- فتوی نمبر: 32-352
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
شوہر نے بیوی کو کہا کہ “اگر تو نے فلاں کو کال یا میسج کیا تو میری طرف سے فارغ ہے “اب اگر عورت سوشل میڈیا یعنی ٹک ٹاک پر پرائیویسی کے بغیر کوئی پوسٹ شیئر کرے تو طلاق واقع ہو جائے گی ؟
وضاحت مطلوب ہے: (۱) سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ (۲) “پرائیویسی کے بغیر” سے کیا مراد ہے؟(۳)مذکورہ الفاظ سے شوہر کی طلاق کی نیت تھی یا نہیں؟ اور یہ الفاظ بولتے وقت غصہ تھا یا نہیں؟
جواب وضاحت: (۱) میرا ذاتی مسئلہ ہے۔(۲)”پرائیویسی کے بغیر” سے مراد یہ ہے کہ اگر لڑکی ٹک ٹاک پر کچھ اپلوڈ کرے تو سب کے پاس پوسٹ جاتی ہے جس کو میسج کرنے پر شوہر نے طلاق معلق کی ہے اس کے پاس بھی جا سکتی ہے۔(۳) غصہ تھا طلاق کی نیت کا پتا نہیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ٹک ٹاک پر پوسٹ شیئر کرنے سے بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی۔
توجیہ: اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو جب بھی شرط پائی جائے گی طلاق واقع ہوجائے گی۔اور ہمارے عرف میں ٹک ٹاک پر کچھ اپلوڈ کیا جائے تو اسے یہ نہیں کہا جاتا کہ فلاں شخص کو میسج کیا ہے لہٰذا شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
ہندیہ (1/240) میں ہے:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق
شامی(5/549) میں ہے:
الأصل أن الأيمان مبنية عند الشافعي على الحقيقة اللغوية، وعند مالك على الاستعمال القرآني، وعند أحمد على النية، وعندنا على العرف
(قوله وعندنا على العرف) لأن المتكلم إنما يتكلم بالكلام العرفي أعني الألفاظ التي يراد بها معانيها التي وضعت لها في العرف كما أن العربي حال كونه بين أهل اللغة إنما يتكلم بالحقائق اللغوية فوجب صرف ألفاظ المتكلم إلى ما عهد أنه المراد بها فتح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved