• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دادا کی وراثت کی تقسیم

استفتاء

میرے دادا کا انتقال ہوا، ان کے ترکہ میں تقریباً 9 مرلے کا مکان ہے، دادا کے انتقال کے  وقت ان کے والدین اور  بیوی (میری دادی) فوت ہوچکی تھی۔ دادا کا جب انتقال ہوا اس وقت میرے والد صاحب کی عمر 18 سے 20 سال تھی،  دادا کے ورثاء میں ان کی پانچ بیٹیاں  اور ایک بیٹا (میرے والد صاحب) تھے۔پھر  دادا کے انتقال کے بعد  میرے والد صاحب کا انتقال ہوا، پھر والد صاحب کے انتقال کے بعد میری ایک پھوپھی کا انتقال ہوا، اب صرف چار پھوپھیاں حیات ہیں۔ میرے والد صاحب کے ورثاء میں ایک بیوی،  دو بیٹے اور تین بیٹیاں حیات ہیں۔ اور فوت شدہ پھوپھی کے ورثاء میں تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے اور پھوپھو کے شوہر ان کی زندگی میں فوت ہوگئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ دادا کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ آیا  فوت شدہ پھوپھی  کو حصہ ملے گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ کے دادا کی وراثت میں آپ کی فوت شدہ پھوپھی کا  بھی حصہ ہے جو ان کے ورثاء میں شرعی حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگا لہذا مذکورہ صورت میں آپ کے دادا کے کل ترکے  کے 196 حصے کیے  جائیں گے جن میں سے 28 حصے( 14.286 فیصد  فی کس ) دادا کی ہر ایک بیٹی کو،  7حصے    (3.571 فیصد ) دادا کے بیٹے کی بیوی کو،   14 حصے (7.142 فیصد فی کس ) ہرایک  پوتے کو،  7 حصے   (3.571 فیصد فی کس ) ہر ایک پوتی کو، 8 حصے (4.081 فیصد فی کس) ہر نواسے کو اور 4 حصے (2.04 فیصد) نواسی کو ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved