- فتوی نمبر: 36-302
- تاریخ: 04 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
1۔کیا عورت زوم پر فیمیلز (خواتین) کو تفسیر یا تجوید کی کلاس پڑھا سکتی ہے؟
2۔ نیز یہ کہ دوران حیض کیسے پڑھائے؟
وضاحت مطلوب ہے: کلاسز صرف خواتین کے لیے ہوں گی یا مرد بھی شریک ہوسکیں گے ؟ نیز اگر مرد شریک نہیں ہوسکیں گے تو کیا ان تک ریکارڈنگ کی صورت میں آواز پہنچنے کا احتمال ہے یا نہیں ؟یعنی مرد اگر چاہیں تو اس آواز کو سن سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب وضاحت: زوم پر ہوسٹ (زوم چلانے والی خاتون) ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دےگی۔ اور کلاسز صرف خواتین کے لیے ہوں گی۔ لیکن کلاسز لیتے وقت ان خواتین کے پاس کوئی مرد ہو جو آواز سن سکے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔ہم خواتین سے صاف کہیں گے کہ کوشش کی جائے کہ کوئی مرد پاس نہ ہو ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں عورت کے لیے عورتوں کو زوم پر تفسیر و تجوید کی کلاس پڑھانے کی گنجائش ہے۔
توجیہ : عورت کے لیے عورت کی آواز سننا جائز ہے اور مرد کے حق میں عورت کی آواز اگر چہ بعض حضرات کے نزدیک سترہے تاہم راجح یہ ہے کہ عورت کی آواز سترنہیں البتہ فتنے کا باعث ہونے کی وجہ سے بلاضرورت اپنی آوازاجنبی مردوں کو سنانا ممنوع ہے لیکن یہ مما نعت اس صورت میں ہے جب اجنبی مرد کا آواز سننا یقینی ہو، مذکورہ صورت میں چونکہ اجنبی مرد کا سننا یقینی نہیں اس لیے گنجائش ہے۔
2۔حالت حیض میں تجوید یا تفسیر کی کلاس میں عورت قرآنی آیات کے ہجے کر کے پڑھائے،اور رواں پڑھنے کی ضرورت ہو تو پوری آیت نہ پڑھے بلکہ ایک ایک دو دو لفظ کے بعد سانس توڑ دے اورکاٹ کاٹ کر آیت پڑھے۔
1۔فتح القدير (1/ 343)میں ہے:
وتعلم المرأة من المرأة أحب من تعلمها من الأعمى.
البحر الرائق (1/ 277) میں ہے:
«وأما أذان المرأة فلأنها منهية عن رفع صوتها؛ لأنه يؤدي إلى الفتنة»
البحر الرائق (2/ 382) میں ہے:
«وإنما لا تجهر بالتلبية لما أن صوتها يؤدي إلى الفتنة على الصحيح أو عورة على ما قيل»
النہر الفائق (1/ 183) میں ہے:
«لا تلبي جهرا لأن صوتها عورة قال في الفتح: وعلى هذا القبيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها لكن قال ابن أمير حاج: الأشبه أنه ليس بعورة وإنما يؤدي إلى الفتنة وهو الذي ينبغي اعتماده»
2۔فتاوی ہندیہ(1/72) میں ہے:
وإذا حاضت المعلمة فينبغى لها أن تعلم الصبيان کلمة کلمة و تقطع بين الکلمتين و لا يکره لها التهجى بالقرآن کذا فى المحيط
بہشتی زیور(1/113) میں ہے:
اگر عورت لڑکیوں کو قرآن شریف پڑھاتی ہے تو ایسی حالت میں ہجے کروانا درست ہے اور رواں پڑھاتے وقت پوری آیت نہ پڑھے بلکہ ایک ایک دو دو لفظ کے بعد سانس توڑدے اورکاٹ کاٹ کر آیت رواں کہلائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved