• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو بیٹوں اور دو بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

مفتی صاحب !   ہماری پھوپھی (فاطمہ  ) صاحبہ  کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کے ورثاء میں دو بیٹے ، دو بیٹیاں ، تین بہنیں اور ایک بھائی ہے جبکہ  ان  کے شوہر اور والدین کا ان کی زندگی میں  انتقال ہو گیا تھا تو ایسی  صورت میں مرحومہ کے ترکہ میں ہر وارث کا شرعی حصہ کیا  ہو گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحومہ (فاطمہ )کے کل ترکہ کے 6 حصے کیے جائیں گے ،جن میں سے 2 ،2حصے (33.33فیصد فی کس ) مرحومہ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک  بیٹے کو ، 1،1حصہ (16.67 فی کس) مرحومہ کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی   کو ملے گا ۔جبکہ مرحومہ کے بھائی اور بہنوں کا مرحومہ کی وراثت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔

توجیہ: میت کے بیٹے کی موجودگی میں حقیقی بھائی اور بہنیں قاعدہ شرعیہ’’الأقرب فالأقرب“ کی وجہ سے شرعاً   محروم ہوتے ہیں ، اور چونکہ مذکورہ صورت میں بھی میت کا بیٹا (قریب کا عصبہ )موجود ہے لہذا بھائی اور بہنیں شرعا محروم ہوں گے ۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

6

دو بیٹیاںدو بیٹےایک بھائیتین بہنیں
عصبہمحروم
1+12+2

السراجی فی المیراث (ص:32) میں ہے:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث : النصف للواحدة والثلثان للإثنتین فصاعدة و مع الابن للذکر حظ الانثیین وهو یعصبهن.

السراجی فی المیراث                (ص:53) میں ہے:

أما العصبة بنفسه: ……  وهم أربعة أصناف جزء المیت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، الاقرب فالاقرب.

در مختار (561/10)میں ہے:

(‌ويسقط ‌بنو ‌الأعيان) وهم الإخوة والأخوات لأب وأم بثلاثة (بالابن) وابنه وإن سفل (وبالأب) اتفاقا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved