- فتوی نمبر: 32-337
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > قسم کے کفارہ کا بیان
استفتاء
ایک شخص نے قسم کھائی کہ میری ایک کروڑ مرتبہ قسم کہ میں یہ کام نہیں کروں گا لیکن پھر بھی اس نے وہ قسم توڑ دی اب آیا وہ ایک قسم کا کفارہ ادا کرے گا یا ایک کروڑ قسموں کا کفارہ ادا کرے گا ؟
وضاحت مطلوب ہے کہ کام کیا تھا اور قسم کے الفاظ کیا تھے ؟ اور زبان سے الفاظ بولے تھے یا دل میں ہی نیت کی تھی؟
جواب وضاحت: زبان سے الفاظ بولے تھے اور الفاظ یہ تھے ” میں قسم کھاتا ہوں ایک کروڑ مرتبہ کہ میں یہ کام نہیں کروں گا” لیکن پھر قسم کو توڑ دیا،
تنقیح: ایک شخص نے کہا کہ میں ایک کروڑ مرتبہ قسم کھاتا ہوں کہ میں اپنے گھر کے اس نمبر پر نہ کال کروں گا نہ میسج کروں گا لیکن پھر مجبوراً کسی مجبوری کے تحت اسے اسی نمبر پر کال کرنی پڑ گئی تو اس کا کفارہ کیا ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بہتر تو یہ ہے کہ ہر قسم کا الگ الگ کفارہ دے البتہ اگر گنجائش نہ ہو تو ایک کفارہ بھی کافی ہو جائے گا اور کفارہ یہ ہے کہ دس فقیروں(مستحق زکوۃ لوگوں) کو دو وقت کھانا کھلا دیں یا دس فقیروں کو فی فقیر پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دیدیں یا دس فقیروں کو ایک ایک جوڑا کپڑا دیدیں۔ اگر آپ ایسے غریب ہیں کہ نہ تو کھانا کھلا سکتےہیں اور نہ کپڑا پہنا سکتےہیں تو لگاتار تین روزے رکھ لیں۔
درالمختار مع ردالمحتار(505/5) میں ہے:
“و في البحر عن الخلاصة والتجريد: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين، والمجلس والمجالس سواء؛
في الشامية:(قوله: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين) وفي البغية: كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع. وقال شهاب الأئمة: هذا قول محمد. قال صاحب الأصل: هو المختار عندي. اهـ. مقدسي، ومثله في القهستاني عن المنية.
و في تقريرات الرفعي:
( قوله : قال صاحب الأصل هو المختار عندي إلخ) لايخفى أن كلاً من البغية و المنية للزاهدي، و معلوم أن ما انفرد به لايعول عليه، فلايعتمد على القول بالتداخل بل يعتمد على ما ذكره غيره من عدم التداخل حتى يوجد تصحيح لخلافه ممن يعتمد عليه في نقله، و مما يدل لتعددها ما ذكره الفتح أول الحدود: أن كفارة الإفطار المغلب فيها جهة العقوبة حتى تداخلت، و إن كفارة الأيمان المغلب فيها جهة العباد اهـ و في الهندية : إذا قال الرجل: و الله و الرحمن لاأفعل كذا كانا يمينين حتى إذا حنث كان عليه كفارتان في ظاهر الرواية اهـ، فعلم أن التعدد في ظاهر الرواية.
فتاویٰ ہندیہ (3/146) میں ہے:
الكفارة وهي احد ثلاثة اشياء ان قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار او كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وادناه ما يجوز فيه الصلاة او اطعامهم والاطعام فيها كالاطعام في كفارة الظهار….فان لم يقدر على احد هذه الاشياء الثلاثة صام ثلاثة ايام متتابعات
تنویر الابصار (3/523,524) میں ہے:
وكفارته تحرير رقبة او اطعام عشرة مساكين او كسوتهم ….وان عجز عنها كلها صام ثلاثة ايام ولاء.
احسن الفتاویٰ(5/495) میں ہے:
سوال:اگر کسی نے آئندہ کوئی کام کرنے یا نہ کرنے پر ایک ہی مجلس میں بلکہ ایک ہی کلام میں کئی بار قسم اٹھائی تو اس کو توڑنے پر ایک ہی کفارہ واجب ہوگا یا کہ جتنی بار قسم اٹھائی ہر ایک پر مستقل کفارہ واجب ہے؟
الجواب: تعدد ِ یمین پر کفارہ کا تعدد وتوحد دونوں قول ہیں ، ثانی اوسع وایسر اور اول راجح واشہر ہونے کے علاوہ احوط بھی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved