- فتوی نمبر: 26-139
- تاریخ: 21 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا شوہر غیر عورتوں سے تعلق رکھتا ہے، میں نے بار بار سمجھایا اور اپنی تسلی کے لیے اس سے ان الفاظ میں قسم بھی لی کہ ’’آئندہ میں کسی عورت سے زنا نہیں کروں گا، اگر کیا تو آپ کو بتا دوں گا، اگر نہ بتایا تو آپ میر ے نکاح سے فارغ‘‘ اب اگر میرا خاوند کسی عورت سے زنا کرے اور مجھے نہ بتائے اور کہے کہ میں نے بتانا ہے لیکن جب دل چاہے گا بتا دوں گا تو اس صورت میں میرے نکاح کی کیا حیثیت ہو گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر آپ کے شوہر نے زنا کیا اور آپ کو اپنے یا آپ کے مرنے سے پہلے پہلے بتا دیا تو قسم پوری ہو جائے گی اور آئندہ ان کے زنا کرنے کے بعد نہ بتانے سے آپ کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اور اگر آپ کے شوہر نے زنا کیا اور آپ کو اپنے یا آپ کے مرنے سے پہلے پہلے نہ بتایا تو میاں بیوی میں سے کسی ایک کی موت کی صورت میں روح نکلنےسےمتصل پہلے ایک بائنہ طلاق واقع ہو جائے گی اور نکاح ٹوٹ جائے گا جس کےدنیاوی احکامات یہ ہوں گے :
- شوہر کی موت کی صورت میں بیوی کی عدت ، عدت طلاق یعنی حاملہ نہ ہونے کی صورت میں تین حیض یاحاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل (بچہ پیدا ہونے) تک ہوگی ۔
- شوہر کی موت کی صورت میں بیوی کو شوہر کےچھوڑےہوئے مال سے حصہ نہیں ملےگا۔
- بیوی کی موت کی صورت میں شوہر کو بیوی کےچھوڑےہوئے مال سے حصہ نہیں ملےگا۔
توجیہ:اگر طلاق کو کسی کام کےنہ کرنےپر معلق کیا جائے اوراس کام کو نہ کرنے کی کوئی مدت متعین نہ کی جائے تو طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے جب اس کام کو کرنا ممکن نہ رہے اس لئےمذکورہ صورت میں جب تک قسم کھانے والا (شوہر) اور جس کو بتانے کی قسم کھائی ہے (بیوی) دونوں زندہ ہیں اس وقت تک بتانے کا امکان باقی ہےلہٰذا دونوں میں سے کسی ایک کی موت سے پہلےشوہر حانث نہ ہوگا اور طلاق واقع نہ ہو گی، اور زنا کرنے کے بعد نہ بتانے کی صورت میں جب دونوں میاں بیوی میں سے کسی ایک کی موت واقع ہو گی تو ایک بائنہ طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ لفظ ’’فارغ‘‘ طلاق کے لیے کنایہ اس وقت ہوتا ہے جب شوہر کے کلام میں ارادہ طلاق کا قرینہ موجود نہ ہو اور طلاق کے علاوہ دوسرے معنی کا احتمال بھی موجود ہو، مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے نکاح سے فارغ ہونے کی تصریح کر دی ہے لہذا کلام میں ارادہ طلاق کا قرینہ موجود ہونے کی وجہ سے یہ لفظ کنایہ نہیں رہا، پھر طلاق بائنہ اس وجہ سے واقع ہو گی کیونکہ نکاح سے فراغت نکاح ختم ہونے کے بعد ہوتی ہے اور نکاح طلاق بائنہ سے ختم ہوتا ہے۔
بحرالرائق(4/524)میں ہے:
كل فعل حلف أنه يفعله في المستقبل، وأطلقه، ولم يقيده بوقت لم يحنث حتى يقع الإياس عن البر مثل ليضربن زيدا أو ليعطين فلانة أو ليطلقن زوجته وتحقق اليأس عن البر يكون بفوت أحدهما فلذا قال في غاية البيان، وأصل هذا أن الحالف في اليمين المطلقة لا يحنث ما دام الحالف والمحلوف عليه قائمين لتصور البر فإذا فات أحدهما فإنه يحنث اهـ.
درمختارمع ردالمحتار(5/572)میں ہے:
حلف(ليأتينه)فهو أن يأتي منزله أو حانوته لقيه أم لا(فلو لم يأته حتى مات)أحدهما(حنث في آخر حياته)وكذا كل يمين مطلقة.
(قوله حنث في آخر حياته)أي حياة أحدهما،فلو كانت يمينه بالطلاق فماتت المرأة تبقى اليمين لامكان الإتيان بعد موتها، نعم لو كان الشرط طلاقها مثل إن لم أطلقك فأنت طالق ثلاثا يحنث بموتها أيضا لتحقق اليأس عن الشرط بموتها إذ لا يمكن طلاقها بعده.
بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:
وأما حكم الطلاق البائن فالطلاق البائن نوعان: أحدهما الطلقات، والثاني الطلقة الواحدة البائنة، والثنتان البائنتان، ويختلف حكم كل واحد من النوعين وجملة الكلام فيه أن الزوجين أما إن كانا حرين. وأما إن كانا مملوكين. وأما إن كان أحدهما حرا، والآخر مملوكا فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة وإن كان بائنا فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية.
بدائع الصنائع (200/3) میں ہے:
“إذا طلق امرأته ثم مات، فإن كان الطلاق رجعيًا انتقلت عدتها إلى عدة الوفاة سواء طلقها في حالة المرض أو الصحة وانهدمت عدة الطلاق، وعليها أن تستأنف عدة الوفاة في قولهم جميعاً؛ لأنها زوجته بعد الطلاق إذ الطلاق الرجعي لايوجب زوال الزوجية، وموت الزوج يوجب على زوجته عدة الوفاة؛ لقوله تعالى: {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجًا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرًا} [البقرة: 234] كما لو مات قبل الطلاق، وإن كان بائنًا أو ثلاثًا فإن لم ترث بأن طلقها في حالة الصحة لاتنتقل عدتها؛ لأن الله تعالى أوجب عدة الوفاة على الزوجات بقوله عز وجل: {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجًا يتربصن} [البقرة: 234] وقد زالت الزوجية بالإبانة، والثلاث فتعذر إيجاب عدة الوفاة فبقيت عدة الطلاق على حالها. وإن ورثت بأن طلقها في حالة المرض ثم مات قبل أن تنقضي العدة فورثت اعتدت بأربعة أشهر وعشر، فيها ثلاث حيض، حتى أنها لو لم تر في مدة الأربعة أشهر، والعشر ثلاث حيض تستكمل بعد ذلك.
امداد الاحکام (2/467) میں ہے:
سوال: ۔۔۔۔ میں نے والدہ کو جواب دیا کہ میری طرف سے تم بھی آزاد ہو اور وہ بھی آزاد ہے جب چاہو آؤ۔۔۔۔ اس وقت یہ الفاظ اس نیت سے کہے گئے تھے کہ گویا تم دونوں کو میری کچھ فکر نہیں طلاق کی نیت سے یہ الفاظ نہیں کہے گئے ۔۔۔۔۔۔۔ الخ
الجواب: صورت مسؤلہ میں متکلم کا یہ قول کہ ’’میری طرف سے تم بھی آزاد ہو اور وہ بھی آزاد ہے، جب چاہے آؤ‘‘ نہ کنایات طلاق سے ہے نہ صریح سے اس لئے کہ اس سے کسی قسم کی طلاق پڑنے کا احتمال نہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ کنایہ وہ ہے جس میں احتمال ارادہ رفع قید نکاح بھی ہو اور اس کے غیر کا احتمال بھی ہو اور لفظ آزاد ہر حالت میں اور ہر استعمال میں کنایہ طلاق نہیں بلکہ یہ کنایات طلاق میں اس وقت داخل ہے جبکہ خلاف ارادہ طلاق کا قرینہ کلام میں نہ ہو مثلا یوں کہا جائے کہ ’’میری بیوی آزاد ہے‘‘ یا ’’تو آزاد ہے‘‘ یا ’’وہ آزاد ہے‘‘ اور ’’وہ ہر طرح مجھ سے آزاد ہے‘‘ اور ’’تو پوری طرح آزاد ہے‘‘ ان استعمالات میں بے شک یہ کنایات طلاق کی قبیل سے ہے اور اگر ارادہ طلاق کا قرینہ قائم ہو تو پھر یہ لفظ صریح ہو جاتا ہے مثلاً یوں کہا جائے کہ ’’میری بیوی میرے نکاح سے آزاد ہے‘‘ یا ’’میں نے اس کو اپنے نکاح سے آزاد کیا‘‘ اور ’’میں نے اس کو اپنے سے آزاد کردیا‘‘ اور اگر کلام میں عدم ارادہ طلاق کا قرینہ قائم ہوجائے تو پھر یہ نہ صریح طلاق سے ہے نہ کنایات سے مثلا یوں کہا جائے کہ ’’تو آزاد ہے جو چاہے کھا پی‘‘ اور ’’میں نے اپنی بیوی کو آزاد کیا چاہے وہ میرے پاس رہے یا اپنے گھر‘‘ اور ’’وہ آزاد ہے جب اس کا جی چاہے آئے‘‘ ان استعمالات میں ہرگز کوئی شخص محض مادہ آزاد کی وجہ سے اس کلام کو کنایہ طلاق سے نہیں کہہ سکتا بلکہ اباحت افعال و تخییر وغیرہ پر محمول کرے گا بشرطیکہ اس کو محاورات لسان پر کافی اطلاع ہو اور ایک لفظ کا صریح طلاق اور کنایہ طلاق ہونا اور گا ہے دونوں سے خالی ہونا اہل علم پر مخفی نہیں۔۔۔۔۔۔الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved