- فتوی نمبر: 36-362
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حرمت مصاہرت
استفتاء
میرا نام زید ہے۔ میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ میرے سسر نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر زور زور سے دبایا اور ایسا کئی بار ہوا، پھر میری گردن چومی ، گردن سے نیچے بھی جانے کی کوشش کی، میرےکمبل میں آجانا، اور پھر اپنی ٹانگوں کو میری ٹانگوں پربلاحائل پھیرنا، اور میرے سینے کو پکڑنا، جس پر میں نے انہیں روک دیا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں، رک جائیں۔کیا اس سے میری بیوی مجھ پر حرام ہوگئی ہے؟
واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ واقعہ تقریباً چار سال پہلے ہوا تھا، پھر میرے والد نے کہا تھا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی میں معافی چاہتا ہوں اس طرح ہماری صلح ہو گئی تھی، اس کے بعد ہم میاں بیوی کی طرح رہنے لگے، اور اس کے بعد میری ایک بیٹی بھی ہوئی ہے ۔ اب میری اپنی گھر والی سے لڑائی ہوئی، تو لڑائی کے بعدیہ پھر اس واقعہ کو سامنے لائی اس سے پہلے میری اپنے والد صاحب سے اس واقعہ سے متعلق تفصیلی گفتگو نہیں ہوئی تھی، جب یہ واقعہ پیش آیاتھااس وقت والد سے میں نے تفصیل نہیں پوچھی تھی بلکہ اب جب ہم میاں بیوی کی آپس میں لڑائی ہوئی اور بیوی یہ واقعہ پھرسےسامنےلائی توایک مفتی صاحب نے کہا کہ آپ کی بیوی آپ پر حرام ہوچکی ہے، توپھر میں نے اپنے والد سے تفصیل پوچھی۔والد نےبتایاکہ میں نے صرف پیشانی یا سر پر بوسہ دیا تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا اور جو میں نے بوسہ وغیرہ دیا وہ میں نے بری نیت سے نہیں دیا بلکہ اپنی بیٹی سمجھ کر ہی ایسا کیا، اور میرا غالب گمان بھی یہی ہے کہ میرے والد نے یہ سارا کچھ بری نیت سے نہیں کیا۔بلکہ بیٹی سمجھ کر ایساکیاہے۔
بیوی کابیان:
سوال میں جو کچھ لکھا ہے وہ سچ ہے، کئی دفعہ سسر نے مجھے رخسار پر بوسہ دیا، گردن پر بھی بوسہ دیتے تھے اور سینے سے اوپر کی جگہ پر بھی بوسہ دیتے تھے۔پیچھے سے آ کر پکڑ لیتے تھے۔ پہلے تو دو چار مرتبہ مجھے صرف شک ہوا، پھر جب انہوں نے مجھے زور سے سینے سے لگایا اور میری چھاتی کو پکڑنے کی کوشش کی،کپڑوں کے اندر اندرونی کپڑے بھی پہن رکھے تھے جس کی وجہ سے جسم کی حرارت نہیں پہنچ سکتی تھی تو میں نے کہا کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ تو کہنے لگے تمہیں اب پتا چلا ہے کہ میں کیا چاہتا ہوں؟ میں تم سے پیار کرتا ہوں، لیکن کسی کو مت بتانا، ہم دونوں کی عزت خراب ہوگی۔پہلے جب ہماری صلح ہوئی تھی، مجھے مسئلے کا علم نہیں تھا کیونکہ ہم نے ایک مفتی صاحب سے طلاق کا مسئلہ پوچھا تھا۔ میرے شوہر نے مجھے طلاق دی تھی اور اس کے ساتھ سسر کی حرکتوں کا بھی ذکر ہوا تھا، تو انہوں نے ہماری صلح کروائی تھی اور کہا تھا کہ تجدید نکاح کر لو میں یہی سمجھی کہ سسر نے جو کچھ کیا ہے تجدید نکاح سے اس کا ازالہ ہوجائے گا لیکن اب دوبارہ لڑائی ہوئی تو میں نے اسی مفتی صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے سسر کی حرکتوں کی تفصیل اس وقت اتنی وضاحت سے نہیں بتائی تھی۔ آپ تو اسی وقت سے اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں شوہر کے حق میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی تاہم اگربیوی اپنے دعوے میں سچی ہےتو اس کے حق میں حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی ہے اور اس کے لیے شوہر کے پاس رہنا اور میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا جائز نہیں۔ البتہ موجودہ دور میں بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں بیوی شوہر پر حرام نہ ہوگی اور بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہے۔ اس کی تفصیل “فقہ اسلامی “مصنفہ حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ میں ہے لہذا اگر بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی مجبوری ہو تو وہ اس پر عمل کرسکتی ہے ورنہ وہ اپنے آپ کو شوہر پر حرام ہی سمجھے۔
توجیہ: اگر سسر نے بہو کو پیشانی یا سر پر بوسہ دیا ہو تو شوہرکے حق میں حرمت مصاہرت ثابت ہونے کے لئےیہ شرط ہے کہ بوسہ شہوت سے ہو اورشوہربھی اس بات کی تصدیق کرتاہوکہ میرے والد نے شہوت کے ساتھ بوسہ دیا ہے ۔جبکہ مذکورہ صورت میں یہ شرط نہیں پائی گئی لہٰذا شوہر کے حق میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی اوربیوی کےحق میں حرمت مصاہرت اس لئے ثابت ہےکہ اس کا دعویٰ ہے کہ سسرنے اسے رخسار پربوسہ دیاہے اوررخسارپر بوسہ دینے سےحرمت ثابت ہونے کے لئےشہوت کاہوناشرط نہیں ہے۔ نیز بیوی کے بیان میں ہے کہ سسر نے خود شہوت کا اقرار بھی کیا ہے لہٰذا بیوی کے حق میں حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی۔
شامی (4/121) میں ہے:
(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي (إلا أن يقوم إليها منتشرا) آلته (فيعانقها) لقرينة كذبه أو يأخذ ثديها (أو يركب معها) أو يمسها على الفرج أو يقبلها على الفم
(قوله: فهو مصدق) لأنه ينكر ثبوت الحرمة والقول للمنكر
شامی (4/494) میں ہے:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه
البحر الرائق (3/107) میں ہے:
فما في الذخيرة من أن الشيخ الإمام ظهير الدين يفتي بالحرمة في القبلة على الفم والذقن والخد والرأس وإن كان على المقنعة محمول على ما إذا كانت المقنعة رقيقة تصل الحرارة معها
النہر الفائق (2/ 192) میں ہے:
«وفي (الفتح) يتراءى إلحاق الخدين بالفم وفي (البزازية) أخذ ثديها أو ركب معها على دابة أو قام إليها منتشراً أو عانقها وقبلها وزعم عدم الشهوة لا يصدق»
امدادالاحکام(2/778)میں ہے:
سوال: ایک شخص نے اپنے لڑکے کی عورت سے فعل بد کرنے کی نیت سے اپنے دل کا راز بیان کیا اور کسی وقت موقع پا کر اس عورت سے جو اس کے بیٹے کی زوجہ ہے اس کا ہاتھ پکڑا لیکن دل کی مراد پوری نہ کر سکا اور کتنی راتوں کو اس عورت کے بستر کو خالی پاکر اس کے بستر پر جا کر سویا اور اس کے بدن پر ہاتھ رکھا لیکن جب عورت مذکور نیند سے بیدار ہوئی فوراً اٹھ کر بھاگی اور اپنی حرمت وعزت کو بچائی کسی وقت وہ مرد اس کو اپنے قابو میں نہ لاسکا اور ایک بار اس عورت کو ان کے والد کے مکان سے لاتے وقت اسی مرد مذکور نے یعنی اس عورت کے خاوند کے والد نے راستہ میں اکیلا پاکر اس دن بھی اپنے دل کی باتیں بیان کیں اور بعض بعض دفعہ ہاتھ پکڑا لیکن عورت نے اپنی عزت کو بچائی اور مرد مذکور اس معاملہ کا انکار کرتے ہوئے قرآن شریف کی قسم کھانے کا وعدہ کرتا ہے۔ اب اس عورت کے بارے میں شریعت محمدیہ کا کیا حکم ہے؟ یعنی اس عورت کو رکھنا اس مرد کے لڑکے کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اگر رکھے تو اس کے واسطے نکاح دوبارہ کرنا ہوگا یا نہیں. نیز اس عورت پر طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
الجواب……………………………: قال في البحر وفي فتح القدير: وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها ويقع في أكبر رأيه صدقها وعلى هذا ينبغي أن يقال: إن فى مسه إياها لاتحرم على أبيه وإبنه الا أن يصدقاها أو يغلب على ظنهما صدقها ثم رأيت عن أبي يوسف ما يفيد ذالك اه.
قلت: ولما كان ثبوت الحرمة مشروطا بالتصديق وإذا فات الشرط فات المشروط فلا تثبت الحرمة بدون التصديق وإذا لم تثبت يحل للمرأة القيام مع زوجها ولكن يحتمل أن يكون المراد الثبوت قضاء ويؤيده ما في الفتح بعد كلامه المذكور ثم رأيت ابا يوسف أنه ذكر في الامالى، قال امرأة: قبلت إبن زوجها وقالت كان عن شهوة إن كذبها الزوج لايفرق ببنهما ولو صدقها وقعت الفرقة اه(٣/١٣٠)
وأما ديانة فينبغي أن تفتى المرأة بحرمة تمكينها إياه على نفسها فلا تمكنه بالرضاء وتسعى في الامتناع منه بالهرب أو بالخلع كما إذا طلقها ثلاثا وأنكر تطليقه إياها ولا بينة لها فإنه لا يفرق بينهما قضاء ويفتى في حق المرأة بالتحريم ووجوب الامتناع منه.
خلاصہ یہ کہ صورت مسؤلہ میں اگر عورت کو خسر کے متعلق شہوت وبدنیتی کا دعوی ہے کہ اس نے شہوت سے اس کو مس کیا ہے اور عورت کے پاس بینہ نہیں ہے اور خسر اور شوہر دونوں عورت کی تکذیب کرتے ہیں تو قضاء اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی اور ظاہر میں نکاح صحیح ہے لیکن چونکہ عورت کو اپنا سچا ہونا معلوم ہے اس لیے اس کو اپنے حق میں اس نکاح کو فاسد سمجھنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو شوہر سے علیحدہ ہوجائے اور اپنی رضا سے شوہر کو اپنے اوپر قابو نہ دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
حیلہ ناجزہ (ص:89) میں ہے:
دہن اور رخسار پر بوسہ دینے، اور شرمگاہ یا عضو مخصوص چھونے اور پستان چھونے کے دعویٰ میں تو صرف ان افعال کی شہادت دینے سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی، شہوت کا انکار مسموع نہ ہوگا اور تفریق کا حکم کر دینا لازم ہوگا۔
حیلہ ناجزہ(ص:91) میں ہے:
اگر عورت کا دعویٰ صحیح تھا مگر شہادت معتبرہ پیش نہ ہو سکی اور خاوند نے حلف کر لیا اس واسطے قاضی نے مقدمہ خارج کر دیا یعنی نہ تفریق کی اور نہ زوجیت میں رہنے کا حکم دیا تو اس عورت کے لیےجائز نہیں کہ شوہر کو اپنے نفس پر قدرت دے بلکہ خلع وغیرہ کے ذریعہ اپنے آپ کو اس سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرے اور اگر کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو جب تک اپنا بس چلے اس شوہر کو پاس نہ آنے دے ( كما صرح به في الدر المختار و غيره في من سمعت من زوجهاالطلاق الثلاث ولا بينة لها)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved