 18000 وظیفہ پر ایک قاری صاحب کو رکھا اور اس کے ساتھ زبانی طور پر بات پکی کی کہ بغیر کسی بڑی مجبوری کے درمیان سال میں چھٹی نہیں کرنی ۔قاری صاحب کو ابھی دو ماہ ہوئے تھے کہ تیسرے ماہ میں بقرہ عید کی چھٹیاں ہوگئیں، چھٹیوں کے بعد تقریبا وہ 10 دن مدرسہ میں آتے رہے ، پھر کسی دوسرے مدرسہ میں ان کی جگہ بن گئی جو 30 ہزار تنخواہ دے رہے تھے تو قاری صاحب نے کہا میرے گھر کا گزارہ 18000 میں نہیں چلتا لہٰذا میں دوسرے مدرسہ میں جاتا ہوں اور وہ چلے گئے۔
قاری صاحب نے تیسرے ماہ کے 16 دن مدرسہ میں لگائے ان 16 دنوں میں 7 دن بقرہ عید کی چھٹیاں تھیں تو مہتمم مدرسہ نے چھٹیوں والے 7 دن کی تنخواہ کاٹ کر باقی ایام کی تنخواہ دے دی اب قاری صاحب کہہ رہے ہیں کہ پورے 16 دن کی تنخواہ دو جبکہ مہتمم صاحب کہہ رہے ہیں سال پورا نہیں کیا لہٰذا میں چھٹیوں کی تنخواہ نہیں دوں گا۔اس بارے شریعت کیا کہتی ہے؟
قاری صاحب کا موقف :
میری جب مہتمم صاحب سے شروع میں بات ہوئی تھی تب ہی یہ بات ہوئی تھی کہ اگر کوئی مجبوری پیش نہ آئی تو میں سال پورا کروں گا اور اگر کوئی مجبوری پیش آئی تو مجھے چھوڑنے کا اختیار ہوگا اور میری چھوڑنے کی وجہ یہ بنی کہ جب میری تقرری ہوئی تو میں والدین کے ساتھ تھا لیکن تقرری کے بعد والدین نے مجھے الگ کردیا کہ تمہاری تنخواہ کم ہے جس سے گذارا نہیں ہوتا لہذا تم اپنا بندوبست خود کرو میرے اوپر قرض بھی تھا جس کی وجہ سے مجھے مشکل پیش آ رہی تھی اور جب مجھے دوسری جگہ ملی تب میں نے باقاعدہ مہتمم صاحب سے یہ بات کی کہ مجھے اس طرح جگہ مل رہی ہے مجھے یہاں مشکل پیش آرہی ہے اور میرے لیے ان حالات میں یہاں یکسوئی سے پڑھانا مشکل ہوگا لہذا اگر آپ خوشی سے اجازت دے دیں تو میں اس دوسری جگہ چلا جاتا ہوں اور اگر اجازت نہ دیں تو میں سال پورا کروں گا تو انہوں نے کہا تم میرے بھائی کو یہاں پڑھانے کے لیے تیار کر لو تو تمہیں خوشی سے اجازت ہے اس پر میں نے بھائی سے بات کی تو وہ تیار ہوگیا اس کے بعد میں نے مدرسہ چھوڑا ۔
مہتمم صاحب کا مؤقف:
مفتی صاحب یہ جو بات کر رہے ہیں کہ میں نے اس طرح کہا تھا کہ “اگر کوئی مجبوری ہوگی تو مجھے چھوڑنے کا اختیار ہوگا ” ایسی کوئی بات نہیں ، جب میں اس کو رکھنے لگا تھا تو میں نے اس سے کہا تھا کہ” بغیر کسی بڑی مجبوری کے آپ نے چھٹی نہیں کرنی ” نیز اب بڑی مجبوری کیا ہے کہ گھر کا گزارا نہیں چل رہا کیا یہ کوئی بڑی مجبوری ہے؟ اور ادھر 18 ہزار تنخواہ ہے اور دوسری جگہ 30 ہزار مل رہی ہے یہ اس کی بڑی مجبوری تھی ۔ اور یہ کہ قاری صاحب والدین کے ساتھ رہتے تھے والدین نے علیحدہ کر دیا اب ہمارے گزارا نہیں چل رہا تو یہ پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ 18 ہزار روپے میں آ رہا ہوں تو گھر کا گزارا کیسے چلے گا اس کا یہ مطلب نہیں کہ درمیان سال کوئی اور اچھی پیسوں والی جگہ مل جائے ادھر چلا جائے اور یہ جو آخر میں قاری صاحب نے بات کی ہے کہ مہتمم صاحب نے کہا تھا کہ اگر میرے بھائی کو پڑھانے کے لیے تیار کردو تو میں آپ کو خوشی سے اجازت دیتا ہوں ،میں تو قاری صاحب سے کہہ رہا تھا کہ آپ یہ مہینہ پورا کرلو 15 دن مزید ٹھہر جاؤ پھر میں کوئی دوسرا استاد ڈھونڈتا ہوں تو انہوں نے کہا نہیں ، ابھی اجازت دو ، پھر میں نے ان کو کہا کہ چلو اس صورت میں میں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ میرا ایک بھائی کراچی میں تجوید پڑھتا ہے اگر وہ ادھر پڑھانے آجائے تو پھر آپ چلے جانا ، اس نے میرے بھائی سے بات کی اس نے کہا ٹھیک ہے میں آجاؤں گا ،وہ چلا گیا لیکن مجھے ایک دوسرے قاری صاحب رکھنے پڑے اور بھائی کو تیار کرنے کی بات میں نے اس لیے کہی تھی کہ قاری صاحب کہہ رہے تھے کہ اگر میں یہاں رہوں گا تو میرا ذہن منتشر ہوگا ،میں پڑھا نہیں سکوں گا تو اپ نے مجھے کچھ کہنا یا پوچھنا نہیں ہے تو پھر میں نے اس کو کہا کہ جب آپ نے پڑھانا ہی نہیں ہے یا میں آپ سے کچھ پوچھوں بھی نہیں اور آپ کا ذہن بھی منتشر رہے گا تو پھر آپ میرے بھائی سے بات کر لو اگر وہ پڑھانا چاہتا ہے تو پھر خوشی سے چلے جانا اب اس معاملہ میں ، میں مجبور ہو گیا تھا کہ ایک بندے کو میں نے رکھا ہوا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ میرا ذہن منتشر ہوگا ، پڑھائی کی طرف توجہ نہیں ہوگی لہٰذا اگر میں پڑھائی نہ دے سکوں یا لیٹ آؤں اور پڑھائی پرتوجہ نہ دوں تو آپ نے کچھ نہیں کہنا تو ایسی صورتحال میں ، میں اس سے کیا کہتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں قاری صاحب چھٹیوں کی تنخواہ کے مستحق ہیں۔
توجیہ: چھٹیوں کی تنخواہ کا استحقاق اس وقت ہوتا ہے جب چھٹیوں کے بعد بھی ملازم کام کے لیے تیار ہو اور کسی خاص مجبوری کے بغیر مدرسے کو نہ چھوڑے ۔مذکورہ صورت میں چھٹیوں کے بعد قاری صاحب نے چند دن پڑھایا ہے اور چھوڑنا بھی کسی درجے میں مجبوری کی وجہ سے تھا ۔ نیز ایک درجے میں اس چھوڑنے میں باہمی رضامندی بھی پائی جارہی ہے لہٰذا قاری صاحب چھٹیوں کی تنخواہ کے مستحق ہوں گے۔
امداد الفتاویٰ (7/314) میں ہے:
سوال: عربی مدارس میں رمضان شریف کی تعطیل ہوتی ہے تو اس کی تنخواہ کا بلا معاوضہ کام ہونا تو ظاہر ہے باقی وقت بھی مدرس اپنا وقت مدرسہ میں محبوس نہیں رکھتا کہ اس کی وجہ سے لے سکے اب لینا اس کو کیسے درست ہے اگر مدرسہ کے مہتمم کسی مدرس کو شعبان کی ۲۹ تاریخ کو مدرسہ کی ملازمت سے علیحدہ کردے تو یہ مدرس رمضان کی تنخواہ کا مستحق ہے یا نہیں ؟مدرس مدرسہ میں بحال رہتے ہوئے رمضان کی تعطیل میں رمضان کی تنخواہ کا کب مستحق ہوگا جب سب رمضان ختم ہوجائے یا ختم شعبان پر؟
الجواب:تنخواہ تو ایامِ عمل ہی کی ہے مگر تعطیل کا زمانہ تبعاً ایامِ عمل کے ساتھ ملحق ہے تاکہ استراحت کرکے ایامِ عمل میں عمل کرسکے اس سے سب اجزا کا جواب نکل آیا، اول کا یہ حکماً بلا معاوضہ کام کے نہیں ، دوسرے کا یہ کہ شعبان کے ختم پر معزول ہوجانے سے تنخواہ نہ ملے گی اور عدم عزل میں رمضان کے ختم پر تنخواہ ملے گی بشرطیکہ شوال میں بھی کام کیا ہو۔
فتاویٰ خلیلیہ (1/244) میں ہے:
الجواب الثالث از مولانا حافظ محمد احمد صاحب مہتم مدرسہ دارالعلوم دیوبند :
مکر می جناب مولا نا عبد الرشید صاحب دام مجد کم، بعد سلام مسنون آنکہ عنایت نامہ پہنچا ( ماه رمضان المبارک کی تنخواہ کا استحقاق بر وقت حاضری ماہ شوال مقصود ہے) کا یہ مطلب ہے کہ جس مدرس کو رمضان المبارک میں تعطیل دی جائے اگر وہ مدرس شوال میں ملازمت کی حیثیت سے اور تعلیم دینے کی غرض سے مدرسہ میں حاضر ہوا، اس وقت رمضان کی تنخواہ کا مستحق ہے اور ماہ رمضان کی تنخواہ اس حالت میں مدرسہ پر واجب ہو گی ، اور اگر رمضان کے بعد شوال میں صرف تنخواہ لینے کی غرض سے مدرس حاضر ہوا اور اس کا علم منتظمان مدرسہ کو ہو جائے کہ اس کی غرض صرف تنخواہ لے کر مدرسہ سے علیحدہ ہو جانے کی ہے اس صورت میں تنخواہ کا استحقاق نہیں ہے ایسی صورت میں تنخواہ دینانہ از روئے قوانین درسہ درست ہے اور نہ شرع شریف میں یہ جائز ہے ، البتہ اگر شوال میں بغرض تعلیم آنے کے بعد ایسا عذر پیش آجائے کہ جس کی وجہ سے اہل مدرسه خود علیحدہ کر دیں یا مدرس خود ملازمت ترک کرے ایسی حالت میں ماہ رمضان المبارک کی تنخواہ ادا کرنی ہو گی اور مدرس کو تنخواہ لینے کا کلی استحقاق ہے، تنخواہ سے غیر مستحق ہونے کی وجہ وہی ہے کہ شوال میں صرف اس ارادے سے حاضر ہو کہ تنخواہ لے کر علیحدگی اختیار کرلے ، اور در صورت خلاف تنخواه ماه رمضان المبارک کا پورا استحقاق ہے، یہ قاعدہ اکثر مدارس اسلامیہ خصوصاً دار العلوم دیو بند میں رائج ہے …………….
( محاکمہ بر جوابات مذکورہ بالا) از ر أس المتکلمین و فخر المحدثین حضرت اقدس مولانا الشاہ خلیل احمد صاحب مد ظلہم صدر المدرسین مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور :
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، میری رائے یہ ہے کہ مدرسین کا معاملہ مدرسہ کے ساتھ عقد اجارہ ہے، اور مدرسین اجیر خاص ہیں کیونکہ وقت کے پابند ہیں، تعطیل کا زمانہ ملازمت کا زمانہ ہے کہ اس میں عقد اجارہ باقی ہے وہ عقد قطع نہیں ہوا، مگر تنخواہ کے متعلق چونکہ ایک شرط لگی ہوئی ہے کہ رمضان المبارک کی تنخواہ کا استحقاق اس وقت ہو گا جبکہ ابتدائے شوال میں حاضر ہوں، شرعا شرط خلاف مقتضاء عقد، اجارہ کے لئے مفسد ہوتی ہے لہذا یہ عقد اجارہ فاسد ہوا، اور فساد عقد کی صورت میں اجیر مستحق اجر مسمی نہیں ہو تا بلکہ اجر مثل کا مستحق ہوتا ہے لہٰذا صورت موجودہ میں وہ مدرس تنخواہ کا مستحق نہ ہو گا بلکہ اجر مثل کا مستحق ہو گا اور اگر اسکو شرط فی العقد نہ قرار دیا جائے بلکہ خارج عقد کہا جائے یا شرط معروف قرار دی جائے تو ان سب صورتوں میں مدرس واقعہ متنازع فیہ میں پوری تنخواہ کا مستحق ہو گا، اور احتمالات اور اختلاف حکم صرف رمضان المبارک (میں) ہے اور ایام شوال میں جب مدرس اپنے کار منصبی پر مامور ہے تو اپنی تنخواہ کا ضرور مستحق ہو گا۔ فقط خلیل احمد عفی عنہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved