• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

’’اگر آج سے ٹھیک ایک ماہ تک میں نے تم سے رجوع (مباشرت) کیا تو تم مجھ پر حرام ہو‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم

استفتاء

مسئلہ نمبر1۔ایک بندے نے غصے میں بیوی سے کہا کہ ’’اگر آج سے ٹھیک ایک ماہ تک میں نے تم سے رجوع (مباشرت) کیا  تو تم مجھ پر حرام ہو‘‘ ۔

مسئلہ نمبر 2 ۔ مسئلہ نمبر 1 کے الفاظ ہی خاوند نے ادا کیے اور بیوی امید سے ہے۔

اب اگر خاوند رجوع (مباشرت) کرتا ہے تو دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ دونوں صورتوں میں اگر شوہر نے ایک ماہ کے اندر اندر مباشرت کر لی تو بیوی  شوہر پر حرام ہوجائے گی تاہم دوبارہ نیا نکاح کرسکتے ہیں جس میں گواہ بھی ہوں اور مہر بھی مقرر ہو۔

توجیہ: شوہر نے طلاق کو شرط کیساتھ معلق کیا ہے اس لیے جب شرط پائی  جائے گی تو طلاق  واقع ہوجائے گی اور طلاق بائن اس لیے ہوگی کیونکہ لفظ “حرام” سے بائنہ طلاق واقع ہوتی ہے۔ البتہ اگر ایک مہینہ تک ہمبستری نہ کی تو شرط ختم ہوجائے گی اور اس کے بعد ہمبستری کرنے سے طلاق واقع نہ ہوگی۔

شامی (5/80) میں ہے:

(قال لامرأته: أنت علي حرام) ونحو ذلك كأنت معي في الحرام (إيلاء إن نوى التحريم، أو لم ينو شيئا، وظهار إن نواه، وهدر إن نوى الكذب) وذا ديانة، وأما قضاء فإيلاء قهستاني (وتطليقة بائنة) إن نوى الطلاق وثلاث إن نواها ويفتى بأنه طلاق بائن (وإن لم ينوه) ‌لغلبة ‌العرف

(قوله: ‌لغلبة ‌العرف) إشارة إلى ما في البحر، حيث قال: فإن قلت إذا وقع الطلاق بلا نية ينبغي أن يكون كالصريح فيكون الواقع به رجعيا قلت: المتعارف به إيقاع البائن، كذا في البزازية اهـ أقول: وفي هذا الجواب نظر فإنه يقتضي أنه لو لم يتعارف به إيقاع البائن يقع الرجعي كما في زماننا، فإن المتعارف الآن استعمال الحرام في الطلاق، ولا يميزون بين الرجعي والبائن فضلا عن أن يكون عرفهم فيه البائن، وعلى هذا فالتعليل بغلبة العرف لوقوع الطلاق به بلا نية، وأما كونه بائنا فلأنه مقتضى لفظ الحرام لأن الرجعي لا يحرم الزوجة ما دامت في العدة وإنما يصح وصفها بالحرام بالبائن، وهذا حاصل ما بسطناه في الكنايات فافهم

ہندیہ (1/420) میں ہے:

و اذا اضافه الى شرط وقع عقيب الشرط اتفاقا

فتاویٰ محمودیہ (12/516) میں ہے:

“مجھ پر حرام ہے” یہ لفظ  اگرچہ اپنے لفظ کے اعتبار سے کنایہ ہے مگر دلالت عرف کی بناء پر اس سے بلا نیت طلاق بائنہ واقع ہوجاتی ہے ….. الخ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved