• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

داڑھی کے متعلق سوالات

استفتاء

1۔اگر کوئی آدمی اپنی داڑھی کو سیٹ کرے تو کیا یہ جائز ہے؟

2۔اگر داڑھی ایک مشت سے کم ہو تو اس کے آگے بڑھتے ہوئے بالوں کو قینچی سے کاٹ سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ایک مشت (چار انگل) سے زائد بالوں کو کاٹ کر داڑھی کو سیٹ کرنا جائز ہے۔

2۔جو بال ایک مشت (چار انگل) سے کم ہوں انہیں کاٹنا درست نہیں۔

ہندیہ (5/358) میں ہے:

ولا بأس ‌إذا ‌طالت لحيته أن يأخذ من أطرافها ولا بأس أن يقبض على لحيته فإن زاد على قبضته منها شيء جزه وإن كان ما زاد طويلة تركه كذا في الملتقط.

والقص سنة فيها وهو أن يقبض الرجل لحيته فإن زاد منها على قبضته قطعه كذا ذكر محمد رحمه الله تعالى في كتاب الآثار عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى قال وبه نأخذ كذا في محيط السرخسي

شامی (9/671) میں ہے:

‌وأخذ ‌أطراف اللحية والسنة فيها القبضة

 (قوله ‌والسنة ‌فيها ‌القبضة) وهو أن يقبض الرجل لحيته فما زاد منها على قبضة قطعه

شامی (3/456) میں ہے:

وأما ‌الأخذ ‌منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم

امداد الفتاویٰ (9/299) میں ہے:

سوال : داڑھی کا قصر کس قدر جائز ہے؟

الجواب: مٹھی سے زیادہ داڑھی کتروانا جائز ہے۔

والقص سنة فيها، وهو أن یقبض الرجل لحیته، فإن زاد منها علی قبضته قطعه ، کذا ذکر محمد…. الخ

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (16/351) میں ہے:

سوال: داڑھی کا بڑھانا کہاں تک جائز ہے؟

الجواب: داڑھی کی حد ایک قبضہ یعنی ایک مٹھی ہے اس سے کم کرانا درست نہیں ہے اور زیادہ کرنا جائز ہے ۔ در مختار میں ہے: وأما الأخذ منها (أي اللحية ) وهي دون ذلك (أي القبضة ) كما يفعله بعض المَغَارِبَة و مُخَنَّثةُ الرِّجال فلم يُبحه أحد

اور حدیث شریف میں ہے: واعفوا اللحى الحديث أو كما قال صلى الله عليه وسلم یعنی داڑھیوں کو بڑھاؤ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved