- فتوی نمبر: 36-229
- تاریخ: 23 ستمبر 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > نذر و منت کے احکام
استفتاء
میں نے آج سے 4 سال پہلے یہ نیت کی تھی کہ میں ہر نماز کے بعد( یعنی جن کے بعد نفل پڑھے جا سکتے ہیں ) نفل پڑھوں گی ۔ پھر کچھ عرصہ تو پابندی کی لیکن پھر اس کے بعد نہیں پڑھے گئے ۔ اور مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے صرف دل میں نیت کی تھی یا زبان سے بھی کہا تھا لہٰذا اب میرے لیے کیا حکم ہے کیا ساری زندگی مجھے ہر نماز کے بعد نفل پڑھنے پڑھیں گے ؟
وضاحت مطلوب ہے: جن الفاظ کے زبان سے ادا کرنے یا نہ کرنے کے متعلق آپ کو شک ہے وہ کیا الفاظ ہیں؟
جواب وضاحت: میں ساری زندگی ہر نماز کے بعد نفل پڑھوں گی۔
الجواب: مذکورہ صورت میں نذر منعقد نہیں ہوئی لہذا آپ کے لیے ہر روز ہر نماز کے بعد نفل پڑھنا لازمی نہیں ہے۔فقط
سوال بعد از جواب: اس مسئلہ میں ایک بات جو میں بتانا بھول گئی تھی ، وہ یہ کہ میں نے اس بات کو معلق بھی کیا تھا کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو میں ہر نماز کے بعد ساری زندگی نفل پڑھوں گی۔ اور میرا وہ کام ہو بھی گیا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں نذر منعقد نہیں ہوئی لہذا آپ کے لیے ہر روز ہر نماز کے بعد نفل پڑھنا لازمی نہیں ہے ۔
توجیہ نذر کے منعقد ہونے کے لیے نذر کے الفاظ کا زبان سے ادا کرنا شرط ہے محض نیت سے نذر منعقد نہیں ہوتی جبکہ مذکورہ صورت میں الفاظ کے زبان سے ادا کرنے یا نہ کرنے کے متعلق شک ہے اور شک کی صورت میں نذر منعقد نہیں ہوتی۔
بدائع الصنائع (5/81) میں ہے:
أما الأول: فركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: ” لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك
بزازیہ (2/553) میں ہے:
حلف ونسي أنه بالله تعالى، أو بالطلاق، أو بالعتاق فحلفه باطل
غمز عیون البصائر (1/204) میں ہے:
قاعدة : من شك هل فعل شيئا أم لا فالأصل أنه لم يفعل.
غمز عیون البصائر (1/204) میں ہے:
شك هل حلف بالله، أو بالطلاق، أو بالعتاق فينبغي أن يكون حلفه باطلا ، ثم رأيت المسألة في البزازية في شك الأيمان: حلف ونسي أنه بالله تعالى، أو بالطلاق، أو بالعتاق فحلفه باطل
قوله: فحلفه باطل أي فلا شيء عليه، قيل: أما الطلاق والعتاق فإنهما لا يقعان بالشك وأما الحلف بالله؛ فلأن الأصل براءة الذمة فلا تجب الكفارة بالشك
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (12/119) میں ہے:
سوال: زید نیت کرتا ہے کہ اگر میری فلاں دکان یا مکان کرایہ پر چڑھ جاوے گا تو اس کا ایک ماہ کا کرایہ اللہ کے واسطے دوں گا اب وہ مکان یا دکان کرایہ پر چڑھ گیا زید اس کے ایک ماہ کے کرایہ کو حسب وعدہ مصرف خیر میں صرف کرنا چاہتا ہے ایسے نذر کو اللہ کے واسطے کھانا پکوا کر طلبہ مساکین وغیرہ کو کھلا سکتا ہے یا نہیں ؟اور اس میں سے خود بھی کھا سکتا ہے یا نہیں ؟اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی کھلا سکتا ہے یا نہیں ؟ کسی مسجد کی تعمیر یا مدرسے کی تعمیر میں یا چاہ میں اس کو لگا سکتا ہے یا نہیں ؟ آیا اس کو ایسا اختیار ہے یا نہیں کہ اس کی رقم موعودہ کو جس کار خیر میں چاہے لگا دے ۔
جواب: زید نے اگر محض ایسی نیت کی ہے اور زبان سے کچھ نذر نہیں کی اس حالت میں زید پر کچھ لازم نہیں ہوتا اگر تبرعا کچھ بطور صدقہ محتاجوں وغیرہم کو کھلادیوے تو اچھا ہے اس میں سے خود بھی کھا سکتا ہے اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی کھلا سکتا ہے۔۔۔۔۔الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved