- فتوی نمبر: 36-358
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > متفرقات حدیث
استفتاء
علوم الحدیث سے متعلق چند سوالات پیش خدمت ہیں ان کے تفصیلی جوابات کی گزارش ہے۔ عین نوازش ہو گی۔
1 – واقدی کے بارے میں ذہبی کہتے ہیں :
وقد تقرر أن الواقدي ضعيف يحتاج إليه في الغزوات، والتاريخ، ونورد آثاره من غير احتجاج أما في الفرائض فلا ينبغي أن يذكر فهذه الكتب الستة ومسند أحمد، وعامة من جمع في الأحكام نراهم يترخصون في إخراج أحاديث أناس ضعفاء بل متروكين، ومع هذا لا يخرجون عن محمد بن عمر شيئا مع أن وزنه عندي أنه مع ضعفه يكتب حديثه، ويروى؛ لأني لا أتهمه بالوضع وقول من أهدره فيه مجازفة من بعض الوجوه كما أنه لا عبرة بتوثيق من وثقه كيزيد، وأبي عبيد والصاغاني والحربي، ومعن وتمام عشرة محدثين إذ قد انعقد الإجماع اليوم على أنه ليس بحجة، وأن حديثه في عداد الواهي رحمه الله. (سير أعلام النبلاء : ١٦٥/٨)
الواقدي هو محمد بن عمر بن واقد الأسلمي مولاهم أبو عبد الله المدني الحافظ البحر: لم أسق ترجمته هنا لاتفاقهم على ترك حديثه وهو من أوعية العلم لكنه لا يتقن الحديث وهو رأس في المغازي والسير . (تذكرة الحفاظ : تذكرة الحفاظ : ٢٥٤/١)
سیف بن عمر کے بارے میں ابن حجر کہتے ہیں :
سیف بن عمر التميمي صاحب كتاب الردة ويقال [له] الضبي ويقال غير ذلك الكوفي ضعيف [في] الحديث عمدة في التاريخ (تقريب التهذيب : ٢٧٢٤)
اس طرح کے راوی جو حدیث میں ضعیف ہیں لیکن سیرت اور تاریخ میں مقبول ہیں، ان کی سیرت اور تاریخ سے متعلق وہ روایات جن سے براہ راست کسی عقیدے یا حکم کا تعلق نہیں ان کے ثبوت کا اعتقاد رکھنا درست ہے یا نہیں؟
2 – شمائل ، سیرت اور تاریخ سے متعلق کچھ ایسی کتب کی طرف رہنمائی فرمائیں جن کے مصنفین نے نقد روایت کے معیار کا پورا خیال رکھا ہو اور ان کتب پر اعتماد کر کے روایات آگے بیان کی جاسکیں۔
3۔دار قطنی مشہور محدث ہیں جو اپنی اس نسبت سے معروف ہیں۔ یہ لفظ دار القطن کی طرف منسوب کہا جاتا ہے۔ اس بارے میں پوچھنا یہ ہے کہ یہ مرکب ناقص کی کونسی قسم ہے اور تینوں حالتوں میں اس کا اعراب کیا ہو گا؟ اگر اسے مرکب منع صرف کہا جائے تو اس پر شبہ ہے کہ کیا ترکیب اضافی اور مزجی میں تباین اور منافات نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
2۔ شمائل، سیرت اور تاریخ سے متعلق مندرجہ ذیل کتب پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کتابوں پر اعتماد کرنے کا مطلب بھی کلی اعتماد نہیں ہے، بلکہ اکثری ہے، یعنی اگرچہ ان کتب میں بیان کردہ حالات و واقعات عموماً درست ہیں، تاہم کوئی اکا دکا واقعہ اس میں بھی ایسا ہو سکتا ہے جو درست نہ ہو۔
الشفاء، لقاضی عیاض، (ت: ۵۴۴ھ)۔ سبل الہدیٰ والرشاد ،لمحمد بن یوسف الصالحی،ت: (۹۴۲ھ)
الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجرؒ،(ت:۸۵۴ھ)۔ زاد المعاد ، لابن قیمؒ(ت:۷۵۱ھ)
تاریخ الاسلام، للحافظ المؤرخ شمس الدین، محمد بن احمد الذہبی، (ت:۷۴۸ھ) البدایہ النہایہ ، لابن کثیرؒ، (ت:۷۷۴ھ) تاریخ ابن خلدون (ت:۸۰۸ھ) تاریخ خلیفہ بن خیاط ،(ت: ۲۴۰ھ)
3۔دارقطنی اصل میں دارالقطن (مرکب اضافی) تھا، پھر اس کے آخر میں “یاء ” نسبتی بڑھا دی گئی اور پورا مجموعہ ایک علم مشخص، (الدار،قطنی) بن گیا اور اب بعلبک اور حضرموت کی طرح مرکب منع صرف، (ترکیب امتزاجی ) بن گیا۔ اب اس کے جزء اول، (الدار) کا اعراب تینوں حالتوں میں مبنی بر فتحہ ہوگا اور آخر جزء، (قطنی) عامل کے بدلنے سے بدلتا رہے گا۔
اور رہی یہ بات کہ ترکیب امتزاجی اور ترکیب اضافی میں تباین اور منافات ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اشکال تب ہوتا جب ہم اب بھی اس کو دارالقطن، (مرکب اضافی) بنائے رکھتے، لیکن جب یہ ایک علم مشخص بن گیا تو اس کی وہ ترکیب اضافی والی حیثیت ختم ہو گئی اور صرف ایک احتمال، (مرکب منع صرف کا ) رہ گیا، لہٰذا کوئی اشکال نہیں۔
تذکرۃ الحفاظ للذہبی (1/204) میں ہے:
الواقدي هو محمد بن عمر بن واقد الأسلمي مولاهم أبو عبد الله المدني الحافظ البحر: لم أسق ترجمته هنا لاتفاقهم على ترك حديثه وهو من أوعية العلم لكنه لا يتقن الحديث وهو رأس في المغازي والسير ويروي عن كل ضرب
سیر اعلام النبلاء (8/165) میں ہے:
وقد تقرر أن الواقدي ضعيف، يحتاج إليه في الغزوات والتاريخ، ونورد آثاره من غير احتجاج، أما في الفرائض، فلا ينبغي أن يذكر، فهذه الكتب الستة، و (مسند أحمد) ، وعامة من جمع في الأحكام، نراهم يترخصون في إخراج أحاديث أناس ضعفاء، بل ومتروكين، ومع هذا لا يخرجون لمحمد بن عمر شيئا، مع أن وزنه عندي أنه – مع ضعفه – يكتب حديثه ويروى؛ لأني لا أتهمه بالوضع، وقول من أهدره، فيه مجازفة من بعض الوجوه، كما أنه لا عبرة بتوثيق من وثقه: كيزيد، وأبي عبيد، والصاغاني، والحربي، ومعن، وتمام عشرة محدثين، إذ قد انعقد الإجماع اليوم على أنه ليس بحجة، وأن حديثه في عداد الواهي
الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع، للخطیب البغدادی (2/213) میں ہے:
وأما أخبار الصالحين وحكايات الزهاد والمتعبدين ومواعظ البلغاء وحكم الأدباء فالأسانيد زينة لها وليست شرطا في تأديتها
وفیات الاعیان (3/299) میں ہے:
والدارقطني: بفتح الدال المهملة وبعد الألف راء مفتوحة ثم قاف مضمومة وبعدها طاء مهملة ساكنة ثم نون، هذه النسبة إلى دار القطن وكانت محلة كبيرة ببغداد
الاہتمام بالسنۃ النبویۃ ، لمحمد الثانی بن عمر موسیٰ(ص54) میں ہے:
«ودرج على ضبط (الدارقطني) بضم الراء، فكأنه يتوهم أنها محل الإعراب، بينما إعرابه إعراب المركب المزجي؛ فحكم الجزء الأول منه أن يفتح آخره، ويقع الإعراب على آخر الجزء الثاني كما ذكروا في (حضرموت) و (بعلبك) ونحوهما»
اوضح المسالک ، لابن ہشام (1/132) میں ہے:
ومركب مزجي، وهو: كل كلمتين نزلت ثانيتهما منزلة تاء التأنيث مما قبلها، فحكم الأول أن يفتح آخره، كـ “بعلبك” و”حضرموت” إلا إن كان ياء فيسكن، كـ “معد يكرب” و”قالي قلا” وحكم الثاني أن يعرب بالضمة والفتحة، إلا إن كان كلمة “ويه” فيبنى على الكسر، كـ “سيبويه” و”عمرويه”
شرح ملا جامی (ص:211) میں ہے:
(المركبات) …. (كل اسم) …. (من) ….. (ليس بينهما نسبة) …. (فإن تضمن) …. (الثاني حرفًا)…. (بنيا) ….. (كخمسة عشر) …. (و) ….. (حادي عشر وأخواتها) … (إلا اثني عشر)…… (وإلا) أي وإن لم يتضمن الثاني حرفًا، (أُعرب الثاني) مع منع صرفه إن لم يكن قبل التركيب مبنيًا، (كبعلبك، وبني الأول) للتوسط المانع من الإعراب، وعلى الفتح لأنه أخف (في الافصح) أي إعراب الثاني مع منع الصرف، وبناء الأول إنما هو في أفصح اللغات، وفيه لغتان أخريان: إحداهما إعراب الجزأين معًا، وإضافة الأول إلى الثاني، ومنع صرف المضاف إليه، وأخراهما إعراب الجزأين معًا، وإضافة الأول إلى الثاني، وصرف الثاني.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved