- فتوی نمبر: 36-205
- تاریخ: 20 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میری بیوی موبائل (اسمارٹ-فون) لینے کی بہت ضد کررہی تھی، کچھ سال پہلے اپنے بھائی سے منگوالیا تھا جو 6-7 سال بعد خراب ہوگیا. میری بیوی کو موبائل رکھنے کا شوق ہے لیکن گھر میں سارا دن بچے استعمال کرتے ہیں یہاں تک کہ بچوں کی مدرسہ و اسکول کی پڑھائی بھی بہت متاثر ہوچکی ہے۔اب جب موبائل خراب ہوا ہے تو میں نے کہا سادہ والا فون دلا دیتا ہوں مگر بیوی کی ضد ہے کہ اسمارٹ فون ہی لینا ہے، میں نے پچھلے دو ماہ ہر طریقہ سے سمجھا کر دیکھ لیا کہ بچوں کی زندگی برباد ہورہی ہے لیکن بیوی سمجھنے پر تیار نہیں، نہ خود نماز پڑھتی ہے نہ بچے، جتنا بھی سمجھا لو ہفتہ میں کسی دن کی کوئی نماز پڑھ لیتے ہیں بس۔میں نے اس ضد پر بیوی سے کہا کہ تم ایک فیصلہ کرلو موبائل چاہیے یا شوہر؟ کچھ دن یہی بات چلتی رہی پھر میرے سالے کی کال آئی میرے پاس اور وہ مجھے قسطوں پر موبائل کا بتانے لگے، میں نے ان سے کہا کہ میں نے تو تمہاری بہن کو آپشن دیا ہے کہ موبائل چاہیے یا شوہر؟اتنا ہی کہا تھا کہ سامنے بیٹھی میری بیوی بولی موبائل اور بس میری زبان سے فوراً نکلا” چلو کہانی ختم”
پوچھنا یہ ہے کہ یہ الفاظ (چلو کہانی ختم) جو میری زبان سے نکلے اس سے طلاق تو واقع نہیں ہوئی؟ نیت میری طلاق کی نہیں تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر شوہر بیوی کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر یہ کہدے کہ اس کی مذکورہ الفاظ سے طلاق کی نیت نہیں تھی تو مذکورہ الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور اگر وہ قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی اپنے حق میں ایک بائنہ طلاق سمجھے گی اور بائنہ طلاق سے نکاح ختم ہو جاتا ہے تاہم گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
توجیہ : سوال میں مذکورالفاظ “چلو کہانی ختم ” کنایات طلاق کی دوسری قسم کے الفاظ ہیں جن کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر نے یہ الفاظ طلاق کے مذاکرہ میں بولے ہوں تو شوہر کی نیت کے بغیر بھی بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگر مذاکرہ طلاق نہ ہو تو شوہر کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے یہ الفاظ بولے ہوں تو ایک طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے اور اگر طلاق کی نیت سے نہ بولے ہوں تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔تاہم نیت چونکہ اند رکی چیز ہے اس لیے شوہر کو طلاق کی نیت نہ ہونے پر بیوی کے سامنے قسم دینی پڑتی ہے اگر وہ قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی اپنے حق میں طلاق شمار کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ مذاکرہ طلاق نہیں ہے اور شوہر کی طلاق کی نیت بھی نہیں ہے لہٰذا طلاق نہیں ہوئی تاہم شوہر کو طلاق کی نیت نہ ہونے پر بیوی کے سامنے قسم دینی ہوگی۔
فتاویٰ قاضیخان (1/468) میں ہے:
ولو قال لم يبق بيني وبينك عمل يقع الطلاق إذا نوى.
فتاویٰ شامی (4/521) میں ہے:
والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط ويقع في حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.
الدر المختار مع رد المحتار (4/521) میں ہے:
(تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.
وفي الشامية تحته: (قوله بيمينه) فاليمين لازمة له سواء ادعت الطلاق أم لا حقا لله تعالى.
شامی(526/4) میں ہے:
المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. فتح
فتاویٰ رحیمیہ (8/302) میں ہے:
’’زید کا قول ہم سے تم سے کوئی تعلق نہیں یہ کنایہ طلاق ہے۔ صرح العالمگیرية والخلاصة حیث قال لم یبق بینی وبینک عمل أو شيئ وأمثال ذلك اور یہ کنایہ قسم ثانی میں داخل ہے جس کا حکم یہ ہے کہ نیت پر موقوف ہے اگر زید نے ان لفظوں سے طلاق کی نیت کی ہے جیسے کہ قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی اور اگر نیت نہیں کی تو طلاق واقع نہیں ہوئی زید سے حلف لے کر دریافت کیا جاسکتا ہے‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved