- فتوی نمبر: 37-62
- تاریخ: 15 اکتوبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > خرید و فروخت > گناہ کے کاموں میں استعمال ہونے والی اشیاء کی خرید و فروخت
استفتاء
ٹی –وی کا کام یعنی اس کی تجارت کرنا شریعت کی رُو سے کیسا ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: ٹی وی سے مراد خاص ٹی وی ہے یا ایل سی ڈی(L.C.D) ہے جو بطور ٹی وی بھی استعمال ہوتی ہے۔
جواب وضاحت: ٹی وی سے میری مراد وہ ٹی وی نہیں جو پرانے والے ہیں بلکہ آجکل جو عام بازار( مارکیٹ ) میں مل جاتا ہے جو کہ سکرین جیسا ہوتا ہے لیکن اس میں ایک بات یہ ہے کہ پرانے ٹی وی میں جو چینل ہوتے ہیں وہ اس میں بھی ہوتے ہیں لیکن سکرین والے ٹی وی میں اور سہولیات بھی موجود ہیں جیساکہ BLUETOOTH کا سسٹم اور کیمرے کا استعمال لیکن سہولیات کے لحاظ سے پرانے ٹی وی سے اس سکرین والے ٹی وی میں زیادہ مواد ہوتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ سکرین مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے جن میں بہت سے جائز بھی ہیں جیسے سیکیورٹی کیمرہ وغیرہ لہذا فی نفسہ (اپنی ذات کے اعتبار سے) اس کا کاروبار جائز ہے البتہ اگر خاص شخص کے بارے میں یقین ہو کہ وہ اسے گناہ کے کام میں ہی استعمال کرے گا تو اسے بیچنا جائز نہیں یہ فقہی لحاظ سے اسلحے کی طرح ہے کہ جس کے متعلق ظن غالب ہو کہ وہ اس کو گناہ کے کام میں ہی استعمال کرے گا اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے ورنہ جائز ہے۔
الجوہرۃ النیرۃ (6/178) میں ہے:
قوله (ويكره بيع السلاح في أيام الفتنة) معناه ممن يعرف أنه من أهل الفتنة كالخوارج والبغاة لأن في ذلك معونة علينا وإن كان لا يعرف أنه من أهل الفتنة فلا بأس بذلك
شرح مختصر الطحاوی للجصاص (8/560) میں ہے:
قال: (وكره بيع السلاح من أهل الفتنة، وفي عساكر الفتنة، ولا بأس ببيعه في الأمصار، وممن لا نعرفه من أهل الفتنة).
وكل ذلك لأن في بيعه من أهل الفتنة معونة لهم عليها، كما يكره بيع السلاح من أهل الحرب. وأما بيعه في الأمصار: فلا بأس به؛ لأن أمرهم محمول على الجواز والصحة، كما أن من رأيناه من أهل المصر لا يجوز أن نظن به أنه من أهل الفتنة ما لم نتيقن.
ہدایہ (4/94) میں ہے:
“ويكره بيع السلاح في أيام الفتنة” معناه ممن يعرف أنه من أهل الفتنة؛ لأنه تسبيب إلى المعصية وقد بيناه في السير، وإن كان لا يعرف أنه من أهل الفتنة لا بأس بذلك؛ لأنه يحتمل أن لا يستعمله في الفتنة فلا يكره بالشك.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved