• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

داتا دربار پر لنگر کے طور پر دیگ چڑھانا

استفتاء

داتا دربار پر لنگر کے طور پر دیگ چڑھا سکتے  ہیں یا نہیں؟ اس نیت سے کہ زائرین کھا سکیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

داتا دربار پر  زائرین کو کھلانے کی نیت سے بھی دیگ چڑھانا  درست نہیں کیونکہ ایک تو ایسا کرنے میں ان لوگوں کے ساتھ مشابہت ہے جو  صاحب ِ مزار کے نام کی منت مان کر دیگ چڑھاتے ہیں اور دوسرے مذکورہ صورت میں اپنا کھانا ایسے لوگوں کو کھلانا ہے جن میں سے اکثر وبیشتر بدعات وشرکیہ افعال واقوال کے مرتکب ہوتے ہیں جبکہ حدیث میں ہے کہ تیرا کھانا صرف متقی لوگ کھائیں۔

فتاویٰ محمودیہ (1/341) میں ہے:

سوال:- بزرگوں کے مزاروں پرجونذر ونیاز چڑھا ئی جاتی ہے، اسی طرح بزرگو ں کو خوش کرنے کے لئے ان بزر گوں کے نام پرجومرغ وغیرہ ذبح کرتے ہیں ، ان کا کھانا جائز ہے یانہیں ؟

جواب: جوعوام بزر گو ں کے نام کی نذر نیاز مانتے ، اور مزارات پر چڑھاتے ہیں، وہ سخت گنہ گار ہیں، اوروہ نذرحرام ہے اسکاکھانا بالکل ناجائز ہے، اورمرغ وغیرہ جو جانور بھی بزرگوں کے نام پرذبح کرتے ہیں ، وہ بالکل مر د ارہے، اگرنذرمانتے وقت بزرگوں کے نام کی نذ ر مانی پھر اس کو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیاجاوے و ہ بھی حرام ہے ۔

امداد المفتین (1/667) میں ہے:

سوال: مزارات کے پاس جا کر کسی منت کے باعث کھانا کھلوانا جائز ہے؟

جواب:ایصال ثواب کے لیے کھانا کھلانا  تو جائز ہے لیکن مزار پر جانے کی شرط نئی  شریعت ہے جس کا ثبوت شرعیت محمدیہ کے اُصول سے نہیں ہوتا۔لہٰذا  بدعت وناجائز ہے۔

مرقاة الصعود (3/1235) میں ہے:

(لا تصاحب إلّا مؤمنًا ولا يأكل طعامك ‌إلّا ‌تقيّ) قال الخطّابي: هذا في طعام الدعوة دون طعام الحاجة، وإنّما حذّر من صحبة من ليس بتقيّ وزجر عن مخالطته ومؤاكلته، لأنّ المطاعمة توقع الألفة والمودّة في القلوب، يقول لا تؤالف من ليس من أهل التقوى والورع، ولا تتّخذه جليسًا تطاعمه وتنادمه

بذل المجہود (13/254) ميں  ہے:

(ولا يأكل طعامك ‌إلا ‌تقي). الطعام على نوعين: إما أن يكون طعام مودة وإخاء، أو حاجة، فإذا كان طعام المودة والإخاء فينبغي أن يؤاكله مؤمنا، وأما طعام الحاجة فهو عام، فإنه سبحانه وتعالى قال: {ويطعمون الطعام على حبه مسكينا ويتيما وأسيرا} (2)، فإنه لا يختص بالمؤمن

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8/ 3141) ميں ہے:

«(ولا يأكل طعامك ‌إلا ‌تقي) أي: مؤمن أو متورع يصرف قوة الطعام إلى عبادة الله الملك العلام والنهي وإن نسب إلى التقي، ففي الحقيقة مسند إلى صاحب الطعام، فهو من قبيل لا أرينك ههنا، فالمعنى لا تطعم طعامك إلا تقيا. وفي رواية بزيادة: ولا تأكل إلا طعام تقي، فإن طعامه غالبا يكون حلالا مؤثرا في تحصيل العبادة، وقال الخطابي: هذا إنما جاء في طعام الدعوة دون طعام الحاجة، وذلك أنه تعالى قال: ” {ويطعمون الطعام على حبه مسكينا ويتيما وأسيرا} [الإنسان: 8] ” ومعلوم أن أسراءهم كانوا كفارا غير مؤمنين، وإنما حذر من صحبة من ليس يتقي وزجر عن مخالطته ومؤاكلته، لأن المطاعم توقع الألفة والمودة في القلوب»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved