• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جوتے اتار کر قبرستان جانے کا حکم اور “عمدۃ الفقہ” کی حیثیت

استفتاء

زیارت قبور کا طریقہ یہ ہے کہ جب زیارت قبور کا ارادہ کرے تو مستحب ہے کہ پہلے دو رکعت نماز پڑھیں ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک بار اور قل ھو اللہ احد تین بار پڑھے اور اس کا ثواب میت کو بخشے تو اللہ تعالی اس کی قبر کو منور کرتا ہے اور اس کو بھی بڑا ثواب ملتا ہے،اس کے بعد سیدھا قبرستان چلا جائے جب قبرستان میں داخل ہونے لگے تو جوتا اتار دے ۔(عمدۃ الفقہ، مولانا سید زوار حسین شاہ صاحبؒ، ج:2، ص: 539)

سوال  یہ ہے کہ :

1۔ اس طرح کرنا درست ہے ؟ ایسا کرنے میں کوئی بدعت  تو نہیں؟

2۔جوتے اتار کر قبرستان میں جانا کیسا ہے؟

3۔ عمدۃ الفقہ کتاب کی حیثیت کیا ہے ؟ آیا یہ ہمارے ہاں معتمد ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ اس طرح کرنا  درست ہے بدعت نہیں ہے ۔

2۔قبرستان میں جوتے اتار کر جانا  مستحب ہے تاہم ضروری نہیں ، لہذا جوتے پہن کر بھی جا سکتے ہیں

3۔ عمدة الفقہ کتاب معتمد ہے لیکن کسی مسئلہ میں تحقیق کا مدار صرف اسی کتاب پر نہ ہو بلکہ اگر آپ خود صاحب علم اور صاحب استعداد ہوں تو خود دوسری کتابوں سے تحقیق کرنی چاہیے ورنہ مفتیان کرام سے رجوع کرنا چاہیے۔

ہندیہ (5/350) میں ہے:

‌وإذا ‌أراد ‌زيارة القبور يستحب له أن يصلي في بيته ركعتين يقرأ في كل ركعة الفاتحة وآية الكرسي مرة واحدة والإخلاص ثلاث مرات ويجعل ثوابها للميت يبعث الله تعالى إلى الميت في قبره نورا ويكتب للمصلي ثوابا كثيرا …… فإذا بلغ المقبرة يخلع نعليه.

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص:620) میں ہے:

ولا يكره المشي في المقابر بالنعلين عندنا.

مرقاۃ المفاتیح (1/204) میں ہے:

قال في شرح السنة: يجوز المشى بالنعل في القبور.

عمدۃ القار ی (8/147) میں ہے:

وفيه جواز لبس النعل لزائر القبور الماشي بين ظهرانيها.

بذل المجہود (10/580) میں ہے:

وخبر أنس يدل على جواز لبس النعل لزائر القبور وللماشي بحضرتها وبين ظهرانيها.

حاشیۃ الطحطاوی (ص:620) میں ہے:

‌ومن ‌السنة ‌أن ‌لا ‌يطأ القبور في نعليه ويستحب أن يمشي على القبور حافيا ويدعو الله تعالى لهم

فتاویٰ رحیمیہ ( 7 / 65 ) میں ہے :

الجواب : قبروں پر جوتے پہن کر یا بغیر پہنے ہوئے چلنا سخت ممنوع اور مکروہ ہے ہاں جس جگہ پر قبر نہیں خالی ہے تو جوتے پہن کر چلنے میں  کوئی حرج نہیں بلا کراہت جائز ہے۔ عالمگیری میں ہے : والمشی فی المقابر بالنعلین لا یکره عندنا.

خیر الفتاویٰ ( 3 / 221 ) میں ہے :

سوال : جنازے کو دفن کرنے کے لیے قبرستان میں لے جاویں  تو قبروں کے آداب و احترام کی بناء  پر پاؤں میں سے جوتے اتار لیے جاویں  یا نہ ؟

جواب  : اولی یہی ہے کہ قبرستان میں جوتا اتار کر چلے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل ( 4 / 314 ) میں ہے :

جواب  : عالمگیری میں ہے کہ قبرستان میں جوتے پہن کر چلنا جائز ہے تا ہم ادب یہ ہے کہ جوتے اتار دے۔

فتاویٰ قاسمیہ ( 10 / 80 ) میں ہے :

الجواب  : میت کو دفن کرتے وقت میت کو قبر میں اتارنے والوں اور تختہ رکھنے والوں کا اپنے پیروں میں جوتے چپل پہنے رکھنا جائز ہے ہاں البتہ خلاف ادب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved