- فتوی نمبر: 36-208
- تاریخ: 20 ستمبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
امام غزالیؒ کا اصل نام تو ابو حامد تھا پھر انہیں غزالی کیوں کہتے ہیں؟ اور غزالی کا اصل مطلب کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
امام غزالی کا اصل نام ابو حامد نہیں یہ تو ان کی کنیت ہے، ان کا اصل نام ’’محمد‘‘ ہے اور انہیں غزالی کہنے میں مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ ان کا تعلق طوس کے علاقے میں ایک قصبہ ’’غزالہ‘‘ سے تھا اس قصبے کی طرف نسبت کی وجہ سے غزالی کہلاتے ہیں۔
الاعلام للزرکلی (8/22) میں ہے:
الغَزالي
(450 – 505 هـ = 1058 – 1111 م)
محمد بن محمد بن محمد الغَزَالي الطوسي، أبو حامد، حجة الإسلام: فيلسوف، متصوف، له نحو مئتى مصنف. مولده ووفاته في الطابران (قصبة طوس، بخراسان) رحل إلى نيسابور ثم إلى بغداد فالحجاز فبلاد الشام فمصر، وعاد إلى بلدته. نسبته إلى صناعة الغزل (عند من يقوله بتشديد الزاي) أو إلى غَزَالة (من قرى طوس) لمن قال بالتخفيف
طبقات الشافعیہ (1/193) میں ہے:
وكان والده يغزل الصوف ويبيعه في دكانه بطوس
معانی الاخیار فی شرح اسامی رجال معانی الآثار ، للعینی (3/436) میں ہے:
الغزالى: اشتهر به ……….. قال ابن خلكان: الغزالى نسبة إلى الغزال على عادة أهل خوارزم وجرجان، فإنهم ينسبون إلى القصار القصارى. وإلى العطار العطارى وقيل: إن الزاى مخففة نسبته إلى غزالة قرية من قرى طوس
امداد الفتاویٰ(1/95)میں ہے:
الامام الغزالی450-505ھ
امام غزالی، کنیت ابو حامد، لقب حجۃ الاسلام، نام محمد بن محمد الغزالی الطوسی۔ علمِ حدیث کے لیے نیشاپور، بغداد، حجاز، ملکِ شام کے مختلف شہروں اور مصر کا سفر کیا۔ پھر اپنے شہر لوٹ آئے اور بغداد میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔ تفسیر، حدیث، فلسفہ، فقہ، تصوف اور اصولِ فقہ میں بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved