• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سری نمازوں میں قراءت کرنے کاحکم

استفتاء

1۔سری نمازوں میں جو سراً قراءت کرنے کا حکم ہے اس (سر) کا کم از کم اور زیادہ سے زیادہ درجہ  کیا ہے؟ اسی طرح جہر کا کم از کم درجہ کیا ہے ؟

2۔کیا سری نمازوں میں حروف کی ادائیگی کے وقت صرف زبان کا مخرج سے ملنا اس سے قراءت ادا ہو جائے گی یا آواز کا نکالنا بھی ضروری ہے، اگر آواز نکالنا ضروری ہے تو کس حد تک؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ایک  قول کے مطابق سِر کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ تصحیح حروف ہوجائے اور ایک قول کے مطابق  یہ ہے کہ  اتنی آواز سے ہو کہ خود سن سکے، یہ قول احتیاط والا ہے اور زیادہ سے زیادہ درجہ  یہ ہے کہ قریب کے ایک دو بندے سن سکیں۔ اور جہر کی کم از کم مقدار یہ ہے کہ قریب کے ایک دو  بندوں کے علاوہ بھی سن سکیں۔

2۔تصحیح حروف والے قول کے مطابق آواز نکالنا ضروری نہیں جبکہ دوسرے قول کے مطابق اتنی آواز نکالنا ضروری ہے کہ خود سن سکے۔

الدر المختار مع ردالمحتار (1/534) میں ہے:

(و) أدنى (الجهر ‌إسماع ‌غيره و) أدنى (المخافتة إسماع نفسه) ومن بقربه؛ فلو سمع رجل أو رجلان فليس بجهر، والجهر أن يسمع الكل خلاصة

(قوله وأدنى الجهر ‌إسماع ‌غيره إلخ) اعلم أنهم اختلفوا في حد وجود القراءة على ثلاثة أقوال:

فشرط الهندواني والفضلي لوجودها خروج صوت يصل إلى أذنه، وبه قال الشافعي.

وشرط بشر المريسي وأحمد خروج الصوت من الفم وإن لم يصل إلى أذنه، لكن بشرط كونه مسموعا في الجملة، حتى لو أدنى أحد صماخه إلى فيه يسمع.

ولم يشترط الكرخي وأبو بكر البلخي السماع، واكتفيا بتصحيح الحروف. واختار شيخ الإسلام وقاضي خان وصاحب المحيط والحلواني قول الهندواني، وكذا في معراج الدراية. ونقل في المجتبى عن الهندواني أنه لا يجزيه ما لم تسمع أذناه ومن بقربه، وهذا لا يخالف ما مر عن الهندواني لأن ما كان مسموعا له يكون مسموعا لمن في قربه كما في الحلية والبحر …….. وذكر العلامة خير الدين الرملي ‌أن ‌كلا ‌من ‌قولي الهندواني والكرخي مصححان، وأن ما قاله الهندواني أصح وأرجح لاعتماد أكثر علمائنا عليه.

‌وقد ‌علمت ‌أن ‌الفضلي قائل بقول الهندواني. فقد ظهر بهذا أن أدنى المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين مثلا، وأعلاها تصحيح الحروف كما هو مذهب الكرخي، ولا تعتبر هنا في الأصح.

وأدنى الجهر إسماع غيره ممن ليس بقربه كأهل الصف الأول، وأعلاه لا حد له فافهم، واغتنم تحرير هذا المقام فقد اضطرب فيه كثير من الأفهام

امداد الفتاویٰ (1/568) میں ہے:

سوال :نمازمیں قراء ت کو قاری نہ سنے نمازنہیں ہوتی، بہشتی زیور میں لکھاہے اس کاکیا مطلب ہے؟

الجواب : في الدر المختار، فصل القراءة: وأدنی الجهر إسماع غیره، وأدنی المخافتة إسماع نفسه.اور ’’رد المحتار‘‘ میں اس قول کوہندوانی کی طرف منسوب کرکے اصح وارجح کہاہے، اور چونکہ اس میں احتیاط تھی؛ لہٰذا ’’بہشتی زیور‘‘ کے مؤلف نے اسکو اختیار کیا اور ایک قول امام کرخیؒ کاہے، صرف تصحیح حروف کافی ہے، گوخودبھی نہ سنے۔ اوربعض نے اس کی بھی تصحیح کی ہے۔ کذا فی رد المحتار۔ پس احوط تو امام ہندوانیؒ کاقول ہے، باقی نماز امام کرخیؒ کے قول پرعمل کرنے والے کی بھی ہوجاوے گی۔ واللہ اعلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved