- فتوی نمبر: 36-239
- تاریخ: 29 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ہمارے والد کا انتقال ہوئے تقریباً نو سال ہو چکے ہیں۔ مرحوم اپنے ورثاء کے لیے ایک مکان چھوڑ گئے تھے، جس کے باہر کی جانب دکانیں ہیں اور ان سے کرایہ وصول ہوتا ہے۔ورثاء میں والدہ اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔ اس وقت تین بیٹے اور والدہ اس مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ جائیداد ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی۔
مسئلہ یہ ہے کہ والدہ مکان فروخت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، جبکہ بعض بیٹوں کو مالی ضرورت ہے اور وہ اپنے وراثتی حصے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ نیز دکانوں سے حاصل ہونے والے کرائے کا بڑا حصہ والدہ اپنے پاس رکھتی ہیں۔
مزید یہ کہ ایک بھائی کا اس جائیداد میں دو حصوں کے برابر حق بنتا ہے ۔
درج ذیل امور میں رہنمائی فرما دیں:
1۔ کیا والدہ دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر اس وراثتی جائیداد کی فروخت کو روک سکتی ہیں؟
2۔ اگر کوئی وارث اپنے حصے کی تقسیم یا فروخت کا مطالبہ کرے تو اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
3۔ مذکورہ بھائی، جس کا جائیداد میں دو حصوں کے برابر حق بنتا ہے، کیا وہ کرائے میں بھی اپنے حصے کے تناسب سے دو حصوں کا مستحق ہوگا؟
وضاحت مطلوب ہے:1۔ ایک بھائی کا اس جائیداد میں دو حصوں کے برابر حق کیوں بنتا ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ 2۔مذکورہ جائیداد کا رقبہ کتنا ہے؟ اور کیا تقسیم کرنے کے بعد جائیداد سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟ والدہ کی تقسیم کو روکنے کی وجہ کیا ہے؟
جواب وضاحت: 1۔ ایک بھائی کا بڑے بھائی کے ساتھ کاروبار تھا۔ انہوں نے کاروبار میں سے پیسے دینے کی بجائے مکان میں سے اپنا حصہ دوسرے بھائی کو دے دیا۔2۔ مذکورہ جائیداد کا رقبہ 14 مرلے ہے اور باہر والی سائید پر 10-12 دکانیں ہیں جن سے تقریباً 4 لاکھ کرایہ آتا ہے اور سب سے زیادہ کرایہ (ڈیڑھ لاکھ)والدہ لے رہی ہیں اور جس میں جتنا زور ہے وہ اتنا کرایہ لے لیتا ہے اور اس مکان کی ویلیو 20 کروڑ روپے ہے اور کچھ بھائی بہت ضرورت مند ہیں اور والدہ کے جائیداد کی فروخت روکنے کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں ہے وہ یہ سوچتی ہیں کہ جائیداد میرے ہاتھ سے نکل کر بہوؤں کے ہاتھ آ جائے گی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں جو ورثاء اپنا حصہ بیچنا چاہتے ہیں، والدہ ان کے حصوں کی جائیداد کی فروخت کو نہیں روک سکتی۔
2۔ مذکورہ صورت میں ہر وارث شرعی طور پر اپنے حصے کی تقسیم کا یا فروخت مطالبہ کر سکتا ہے ۔
3۔ مذکورہ بھائی دو حصوں کے تناسب سے کرائے کا مستحق ہوگا۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں چونکہ جائیداد قابل تقسیم ہے اور تقسیم کرنے سے منفعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا لہذا ہر وارث جائیداد تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے اور والدہ مکان کی فروخت کو نہیں روک سکتی۔
تبیین الحقائق (5/268) میں ہے:
قال رحمه الله (وقسم بطلب أحدهم لو انتفع كل بنصيبه) لأن فيها تكميل المنفعة إذا كان كل واحد منهم ينتفع بنصيبه بعد القسمة فكانت القسمة حقا لهم فوجب على القاضي إجابتهم قال – رحمه الله – (وإن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) وذلك مثل البئر والرحا والحائط والحمام؛ لأن القسمة لتكميل المنفعة وفي هذا تفويتها فيعود على موضوعه بالنقض
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام (3/21) میں ہے:
تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما
امداد الفتاوی( 3/519 ) میں ہے:
منجملہ شرائط تقسیم کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ بعد تقسیم کی اس شئ مشترک کی منفعت مقصودہ فوت نہ ہو اس صورت میں صحن کی تقسیم توجائز ہے کیونکہ بعد تقسیم بھی منفعت صحن کی باقی رہتی ہے اور پائخانہ اور زینہ اور دروازے کی تقسیم جائز نہیں ہے کیونکہ بعد تقسیم ان کی منفعت باقی نہیں رہ سکتی ۔
وشرطها عدم فوت المنفعة بالقسمة ولذا لا يقسم نحوحائط وحمام وقال شارحه تحت قوله المنفعة اي المعهودة وهي ما كانت قبل القسمة اذا الحمام بعدها ينتفع به كنحو رب الدواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved