- فتوی نمبر: 36-237
- تاریخ: 29 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > متفرقات خاندانی معاملات
استفتاء
بیان کیا جاتا ہے میرے والد صاحب زید 19/3/7 کو وفات پاگئے تھے ۔
ان کے3 بیٹے ،2 بیٹیاں اور بیوہ ان کی پراپرٹیوں کے وارث بنے ۔ ایک پراپرٹی جو***میں تھی اسے بیچ کر *** اسکیم میں پراپرٹی خرید لی گئی ہے۔ اس پر اپرٹی کو بیچتے وقت ہماری والدہ ( بیوہ زید ) ہماری 2 بہنیں (زید کی بیٹیاں) وراثتی حق سے دستبردار ہوگئی تھیں جس کے بعد ہم تین بھائی خالد ،بکر اور عمر اس پراپرٹی کے واحد مالک تھے۔ اور ہمیں یہ حق تھا کہ ہم اس کو بیچ سکتے ہیں ۔ دستبرداری کے کاغذ ساتھ لف ہیں ۔
مکان سے متعلق دستبرادری نامہ کی متعلقہ عبارت :
ہم چاہتی ہیں کہ مقرہ نمبر 1 اپنے بیٹوں اور مقرہ نمبر 2 اور 3 اپنے حصہ سے اپنے بھائیوں خالد، بکر اور عمر کے حق میں دستبردار ہو کر انہیں مالک بنادیں ۔ چنانچہ دریں وقت بقائمی ہوش وحواس خمسہ وثبات عقل ہم اپنے مکان مذکورہ بالا سے حصہ داران مالکان نو خیز جاوید ، ناصر احمد و محمد عظیم کے حق میں بحصہ برابر دستبردار ہوگئے ہیں۔اب یہ تینوں مکان کے مالک و قابض ہوگئے ہیں ۔ قبضہ موقع پر مقر الیہان کے حوالہ کردیا ہے ۔ اب ہمارا یا ہمارے ورثاء کا مکان سے کوئی تعلق نہیں رہا ۔۔۔۔
علاوہ ازیں ایک کمرشل پراپرٹی واقع***جو دکان اور گودام پر مشتمل تھی رقبہ 6 مرلہ ایک سوچور اسی مربع فٹ زید کے نام تھی ۔ اس میں بھی مذکورہ بالا وارثین ہی تھے ۔ اس میں سے بھی بہنوں اور والدہ نے 2020۔11۔30 کو فرد برائے دستبرداری پٹواری واجد حلقہ ***سے خود جا کرsub Registrar Data Ganj Bakhsh town ( سب رجسٹرار داتا گنج بخش ٹاؤن) سے حاصل کی اور تینوں بھائیوں کے حوالے کی کہ وہ اس کی دستبرداری بنوالیں ۔ لہٰذا 2021۔01۔06 کو دستبرداری نامہ رجسٹر ڈ ہوگیا اور اس کی رو سے تینوں بھائی اس پراپرٹی کے واحد وارث و مالک قرار پائے اور اس کا انتقال پٹواری کے پاس ہوچکا ہے ۔
کمر شل پرپرٹی سے متعلق دستبرداری نامہ کی متعلقہ عبارت درج ذیل ہے :
لہٰذا بقائمی ہوش وحواس خمسہ بلا جبرو اکراہ غیرے حصہ دکان مذکورہ بدست و بحق حقیقی بیٹوں و بھائیوں مسمیان خالد، بکر اور عمر ساکنان ۔۔۔۔۔۔ کے حق میں دستبرادر ہوتے ہیں اور دستبرداری نامہ قطعی و دائمی ابدی تحریر و تصدیق کردیا ہے ۔۔۔۔۔ قبضہ حصہ دکان مذکورہ بالا موقع پر بحوالہ دست بردار گرہندگان کردیا ہے ۔ دست بردار گرہندگان حصہ دکان مذکورہ بالا کے بحصہ برابر مالکان و قابضان ہوگئے ہیں ۔ گویا اب ہمراہ حصہ دکان مذکورہ بالا ہمارا ور ہمارے وارثان و لواحقین کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اور نہ ہی آئندہ ہوگا ۔ دست بردار گرہندگان بروئے دستبرداری نامہ ہذا محکمہ مال میں اپنے نام ٹرانسفر کروائیں ۔
نوٹ : وراثت کی کاپی بھی ساتھ لف ہے ۔
سوال 1 : کیا یہ دستبرداری درست ہے ؟
سوال 2 : اگر درست ہے تو اب اگرہم اپنی بہنوں کو حصہ دینا چاہتے ہیں تو کس اعتبار سے ہو گا؟ کیا شرعی اعتبار سے دیں گے یا اپنی مرضی سے کم زیادہ بھی دے سکتے ہیں ؟
سوال 3 : اگر یہ دستبرداری درست نہیں تو جس دن سے ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا ہے اس دن سے جو پراپرٹی ہم نے استعمال کی ہے تو بہنوں کے حصے کے بقدر ان کو کرایہ وغیرہ دینا پڑے گا؟ اور جو پراپرٹی ( رہائشی مکان)بیچ کر نیا مکان بنایا گیا ہے اس مکان میں بہنوں کے حصے کے حوالے سے شریعت کیا کہتی ہے ؟
سوال 4 : مزید یہ کہ دستبرداری غلط ہونے کی صورت میں بہنوں کو لازما پیسے ہی دینے ہوں گے یاپیسوں کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں جائید اد اور زمین میں سے بھی حصہ دیا جا سکتا ہے ؟
نوٹ : بہنوں کا کہنا ہے کہ ہم سے یہ دستبرداری دھوکہ دہی یا ہماری رضامندی کے بغیر کروائی گئی ہے تو اس صورت میں شریعت کیا کہتی ہے کہ آیا یہ دستبرداری درست مانی جائے گی یا نہیں ؟
خدیجہ (بیوہ زید )کا بیان :
گھر کی دستبرادری کے کاغذات پر تو ہم نے خوشی سے سائن کیے تھے لیکن دوسری پراپرٹی کے کاغذات بھی ساتھ رکھ کر لاعلمی میں ہم سے سائن کروائے گئے ہیں ۔
عائشہ (بیٹی زید ) کا بیان :
ہم سے گھر والی پراپرٹی پر اس لیے سائن کروائے گئے تھے کہ تینوں بھائی اکٹھے رہیں گے لیکن اب تینوں الگ ہو کر اپنے حصے لے رہے ہیں اس لیے ہمیں بھی حصہ چاہیے ۔ اور ***روڈ والی پراپرٹی کا تو ہمیں پتہ بھی نہیں تھا کہ اس پر بھی سائن کروالیے گئے۔
فاطمہ (بیٹی زید ) کا بیان :
ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے ۔ ہم سے اکٹھے ہی ساری پراپرٹی پر سائن کروالیے گئے حالانکہ اس وقت ***روڈ کی پراپرٹی کا کوئی ذکر نہیں ہوا ۔ وکیل ہمارے بھائی کا دوست تھا اسی نے ہم سے سائن کروائے ۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہمارے بھائی ایسا بھی کرسکتے ہیں ۔اس لیے ہم نے کاغذات پڑھے بغیر سب پر ہی سائن کردیے ۔آج سے چند ماہ پہلے جب ان بھائیوں کا جھگڑا ہوا تو یہ بات نکلی کہ وہ پراپرٹی بھی ان کے نام ہوچکی ہے ۔ میرے بھائی کا وائس میسج بھی ہے جس میں اس نے اقرار کیا ہے کہ ہم نے ناجائز طریقہ سے بہنوں کا حصہ لیا تھا ۔میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہہ رہی ہوں کہ نہ وکیل نے سائن کرواتے وقت بتایا نہ عدالت میں جب ہم گئے وہاں ہمیں وضاحت کی گئی اور نہ پٹوار خانہ میں اس کی تفصیل بیان کی گئی صرف اتنا پوچھا گیا تھا کہ آپ یہ پراپرٹی ان کو دیتی ہیں ؟ یہ لوگ غلط بیانی کررہے ہیں۔ ہم سے یہ کہا گیا ہے کہ دکان میں اپنے حصہ کی جگہ پر دیوار کرلو اور وہ صرف ایک فٹ اور کچھ انچ جگہ ہے اور پیسے اگر یہ دیں گے تو توڑ توڑ کر دیں گے اس کا کیا فائدہ !
بکر ( فرزند زید ) کا بیان :
ان کو سب کچھ بتایا گیا تھا ۔ وکیل نے سائن کرواتے وقت بھی بتایا تھا ۔اسی طرح عدالت میں گئے وہاں بھی جج نے ان سے پہلے سارا پوچھا ۔ اور پٹوار خانہ میں بھی دونوں پراپرٹیوں کی الگ الگ فائل نکلوا کر ان کو سارا بتا کر سائن کروائے تھے ۔ لیکن اگر یہ اب بھی مطالبہ کرتی ہیں تو ***روڈ والی پراپرٹی میں ان کا حصہ دینے کے لیے تیار ہیں ہم نے ان سے کہا ہے کہ یا تو اپنے حصہ کی جگہ پر دیوار کروالو اور اگر پیسے چاہئیں تو اس کے لیے ہمیں مہلت دو ۔
عمر (فرزند زید ) کا بیان :
جس وقت یہ معاملات ہوئے تھے میری عمر 14 ،15 سال تھی ۔ میں اسی کمرے میں موجود تھا جہاں ان لوگوں نے سائن کیے ۔ وہاں اس وقت صرف **روڈ والی پراپرٹی کی بات ہورہی تھی ۔ گھر کی کوئی بات نہیں تھی ۔ اس کے بعد یہ عدالت گئیں وہاں بھی ان تینوں کو اندر بلا کر ان سے پوچھ کر سائن ہوئے ۔ پھر پٹوار خانے میں بھی دونوں پراپرٹیوں کی الگ الگ فائل نکلواکر سائن کروائے گئے تھے ۔یعنی انہیں ریلوے روڈ کی پراپرٹی کا بھی بتایا گیا تھا کہ اس کے پیپر بھی اس میں موجود ہیں ۔
خالد جاوید (فرزند زید ) کا بیان :
جو سوال میں مذکور ہے میرا بیان وہی ہے کہ ان تینوں کے علم میں لا کر ہی ان سے سائن کروائے گئے تھے لیکن اب وہ نہیں مان رہیں ۔ باقی جو فتوی ہوگا ہم تینوں بھائی اس کو مانیں گے ۔
بکر کا وائس میسج بنام عمر :
(فاطمہ کے بیان میں جس وائس میسج کا تذکرہ ہے ان کی طرف سے یہ وائس میسج فراہم کیا گیا ہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے )
عائشہ اور فاطمہ سے بات کرو ان سے کہو آپ نے اپنا حصہ لینا ہے ۔ آپ کی مرضی اپنا حصہ خالد کے حصہ میں ڈلوادو یا ہمارے حصہ میں ڈلوادو ۔۔۔۔۔ ہم نے ان کا حصہ دینا ہے اس (خالد ) نے ناجائز طریقہ سے ان کا حصہ لیا تھا ۔ میں اس وقت بھی راضی نہیں تھا کہ یہ کیا حرکت کررہا ہے ۔ اس نے کہا تھا کہ جب یہ جگہ بیچیں گے تب ان کو حصہ دےدیں گے۔ اگر جوائی (داماد) اٹھ گئے تو جس جگہ ہم بیٹھے ہیں وہ بھی ہمیں نہیں ملنی ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں گھر کی پراپرٹی میں سے بہنوں اور والدہ کا اپنے حصے سےخالد ، بکر اور عمر کے حق میں دستبرادر ہونا درست ہے لہٰذا اب یہ تینوں بھائی اس کے مالک ہوگئے ہیں ۔ اور ***روڈ کی پراپرٹی کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ دستبرادی نامہ پر اگر بہنوں اور والدہ نے لاعلمی میں دستخط کیے ہیں تو اس پراپرٹی میں سے ان کا حصہ ختم نہیں ہوا ۔ اور اگر دستخط کے وقت انہیں یہ معلوم تھا کہ وہ اس پراپرٹی میں سے بھی اپنا حصہ بھائیوں اور بیٹوں کے نام کررہی ہیں تو اب اس میں ان کا حصہ باقی نہیں ہے ۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں اگرچہ دستبرداری کا طریقہ اختیار کیا گیا جو کہ ابراء عن العین ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے لیکن دستبرادی کے کاغذات میں تملیک کے (خط کشیدہ)الفاظ موجود ہیں اور بھائیوں کے نام رجسٹری بھی کروادی گئی ہے جو کہ قبضہ کے قائم مقام ہوتی ہے لہٰذا تینوں بھائی اپنی بہنوں اور والدہ کے حصہ کے مالک بن گئے ہیں ۔نیز یہ اگرچہ ہبۃ المشاع کی صورت ہے جو کہ قابل تقسیم اشیاء میں بدون تقسیم باطل ہے لیکن اگر ہبہ اس چیز میں اپنے شریک کو کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے ۔
2۔ مکان میں سے اپنی صوابدید کے مطابق جتنا چاہیں دے سکتے ہیں جبکہ کمرشل پراپرٹی میں سے اگر انہوں نے اپنا حصہ بھائیوں کو نہیں دیا تھا تو اب ان کے شرعی حصہ کے بقدر دینا ضروری ہے۔
3۔مذکورہ صورت میں اگر بہنوں اور والدہ نے *** روڈ والی پراپرٹی میں سے اپنا حصہ بھائیوں اور بیٹوں کو نہ بھی دیا ہو تب بھی بھائیوں نے اتنا عرصہ جو بہنوں اور والدہ کے حصہ کو استعمال کیا ہے اس کا کرایہ دینا لازم نہیں ہے۔اورجو مکان بیچ کر اس کی جگہ دوسرا مکان بنایا ہے اس میں سے بھی حصہ دینا ضروری نہیں ہے کیونکہ بہنوں اور والدہ نے اس مکان میں سے اپنے حصے کا مالک تینوں بھائیوں کو بنادیا تھا ۔ تاہم اگر بھائی اپنی خوشی سے بہنوں کو اس میں سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ۔
توجیہ : کرایہ لینے کے لیے فریقین کا آپس میں معاہدہ کرنا ضروری ہے ، مذکورہ صورت میں چونکہ بہن بھائیوں کا آپس میں کوئی کرایہ کا معاہدہ نہیں ہوا تھا اس لیے بھائیوں کے ذمہ اس کا کوئی کرایہ نہیں ہے ۔
4۔بہنوں کا حق اصلا ً زمین میں ہے البتہ اگر وہ چاہیں تو اپنا حصہ کسی بھائی کو فروخت کرکے اس کے پیسے بھی لے سکتی ہیں ۔
1۔ تبیین الحقائق مع حاشیۃالشلبی(5/50)میں ہے:
:’’ولا يتصور الإبراء عن العين قال العلامةالشلبی(قوله ولا یتصورالابراء)ای لان الابراء عن الاعیان غیرالمضمونة لا یصح۔۔۔‘‘
فتاوی شامی (4/ 61) میں ہے :
«لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي»
امداد الاحکام (4/38) میں ہے:
اصل مذہب ہبۃ المشاع المنقسم میں (یعنی ایسی چیز کا ہبہ جو قابل تقسیم ہے اور تقسیم کرکے ہبہ نہیں کی گئی) یہی ہے کہ یہ ہبہ فاسد ہے مگر ایک روایت ہے کہ فساد ہبہ اس وقت ہے جبکہ اجنبی کو ہبہ کیا جائے اور شریک جائیداد کو ہبہ بدون تقسیم کے بھی صحیح ہے اور بعض نے اس کو مختار بھی کہاہے۔
قال في الدر: وفى الصيرفية عن العتابي، وقيل يجوز لشريكه وهو المختار
مگر یہ قول ظاہر مذہب کے خلاف ہے اس لیے بدون مجبوری کے اس پر عمل درست نہیں اور غالباً آجکل تقسیم جائیداد میں جس قدر خرچ اور پریشانی ہوتی ہے وہ مجبوری اور دشواری کی مد میں داخل ہے اس لیے اس صورت میں اگر اس روایت پر عمل کرکے شریک کے لیے ہبہ بدون تقسیم کے صحیح کہا جائے تو گنجائش ہے۔
امدادالاحکام (4/ 49 )میں ہے :
میرے خیال میں کسی شخص کو یہ معلوم ہوجانا کہ فلاں فلاں نمبر زمین کا میرا ہے اور اس کے نام داخل خارج کا غذات میں ہوجانا قبض عقار کے لیے کافی ہے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ورنہ تو اراضی مقبوضہ کا تحقق بہت کم ہوگا۔ و فيه من الحرج مالا يخفى
مسائل بہشتی زیور (2/333) میں ہے:
اور اگر وہ چیز (موہوبہ) ایسی ہے کہ تقسیم کرنے کے بعد بھی کام کی ہے جیسے زمین، گھر، کپڑے کا تھان، جلانے کی لکڑی، اناج غلہ، دودھ دہی وغیرہ تو بغیر تقسیم کیے ان کا دینا صحیح نہیں ہے جو اگرچہ اس شے میں اپنے شریک ہی کو دیا ہو ایک اور قول کے مطابق اپنے شریک کو ایسا ہبہ کرنا جائز ہے۔
3۔فتاوی شامی (4/ 337) میں ہے :
لو واحد من الشريكين سكن … في الدار مدة مضت من الزمن
فليس للشريك أن يطالبه … بأجرة السكنى ولا المطالبه
بأنه يسكن من الأول … لكنه إن كان في المستقبل
يطلب أن يهايئ الشريكا … يجاب فافهم ودع التشكيكا»
(قوله: بأجرة السكنى) أي ولو معدا للاستغلال؛ لأنه سكن بتأويل ملك فلا أجر عليه، نعم لو كان وقفا أو مال يتيم يلزمه أجر شريكه على ما اختاره المتأخرون .
4۔فتاوی عالمگیری (2/ 301) میں ہے :
وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار فشركة الجبر أن يختلط المالان لرجلين بغير اختيار المالكين خلطا لا يمكن التمييز بينهما حقيقة بأن كان الجنس واحدا أو يمكن التمييز بضرب كلفة ومشقة نحو أن تختلط الحنطة بالشعير أو يرثا مالا……. ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط، كذا في الكافي.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved