• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

عرض ہے کہ میرے والد  (زید) کا  32 سال پہلے  (20 نومبر 1992 کو)   ،والدہ کا 16 اپریل 2003 کو ، ایک بہن کا 4 مارچ 1996  کو اور  بڑے بھائی کا  4 دسمبر 2020 کو اور دوسری بہن کا  31 دسمبر 2024 کو انتقال ہو چکا ہے۔ فاطمہ بڑی بہن جن کا 1996 میں انتقال ہوا ہے ان کے انتقال کے وقت ان کے شوہر 4 بیٹے 5 بیٹیاں حیات تھیں۔ خالد بڑے بھائی جن کا 2020 میں انتقال ہوا ہے ان کے انتقال کے وقت 1 بیوی 8 بیٹے 4 بیٹیاں حیات تھیں۔ کلثوم چھوٹی بہن جن کا انتقال 2024 کو ہوا ہے ان کے انتقال  کے وقت شوہر 2 بیٹے 4 بیٹیاں حیات تھیں۔

والد صاحب کا  انتقال پہلے ہوا ہے اس کے بعد  والدہ، ایک بھائی اور دو بہنوں کا انتقال ہوا ہے۔ ہم ٹوٹل پانچ بہنیں ہیں تین بھائی ہیں جس میں سے 1 بھائی 2 بہنیں انتقال کر چکی ہیں اور دو بھائی تین بہنیں حیات ہیں والد کی وراثت میں صرف ایک مکان ہے جس کی مالیت ڈیڑھ کروڑ ہے فروخت کرنے کے بعد ترکہ کس طرح تقسیم ہو گا؟

تنقیح: مرحوم زید (ہمارے والد) کے انتقال کے وقت  ہمارے دادا، دادی اور ہماری والدہ کے  انتقال کے وقت ہمارے نانا، نانی میں سے کوئی بھی حیات نہیں تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں کل مال کے 10982400 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم  کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو 2050880 حصے (18.674 فیصد فی کس )یعنی 28,01,136 روپے ،  تین بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 1025440 حصے (9.337 فیصد فی کس )یعنی 14,00,568 روپے ،  فاطمہ کے شوہر کو 218400 حصے  (1.988 فیصد ) یعنی 2,98,295 روپے ، فاطمہ کے چار بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو 78400 حصے (0.713 فیصد فی کس ) یعنی 1,070,80 روپے  اور ان کی پانچ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 39200 حصے ( 0.356فیصد فی کس)یعنی 53,5,40 روپے  اور خالد  کی بیوہ کو 256360 حصے (2.334 فیصد )یعنی3,50,142 روپے اور آٹھ  بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو 179452 حصے (1.633 فیصد فی کس ) یعنی 2,45,099 روپے اور چار بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 89726 حصے (0.816 فیصد فی کس ) یعنی1,22,549روپے اور کلثوم کے شوہر کو 256360 حصے (2.334 فیصد  )یعنی3,50,142 روپے  اور دو بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو 192270 حصے (1.750 فیصد فی کس )یعنی 2,62,606 روپے اور انکی چار بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 96135 حصے (0.875 فیصد فی کس)یعنی 1,31,303 روپےملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved