- فتوی نمبر: 36-206
- تاریخ: 20 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
شوہر بار بار بغير كسی بات کے لڑائی کرے اور اپنی بیوی کو کہے کہ “نکل جاؤ اس گھر سے “اور بار بار کہے کہ “جب میں سب ختم کر دونگا تو اس گھر میں رہنے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی ” اور وہ بیوی کا احساس بھی نہیں کرتا ایسا کوئی دن نہیں گزرتا کہ وہ اپنی بیوی کو نہ رلائے اور وہ بیوی کے گھر والوں کی عزت بھی نہیں کرتالیکن شوہر بار بار یہ کہتا ہے کہ “میں تجھے فارغ کرونگا “، “نکل جاؤ اس گھر سے اپنا سامان اٹھاؤ اور نکلو اس گھر سے ” بیوی منتیں کرتی رہتی ہے وہ نہیں سنتا لیکن بعد میں معافی مانگتا ہے اور پیار بھی بہت کرتا ہے، ہر دوسرے دن کا یہ تماشہ ہے لیکن اس کی نیت طلاق کی نہیں ہوتی ۔ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر شوہر بیوی کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر یہ کہدے کہ اس کی مذکورہ الفاظ” نکل جاؤ اس گھر سے ، نکل جاؤ اس گھر سے اپنا سامان اٹھاؤ اور نکلو اس گھر سے” سے طلاق کی نیت نہیں تھی تو مذکورہ الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور اگر وہ قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی اپنے حق میں ایک بائنہ طلاق سمجھے گی اور بائنہ طلاق سے نکاح ختم ہو جاتا ہے تاہم گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
توجیہ: شوہر نے مذکورہ صورت میں چار طرح کے الفاظ بولے ہیں “نکل جاؤ اس گھر سے “،”جب میں سب ختم کر دوں گا “،”میں تجھے فارغ کروں گا “، “نکل جاؤ اس گھر سے اپنا سامان اٹھاؤ اور نکلو اس گھر سے”پہلے اور چوتھے جملے میں شوہر نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ الفاظ کنایات طلاق کی پہلی قسم میں سے ہیں جن میں طلاق کے معنی کا بھی احتمال پایا جاتا ہے اور طلاق کے مطالبہ کو مسترد کرنے کے معنی کا بھی احتمال پایا جاتا ہے اور ان( پہلی قسم ) کے الفاظ کا حکم یہ ہے کہ یہ الفاظ جس حالت میں بھی بولے جائیں شوہر کی نیت کا اعتبار کیا جاتا ہے تاہم طلاق کی نیت نہ ہونے پر شوہر کو بیوی کے سامنے قسم بھی دینی پڑتی ہے اور اگر شوہر قسم سے انکار کرے تو بیوی اپنے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار کرنے کی پابند ہوتی ہے ۔ مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر کی طلاق دینے کی نیت نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی تاہم طلاق کی نیت نہ ہونے پر شوہر کو بیوی کے سامنے قسم دینی ہوگی اگر وہ قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی اپنے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار کرے گی اور دوسرے اور تیسرے جملے میں شوہر نے مستقبل کے الفاظ بولے ہیں اور صیغہ استقبال سے طلاق واقع نہیں ہوتی لہذا دوسرے اور تیسرے جملے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
ہندیہ (1/374) میں ہے:
ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب
شامی (4/521) میں ہے:
والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى
العقود الدریہ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ (1/38)میں ہے:
صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام
ہندیہ (1/384) میں ہے:
بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال
فتاوی دار العلوم دیوبند (9/414)میں ہے
سوال: زید نے اپنی زوجہ سے یہ کہا کہ تو میرے گھر سے نکل جا مجھے تجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے،چنانچہ زید کی زوجہ کو نکلے ہوئے عرصہ دو سال کا ہوا اور بکر کے گھر میں ہے اور اس سے ہم صحبت ہو چکی ہے تو زید کے نکاح میں رہی یا نہیں؟
جواب: اگر الفاظ مذکورہ میں نیت طلاق کی شوہر نے کی ہے تو طلاق بائنہ واقع ہوئی ورنہ نہیں۔بلا طلاق اگر زوجہ زید بکر کے گھر رہی اور زنا کیا ہے تو زید کا نکاح نہیں ٹوٹا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved