- فتوی نمبر: 34-382
- تاریخ: 18 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > زکوۃ ادا کرنے کا بیان
استفتاء
میں نے تہذیب بیکری کے گارڈ کو ایک ہزار زکوۃکی نیت سے دئیے اور ایک ہزار اسلام آباد میں ایک سکیورٹی گارڈ کو بھی دئیے مجھے ان کی حالت معلوم نہیں ہے اور نہ میں نے اس کی معلومات کیں لیکن وہ اپنی ظاہری صورت حال سے حاجت مند نظر آر ہے تھے اور کرسچن بھی نہیں تھے۔ مجھے بتا دیں کہ یہ پیسے دینا میرے لیے بطور زکوة کفایت کر ینگے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جن دو شخصوں کو آپ نے زکوۃ دی ہے وہ چونکہ ظاہری صورتحال سے حاجت مند نظر آرہے تھے اس لیے زکوٰۃ ادا ہوگئی۔
شامی (2/ 352) میں ہے:
«(قوله: دفع بتحر) أي اجتهاد وهو لغة الطلب والابتغاء، ويرادفه التوخي إلا أن الأول يستعمل في المعاملات، والثاني في العبادات. وعرفا طلب الشيء بغالب الظن عند عدم الوقوف على حقيقته نهر (قوله: لمن يظنه مصرفا) أما لو تحرى فدفع لمن ظنه غير مصرف أو شك ولم يتحر لم يجز حتى يظهر أنه مصرف فيجزيه في الصحيح خلافا لمن ظن عدمه، وتمامه في النهر.
وفيه: واعلم أن المدفوع إليه لو كان جالسا في صف الفقراء يصنع صنعهم أو كان عليه زيهم أو سأله فأعطاه كانت هذه الأسباب بمنزلة التحري كذا في المبسوط حتى لو ظهر غناه لم يعد»
مسائل بہشتی زیور (1/363) میں ہے:
مسئلہ: اگر کسی پر شبہ ہو کہ معلوم نہیں مالدار ہے محتاج ہے تو جب تک تحقیق نہ ہو جائے اس کو زکوۃ نہ دے۔ اگر بے تحقیق کیے دی تو دیکھو دل زیادہ کدھر جاتا ہے۔ اگر دل یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ فقیر ہے تو زکوۃ ادا ہوگئی اور اگر دل یہ ہے کہ وہ مال دار ہے تو زکوۃ ادا نہیں ہوئی پھر سے دے۔ لیکن اگر دینے کے بعد معلوم ہوجائے کہ وہ غریب ہی ہے۔تو پھر سے نہ دے زکوۃ ادا ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved