• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کا حکم اور اس کے دلائل

استفتاء

1۔دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کا کیا حکم ہے سنت ہے یا واجب؟

2۔ اس کے بارے میں وہ احادیث اور آثار ذکر کریں کہ جن  کی وجہ سے ایک عام آدمی کو با آسانی اصل صورتحال سمجھ آ جائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنت ہے، واجب نہیں۔

2۔ایک ہاتھ کے بجائے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ امت کے تعامل سے ثابت ہے علاوہ ازیں درج ذیل احادیث اور آثار سے بھی دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کا ثبوت ملتا ہے۔

چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے  ایک باب “باب المصافحہ ” قائم فرمایا ہے اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ذکر فرمائی ۔

وقال ابن مسعود: علمني النبي صلى الله عليه وسلم التشهد، وكفي بين كفيه

ترجمہ :  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد (التحیات) سکھایا اس حال میں کہ میری ہتھیلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی۔

پھر دوسرا باب “باب الاخذ بالیدین “قائم فرمایا  جس سے یہ ثابت فرمایا کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کرنا چاہیے چنانچہ فرماتے ہیں ۔

“وصافح حماد بن زيد ابن المبارك بيديه”

ترجمہ :اور حماد بن زید رحمہ اللہ نے ابن مبارک رحمہ اللہ سے  دونوں ہاتھوں کے ساتھ  مصافحہ کیا ۔

اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث ِابن ِ مسعودؓ ذکر فرمائی۔

الادب المفرد (رقم الحدیث:973) میں ہے:

حدثني عبد الرحمن بن رزين قال: مررنا بالربذة فقيل لنا: ها هنا سلمة بن الأكوع، فأتيناه فسلمنا عليه، فأخرج يديه فقال: بايعت بهاتين نبي الله صلى الله عليه وسلم، فأخرج كفا له ضخمة كأنها كف بعير، فقمنا إليها فقبلناها

ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن رزین ؒ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:”ہم مقامِ ربذہ کے قریب سے گزر رہے تھے کہ ہمیں بتایا گیا: یہاں حضرت سلمہ بن الاکوع   رضی اللہ عنہ موجود ہیں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم سب نے ان کو سلام کیا۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ باہر نکالے اور فرمایا: میں نے ان دونوں ہاتھوں سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ پر بیعت کی تھی…………. الخ”

اوجز المسالک (16/130 )میں ہے:

 وقد أخرج البخاري في الادب المفرد حدثني عبد الرحمن بن رزين قال: مررنا بالربذة فقيل لنا: ها هنا سلمة بن الأكوع، فأتيناه فسلمنا عليه، فأخرج يديه فقال: بايعت بهاتين نبي الله صلى الله عليه وسلم، فأخرج كفا له ضخمة كأنها كف بعير، فقمنا إليها فقبلناها وأخرج نحوه أحمد في مسنده» وفي آخره: فأخرج لنا كفه كفاً ضخمة فقمنا إليه، فَقَبَّلنا كفيه جميعاً، لا يقال : إنها في البيعة؛ لأن المعروف فيها أيضاً المصافحة، لما في «الدر المنثور» برواية أحمد والترمذي وصححه والنسائي وغيرهم عن أميمة بنت رقيقة قالت : أتيت النبي ﷺ في نساء لنبايعه الحديث»، وفيه قلنا: يا رسول الله ألا تصافحنا ؟ قال: «إني لا أصافح النساء، إنما قولي لمائة امرأة كقولي لامرأة واحدة ، وعن أسماء قالت : بايعت النبي ﷺ في نسوة فقال : إني لا أصافحكن، ولكن آخذ عليكن ما أخذ الله»

فتح البارى (11/56) میں ہے:

قوله ‌وصافح ‌حماد بن زيد بن المبارك بيديه وصله غنجار في تاريخ بخارى من طريق إسحاق بن أحمد بن خلف قال سمعت محمد بن إسماعيل البخاري يقول سمع أبي من مالك ورأى حماد بن زيد يصافح بن المبارك بكلتا يديه وذكر البخاري في التاريخ في ترجمة أبيه نحوه وقال في ترجمة عبد الله بن سلمة المرادي حدثني أصحابنا يحيى وغيره عن أبي إسماعيل بن إبراهيم قال رأيت حماد بن زيد وجاءه بن المبارك بمكة فصافحه بكلتا يديه

ترجمہ: حماد بن زید نے ابن المبارک سے اپنے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا) اسے غنجار نے “تاریخِ بخارا” میں اسحاق بن احمد بن خلف کے طریق (سند) سے موصولاً (پوری متصل سند کے ساتھ) بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل البخاری (امام بخاری) کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ‘میرے والد نے (امام) مالک سے (احادیث) سنیں، اور انہوں نے حماد بن زید کو دیکھا کہ وہ ابن المبارک سے اپنے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کر رہے تھے۔’اور امام بخاری نے اپنی کتاب ‘التاریخ’ میں اپنے والد کے حالاتِ زندگی (سوانح) میں اسی طرح کا واقعہ ذکر کیا ہے۔ نیز انہوں نے عبداللہ بن سلمہ المرادی کے تذکرے میں فرمایا: مجھ سے ہمارے ساتھیوں یعنی یحییٰ وغیرہ نے بیان کیا، وہ ابو اسماعیل بن ابراہیم (امام بخاری کے والد) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: “میں نے حماد بن زید کو دیکھا جب ان کے پاس مکہ میں ابن المبارک آئے، تو انہوں نے ان سے اپنے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved