- فتوی نمبر: 35-184
- تاریخ: 25 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
1۔میرے نانا ابو جوانی میں اپنے بیٹے کی وفات کی وجہ سے ذہنی مرض کا شکار ہو گئے تھے ۔اس لیے نانو نے اپنی اور بچوں کی ضروریات زندگی پوری کرنے کیلئے سکول میں 26 سال آیا کی نوکری کی اسی نوکری کے دوران کسی ٹیچر نے ان کو کچھ زیور تحفہ کے طور پر دیا۔اپنے بڑے بیٹے کی شادی کی تو وہ زیور ان کی بیوی کو دے دیا ۔کچھ عرصے بعد اس بہو کے ساتھ حالات بہت ناگوار ہو گئے ۔جب لڑائی جھگڑے بڑھنے لگے تو نانو نے وہ زیور ان سے واپس لے لیا ۔ اور کرائے کا الگ گھر لے لیااب نانو نے نوکری چھوڑ دی اور میں سکول ٹیچر ہوں نانو کے ساتھ رہتی ہوں اور گھر کا نظام چل رہا ہے الحمدللہ ۔ماموں کی پانچ بچے ہیں وہ جو کماتے ہیں اس سے ان کے اخراجات پورے ہوتے ہیں ۔آپ برائے مہربانی شریعت کے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے بتائیے کہ کیا وہ زیور نانو یا پھر ان کی بیٹیوں کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟
2۔مفتی صاحب نانو نے اپنی نوکری کے دوران کچھ سیونگز کی ہیں کچھ پیسے وہ ہیں اور کچھ پیسے وہ زیور بیچ کر انہوں نے لیے تو یہ کل ملا کر ان کے پاس 11 لاکھ روپے ہیں نانو کی ایک بیٹی ہے جن کی شادی نہیں ہوئی وہ دل کی مریضہ ہے اور وہ ان کے ساتھ ہی ہوتی ہیں نانو یہ چاہتی ہیں کہ نانو کا اور ان کی بیٹی کا جو بھی کفن دفن کا انتظام ہو وہ انہی پیسوں میں سے کیا جائے وہ کہتی ہیں کہ ان پیسوں کا ایسٹیمیٹ لگا کر ان کو الگ رکھ دو اور جو باقی پیسے بچتے ہیں وہ الگ رکھ دو ان پیسوں سے وہ عمرہ کرنا چاہتی ہیں میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان پیسوں پر کوئی زکوۃ واجب ہوگی اگر ہم اس کو کفن دفن کے لیے رکھیں یا اس کو عمرے کے لیے رکھیں تو کیا اس کے اوپر زکوۃ واجب ہوگی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں آپ کی نانی نے اگر یہ زیور بہو کو تحفے کے طور پر نہیں دیا تھا بلکہ صرف پہننے کے لیے دیا تھا تو نانی اس کی مالک ہے اور اس کا استعمال وہ خود بھی کرسکتی ہے اور بیٹیوں کو بھی دے سکتی ہے اور اگر تحفے کے طور پر دیا تھا تو اس کی مالک بہو تھی اگر اس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے تو نانی کے لیے اس کا استعمال جائز ہے اور اگر زبردستی واپس لیا گیا ہے تو نانی کے لیے اس کا استعمال جائز نہیں اور اگر دیتے وقت کچھ نہیں بتایا تھا کہ تحفہ ہے یا صرف پہننے کے لیے دیا ہے تو لڑکے کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا کہ خاندان میں پہننے کے لیے دیا جاتا ہے یا مالک بنایا جاتا ہے پھر جو عرف ہوگا اس کے مطابق عمل ہوگا۔
2۔ ان پیسوں پر زکوٰۃ ہوگی تاہم اگر زیور بہو کا ثابت ہوتا ہے تو زیور کے پیسوں کو نکال کر اگر باقی پیسے ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہوں تو زکوٰۃ ہوگی ورنہ زکوٰۃ نہ ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
