- فتوی نمبر: 36-123
- تاریخ: 18 اگست 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > تبرکات و مقدس اشیاء
استفتاء
عورت کا گلے میں اللہ اور نبیﷺ کا نام مبارک ڈالنا کیسا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
چونکہ اس کا پورا احترام رکھنا مشکل ہوتا ہے اس لیے احتیاط کریں۔
الکواکب الدراری (2/24) میں ہے:
قال كتب النبى صلى الله عليه وسلم كتابا – أو أراد أن يكتب – فقيل له إنهم لا يقرءون كتابا إلا مختوما. فاتخذ خاتما من فضة نقشه محمد رسول الله. كأنى أنظر إلى بياضه فى يده. فقلت لقتادة من قال نقشه محمد رسول الله قال أنس
قوله (فقلت) أي قال شعبة لقتادة وفي الحديث جواز ختم الكتاب واتخاذ الخاتم واستعمال الفضة للرجال عند التختم ونقش الخاتم ونقش اسم صاحب الخاتم ونقش اسم الله تعالي فيه بل فيه كونه مندوبا
مرقاۃ المفاتیح (1/378) میں ہے:
(عن أنس قال: كان النبي) : وفي نسخة: رسول الله (- صلى الله عليه وسلم إذا دخل الخلاء) : أي: أراد دخوله (نزع) : أي: أخرج من أصبعه (خاتمه) : بفتح التاء، وقيل بكسرها لأن نقشه، محمد رسول الله، وفيه دليل على وجوب تنحية المستنجي اسم الله واسم رسوله والقرآن كذا قاله الطيبي. قال الأبهري: ويعم الرسل. وقال ابن حجر: استفيد منه أنه يندب لمريد التبرز أن ينحي كل ما عليه معظم من اسم الله تعالى أو نبي أو ملك فإن خالف كره اهـ. وهو الموافق لمذهبنا
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص: 54) میں ہے:
عن أنس قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل الخلاء نزع خاتمه أي لأن نقشه محمد رسول الله قال الطيبي فيه دليل على وجوب تنحية المستنجي اسم الله تعالى واسم رسوله والقرآن اهـ وقال الأبهري وكذا سائر الرسل اهـ وقال ابن حجر استفيد منه أنه يندب لمريد التبرز أن ينحى كل ما عليه معظم من اسم الله تعالى أو نبي أو ملك فإن خالف كره لترك التعظيم اهـ وهو الموافق لمذهبنا كما في شرح المشكاة قال بعض الحذاق ومنه يعلم كراهة استعمال نحو ابريق في خلاء مكتوب عليه شيء من ذلك …….. ثم محل الكراهة إن لم يكن مستورا فإن كان في جيبه فإنه حينئذ لا بأس به
ہندیہ(1/50) میں ہے:
ويكره أن يدخل في الخلاء ومعه خاتم عليه اسم الله تعالى أو شيء من القرآن.
آپ کے مسائل اور ان کا حل (3/162) میں ہے:
سوال: ایسے لا کٹ جن پر لفظ” اللہ ” کندہ ہوتا ہے انہیں ہر وقت گلے میں پہنے رہنا اور پہن کر باتھ روم وغیرہ میں جانا جائز ہے ؟کیا اس طرح خدائے بزرگ و برتر کے نام کی بے ادبی نہیں ہوتی ؟
جواب : بیت الخلاء میں جانے سے پہلے ان کو اتار دینا چاہیے۔
مسائل بہشتی زیور (2/462) میں ہے:
تعویذ کپڑے میں لپٹا ہوا ہو پھر اگر وہ گلے میں پڑا ہو تو بیت الخلاء میں داخل ہوتے ہوئے اس کو اتارنا ضروری نہیں۔
سونے چاندی اور ان کے زیورات کے اسلامی احکام ، مصنفہ : حضرت مفتی عبدالواحد صاحبؒ (ص:101) میں ہے:
سوال: سونے اور چاندی کے ایسے لاکٹ بھی بنتے ہیں جن پر قرآنی آیات اور اللہ تبارک و تعالی کا نام لکھا ہوا ہوتا ہے ایسے لاکٹوں کا بنانا، بیچنا اور پہننا جائز ہے کہ نہیں؟ اور اگر جائز ہے تو ان کے بنانے کے لیے آگ پر تپانا پڑتا ہے اور تیزاب سے اجالنا پڑتا ہے۔ آیا قرآنی آیات اور اللہ کا نام لکھے ہوئے لاکٹوں کو آگ پر تپانا جائز ہے ؟
جواب : ایسے لاکٹ بنانا اور ان کو آگ پر تپانا اور تیزاب سے چمکانا فی نفسہٖ ان سب کی گنجائش ہے لیکن لوگوں میں اب عام طور سے وہ ادب و احترام نہیں ہے جو ایسے لاکٹوں کے استعمال میں ہونا چاہیے ۔قرآنی آیات کے لاکٹ کو بے وضو استعمال کرنا جائز نہیں ، نیز اس کو اور اللہ کے نام والے لا کٹ کو پہن کر بیت الخلا میں جانا جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved