• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا نماز پنجگانہ کے لیے آواز لگانا تثویب میں داخل ہے؟

استفتاء

کیا نماز پنجگانہ کے لیے آواز لگانا جیسا کہ عام طور پر مدارس میں ہوتا ہے، کیا یہ تثویب میں داخل نہیں ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ عمل تثویب میں داخل ہے اور تثویب  متقدمین کے نزدیک فجر کے علاوہ دیگر نمازوں میں جائز نہیں جبکہ متاخرین فقہاء نے جہاں ضرورت ہو وہاں  تمام نمازوں میں تثویب کی اجازت دی ہے لہذا اگر اس کی ضرورت ہو تو جائز ہے ورنہ جائز نہیں۔

شامی (1/389) میں ہے:

(قوله: ويثوب) التثويب: العود إلى الإعلام بعد الإعلام درر، وقيد بتثويب المؤذن لما في القنية عن الملتقط: لا ينبغي لأحد أن يقول لمن فوقه في العلم والجاه حان وقت الصلاة سوى المؤذن؛ لأنه استفضال لنفسه. اهـ. بحر. قلت، وهذا خاص بالتثويب للأمير ونحوه ‌على ‌قول ‌أبي ‌يوسف ‌فافهم.

(‌قوله: ‌بين ‌الأذان ‌والإقامة) ‌فسره ‌في ‌رواية ‌الحسن ‌بأن ‌يمكث ‌بعد ‌الأذان ‌قدر ‌عشرين ‌آية ‌ثم ‌يثوب ‌ثم ‌يمكث ‌كذلك ‌ثم ‌يقيم ‌بحر.

(‌قوله: ‌في ‌الكل) ‌أي ‌كل ‌الصلوات ‌لظهور ‌التواني ‌في ‌الأمور ‌الدينية. ‌قال ‌في ‌العناية: ‌أحدث ‌المتأخرون التثويب بين الأذان والإقامة على حسب ما تعارفوه في جميع الصلوات سوى المغرب مع إبقاء الأول يعني الأصل وهو تثويب الفجر وما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن. اهـ.

(قوله: للكل) أي كل أحد، وخصه أبو يوسف بمن يشتغل بمصالح العامة كالقاضي والمفتي والمدرس واختاره قاضي خان وغيره نهر.

(قوله: بما تعارفوه) كتنحنح، أو قامت قامت، أو الصلاة الصلاة، ولو أحدثوا إعلاما مخالفا لذلك جاز نهر عن المجتبى

البحر الرائق (1/275)  میں ہے:

‌بل ‌تثويب ‌كل ‌بلد ‌على ‌ما ‌تعارفوه ‌إما ‌بالتنحنح ‌أو ‌بقوله ‌الصلاة ‌الصلاة ‌أو ‌قامت ‌قامت؛ ‌لأنه ‌للمبالغة ‌في ‌الإعلام، ‌وإنما ‌يحصل ‌بما ‌تعارفوه ‌فعلى ‌هذا ‌إذا ‌أحدث ‌الناس ‌إعلاما ‌مخالفا ‌لما ‌ذكر ‌جاز، ‌كذا ‌في ‌المجتبى

‌وأفاد ‌أنه ‌لا ‌يخص ‌صلاة ‌بل ‌هو ‌في ‌سائر ‌الصلوات ‌وهو ‌اختيار ‌المتأخرين ‌لزيادة ‌غفلة ‌الناس ‌وقلما ‌يقومون ‌عند ‌سماع ‌الأذان ‌وعند ‌المتقدمين ‌هو ‌مكروه ‌في ‌غير ‌الفجر ‌وهو ‌قول ‌الجمهور ‌كما ‌حكاه ‌النووي ‌في ‌شرح ‌المهذب ‌لما ‌روي ‌أن ‌عليا ‌رأى ‌مؤذنا ‌يثوب ‌في ‌العشاء ‌فقال ‌أخرجوا ‌هذا ‌المبتدع ‌من ‌المسجد ‌وعن ‌ابن ‌عمر ‌مثله ‌ولحديث ‌الصحيحين «‌من ‌أحدث ‌في ‌أمرنا ‌هذا ‌ما ‌ليس ‌منه ‌فهو ‌رد» ‌وأفاد ‌أنه ‌لا ‌يخص ‌شخصا ‌دون ‌آخر ‌فالأمير ‌وغيره ‌سواء ‌وهو ‌قول ‌محمد؛ ‌لأن ‌الناس ‌سواسية ‌في ‌أمر ‌الجماعة ‌وخص ‌أبو ‌يوسف ‌الأمير ‌وكل ‌من ‌كان ‌مشتغلا ‌بمصالح ‌المسلمين ‌كالمفتي ‌والقاضي ‌والمدرس ‌بنوع ‌إعلام ‌بأن ‌يقول ‌السلام ‌عليك ‌أيها ‌الأمير ‌حي ‌على ‌الصلاة ‌حي ‌على ‌الفلاح ‌الصلاة ‌يرحمك ‌الله ‌واختاره ‌قاضي ‌خان ‌وغيره ‌لكن ‌ذكر ‌ابن ‌الملك ‌أن ‌أبا ‌حنيفة ‌مع ‌محمد ‌وعاب ‌عليه ‌محمد ‌فقال ‌أف ‌لأبي ‌يوسف ‌حيث ‌يخص ‌الأمراء ‌بالذكر ‌والتثويب ‌ومال ‌إليهم ‌ولكن ‌أبا ‌يوسف  ‌رحمه ‌الله  ‌إنما ‌خص ‌أمراء ‌زمانه؛ ‌لأنهم ‌كانوا ‌مشغولين ‌بأمور ‌الرعية، ‌أما ‌إذا ‌كان ‌مشغولا ‌بالظلم ‌والفسق ‌فلا ‌يجوز ‌للمؤذن ‌المرور ‌على ‌بابه ‌ولا ‌التثويب ‌لهم ‌إلا ‌على ‌وجه ‌الأمر ‌بالمعروف ‌والنصيحة ‌كما ‌في ‌السراج ‌الوهاج ‌وغيره ‌وقيد ‌بكون ‌المثوب ‌هو ‌المؤذن ‌لما ‌في ‌القنية ‌معزيا ‌للملتقط ‌لا ‌ينبغي ‌لأحد ‌أن ‌يقول ‌لمن ‌فوقه ‌في ‌العلم ‌والجاه ‌حان ‌وقت ‌الصلاة ‌سوى ‌المؤذن؛ ‌لأنه ‌استفضال ‌لنفسه (‌فرع)

‌في ‌شرح ‌المهذب ‌للشافعية ‌يكره ‌أن ‌يقال ‌في ‌الأذان ‌حي ‌على ‌خير ‌العمل؛ ‌لأنه ‌لم ‌يثبت ‌عن ‌النبي  ‌صلى ‌الله ‌عليه ‌وسلم ‌والزيادة ‌في ‌الأذان ‌مكروهة. ‌اهـ. ‌وقد ‌سمعناه ‌الآن ‌عن ‌الزيدية ‌ببعض ‌البلاد

المبسوط للسرخسی  (1/130)  میں ہے:

قال (ولا تثويب إلا في صلاة الفجر) لما روي أن عليا – رضي الله تعالى عنه – رأى مؤذنا يثوب في العشاء فقال أخرجوا هذا المبتدع من المسجد ولحديث مجاهد – رضي الله تعالى عنه – قال دخلت مع ابن عمر – رضي الله تعالى عنهما – مسجدا نصلي فيه الظهر فسمع المؤذن يثوب فغضب وقال قم حتى نخرج من عند هذا المبتدع فما كان التثويب على عهد رسول الله – صلى الله عليه وسلم – إلا في صلاة الفجر. ولأن صلاة الفجر تؤدى في حال نوم الناس ولهذا خصت بالتطويل في القراءة فخصت أيضا بالتثويب لكي لا تفوت الناس الجماعة وهذا المعنى لا يوجد في غيرها وفسره الحسن عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى قال يؤذن للفجر ثم يقعد بقدر ما يقرأ عشرين آية ثم يثوب ثم يقعد مثل ذلك ثم يقيم لحديث بلال – رضي الله تعالى عنه – «أن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال له إذا أذنت فأمهل الناس قدر ما يفرغ الآكل من أكله والشارب من شربه والمعتصر من قضاء حاجته» وإنما استحسن التثويب لأن الدعاء إلى الصلاة في الأذان كان بهاتين الكلمتين فيستحسن التثويب بهما أيضا هذا اختيار المتقدمين وأما المتأخرون فاستحسنوا التثويب في جميع الصلوات لأن الناس قد ازداد بهم الغفلة وقلما يقومون عند سماع الأذان فيستحسن التثويب للمبالغة في الإعلام ومثل هذا يختلف باختلاف أحوال الناس فما كان التثويب على عهد رسول الله – صلى الله عليه وسلم – إلا في صلاة الفجر.

البنایہ شرح الہدایہ (2/101) میں ہے:

(والمتأخرون استحسنوه) ش: أي العلماء المتأخرون ‌استحسنوا ‌التثويب م: (في الصلوات كلها لظهور التواني في الأمور الدينية) ش: فعلى هذا استحباب المتأخرين أحداثا بعد أحداث وفي ” جامع البرهاني ” ترك سائر الأوقات في زماننا بتركه وقت الفجر في زمان النبي – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

قلت: استحسان المتأخرين التثويب في كل الصلوات ليس بلفظ معين، ولا شرطوا غير ذلك اللفظ، بل ما ذكروا متعارف. وفي ” شرح مختصر الكرخي ” للقدوري ويثوب وهو قائم كالأذان في قول أبي حنيفة وأبي يوسف. قال الحسن: وفيه قول يسكت بعد الأذان ساعة ثم يقول حي على الصلاة حي على الفلاح وبه نأخذ، وإن صلوا ركعتي الفجر بين الأذان والتثويب فلا بأس به

کفایت المفتی (3/57)میں ہے:

 سوال:  حديث لا تثویب في شيء من الصلوة الا في صلوة الفجر (ترمذی ص ۲۷) کی روایت میں جو ایک راوی اسرائیلی واقع ہوئے  ہیں ان کو صاحب ترمذی نے ضعیف کہا ہے تو کیا اس سے روایت قابل عمل رہتی ہے یا نہیں ؟ان کی ثقاہت و عدالت و ضبط و غیرہ کے بارے میں کتب اصول سے کیا مستنبط ہوتا ہے ؟

جواب: تثویب اس معنی کے لحاظ سے کہ اس سے مراد اذان اور اقامت کے درمیان میں کچھ الفاظ پکار کر لوگوں کو نماز کے لئے بلانا مد نظر ہو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اذان اور اقامت کے درمیان میں ایسی کوئی چیز نہ تھی نہ حضور ﷺ نے تعلیم فرمائی اس کو لوگوں نے بعد حضور ﷺ کے ایجاد کیا اور صحابہ نے اس کا انکار کیا حضرت عبداللہ ابن عمرؓ نماز کے لئے ایک مسجد میں گئے اور وہاں تثویب پکاری گئی تو وہ اس مسجد سے بغیر نماز پڑھے چلے آئے اور کہا کہ اس مبتدع کے پاس سے مجھے لے چلو یہ واقعہ ترمذی اور ابو داود میں موجود ہے امام ابو یوسف نے قاضی یا مفتی یا کسی ایسے  شخص کے لئے جو خدمت مسلمین میں مشغول رہتا ہو اس امر کی اجازت دی ہے کہ اس کو اقامت سے کچھ قبل اطلاع دیدی جایا کرے تو وہ جماعت میں شریک ہو جائے اور خدمت خلق میں نقصان نہ پڑے ان کی اجازت کا بھی یہ مطلب نہیں کہ اذان اور اقامت کے در میان تثویب کی رسم ہی قائم کر لی جائے اور پھر اضافہ یہ کہ اس کو ایک واجب کا درجہ دے دیا جائے اور منکر یا تارک کو  مردود کہہ کر  طعن کیا جائے یہ تو یقینی تعدی اور ظلم اور انتہائی بدعت ہے ترمذی کی روایت ابو اسرائیل الملائی کی اگر چہ ضعیف ہے مگر عبد اللہ بن عمرؓ کی روایت مذکورہ بالا سے اس کی تقویت ہو جاتی ہے اور وہ قابل عمل ہو جاتی ہے۔

فتاویٰ رشیدیہ (1/550) میں ہے:

سوال: بعد اذان کے اگر نمازی نہ آویں تو ان کو بلانا درست ہے یا نہیں؟

جواب: اگر احیانا کسی کو بعد اذان بوجہ ضرورت بلوالیں تو درست ہے مگر اس کی عادت ڈالنی اور ہمیشہ کا التزام نا درست ہے۔

امداد الاحکام  (1/433) میں ہے:

سوال: اذان میں تثویب کی کیا صورت ہے اور تثویب کے معنی کیا ہیں ؟

الجواب : اذان میں تثویب مسنون تو یہ ہے کہ اذان فجر میں” الصلوة خیر من النوم” اضافہ کیا جائے ، اور تثویب مبتدع ایک تو اذان میں ہے کہ “حی علی خیر العمل “اضافہ کیا جائے جیسا روافض کرتے ہیں، اور ایک ما بین الاذان والاقامہ ہے کہ موذن تھوڑی دیر میں ” الصلاة جامعة يا الصلاة الصلاة رحمكم الله “پکارتا ہے، یہ دونوں بدعت ومکروہ ہیں، والاول اشد ابتدا عا وكراهة

فتاویٰ دار العلوم دیوبند(1/ 198) میں ہے:

سوال : بعض  دیہات وقصبات میں نماز عشاء کے اور جمعہ کے قبل ’’الصلاۃ‘‘ کہنا سنت ہے تو رائج کیوں نہیں، متروک کیوں ہے؟

جواب: یہ تثویب ہے جس کو بضرورت رکھا گیا تھا۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے خاص قاضی وغیرہ کے لیے اس اطلاع کو جائز رکھا تھا، کہ یہ لوگ مسلمانوں کے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں ان کو دوبارہ اطلاع کی ضرورت ہے۔

وخصه أبو يوسف بمن يشتغل بمصالح العامة كالقاضي والمفتي والمدرس واختاره قاضيخان.

پس اب یہ  قصدہی نہیں لہذا تثویب بھی متروک ہو گئی۔

فتاویٰ دار العلوم دیوبند (2/162) میں ہے:

 سوال: فی زمانہ عوام کی حالت سخت خراب ہے ، اگرامام ان کا انتظار نہ کرے تو سخت تنگ کرتے ہیں، کبھی اگر نماز پڑھے اور بعض لوگ رہ جاویں تو سخت تنگ کرتے ہیں، ایسی صورت میں ایک طالب نے کہا کہ تثویب طریقہ مسنونہ ہے،  مؤذن امام کو وقت نماز پر جب سب نمازی جمع ہو جاویں بلا سکتا ہے، اور یہ طریقہ متاخرین کا جاری کردہ ہے کہ بعد اذان قبل اقامت مسجد کے منارے پر چڑھ کر مقتدیوں کو پکارا جاوے، اور حضرت بلالؓ  کا رسول اللہ ﷺ  کو بلانا ثابت ہے : أن بلالا كان يجيء بباب النبي صلى الله عليه وسلم بين الأذانين ويؤذنه بالصلاة سوقول فیصل تحریر فرمادیں۔

الجواب: در مختار میں ہے : ويثوب بين الأذان والإقامة في الكل للكل (الدر المختار)

 قوله: (في الكل ) أي كل الصلوات لظهور التواني في الأمور الدينية، قال في العناية: أحدث المتأخرون التثويب بين الأذان والإقامة على حسب ما تعارفوه في جميع الصلوات سوى المغرب مع إبقاء الأول يعني الأصل ، وهو تثويب الفجر، وما راه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن (شامي) قوله: (للكل) أي كل أحد وخصه أبو يوسف بمن يشتغل بمصالح العامة كالقاضي والمفتي والمدرس واختاره قاضي خان وغيره.

ان عبارات سے معلوم ہوا کہ تثویب احداث متاخرین سے ہے، اور امام ابو یوسف نے قاضی و مفتی وغیرہ کے ساتھ اس کو خاص کیا ہے، پس اجتناب اس سے بہتر ہے، اور کوئی ضرورت خاصہ ہو تو جائز ہے۔

فتاویٰ محمودیہ (5/ 499) میں ہے:

سوال : دار العلوم میں اذان اسپیکر پر ہوتی ہے بعض لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ اذان  کے بعد نماز سے چند منٹ پہلے اعلان بھی کر لیا جائے، اس میں کوئی کراہت  یا بدعت تو نہیں؟ مع حوالہ درج کریں۔

جواب: ان حالات میں پندرہ منٹ پہلے ’’نماز تیار ہے‘‘  کا اعلان کرنا گویا اذان کو غیر معتبر قرار دینا ہے۔ جن عوارض کے تحت تثویب کی گنجائش دی گئی ہے وہ یہاں موجود نہیں۔

فتاوی محمودیہ (21/490) میں ہے:

سوال: ہمارے ہاں قصبے کی مسجد میں روزانہ فجر کی اذان کے بعد ایک یا دورکوع پڑھتے ہیں اس کے بعد نظم پڑھتے ہیں جماعت ہونے سے دس پندرہ منٹ پہلے رک جاتے ہیں اس نیت سے کہ لوگوں کو فجر کی نماز جماعت سے مل جائے کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟

جواب: یہ پڑھناغالبا ریڈیو اور اسپیکر پر ہوتا ہوگا ایسے وقت پر کچھ لوگ سو رہے ہوں گے کچھ ضروریات میں مشغول ہوں گےقرآن پاک کی طرف توجہ دینے سے قاصر ہوں گے،اس لیے اس کو ترک کیا جائے، ویسے ہی نماز کے واسطے بلانے کے لیے شریعت نے اذان تجویز کی ہے، ریڈیو اسپیکر پر قرآن پاک اور نظم پڑھنا تجویز نہیں کیا۔

مسائل بہشتی زیور(1/ 160) میں  ہے:

اذان اور اقامت کے درمیان موذن ایک مرتبہ بلند آواز سے انتہائی مختصر اور معروف لفظوں میں لوگوں کو جماعت کی یاد دہانی کرائے اس کو تثویب کہتے ہیں۔ فجر کی نماز کے لیے جہاں اس کی ضرورت ہو یہ جائز ہے۔ دوسری نمازوں میں موجودہ حالات میں تثویب جائز نہیں کیونکہ اذان کے بعد جماعت کھڑی ہونے کا وقت متعین ہے جو اتنا مختصر ہوتا ہے کہ آدمی استنجا اور وضو کر کے سنتیں ادا کر سکے۔ پھر گھڑیوں کا عام رواج ہے اور گھڑی کے مطابق جماعت کھڑی ہوتی ہے۔ ان وجوہات سے موجودہ دور میں فجر کے علاوہ دیگر نمازوں میں تثویب کی ضرورت نہیں اور بلا ضرورت کرنا  بدعت ہے۔ اسی طرح فجر میں بھی تثویب بار بار کرنا یا زیادہ الفاظ میں کرنا بھی بدعت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved