• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دوسری منزل کی پہلی صف کا حکم، سر پر رومال باندھ کر نماز پڑھنا

استفتاء

1۔ کیا مسجد کی جس منزل میں امام موجود ہے اس کی پہلی صف کی فضیلت دوسری منزل کی پہلی صفوں کو بھی حاصل ہوتی ہے؟

2۔ نماز میں ایسا لباس پہننا مکروہ ہے جس میں کوئی شخص کسی عام مجلس میں نہ جا سکے ،آج کل کچھ افراد نماز کے دوران سر کو رومال سے ڈھانپتے ہیں  حالانکہ اسی حالت میں وہ کسی مجلس میں نہیں جا سکتے تو آیا اب وہ رومال باندھیں یا پھر ننگے سر نماز پڑھیں ؟ ان میں سے کیا زیادہ مناسب ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ پہلی صف کا اعتبار امام کی منزل کا ہے کیونکہ صفیں بنانے میں امام کی منزل کا اعتبار ہوتا ہے کہ پہلے اس منزل میں صفیں پوری کی جائیں پھر اوپر کی منزل میں یہی وجہ ہے کہ امام کی منزل میں جگہ ہونے کے باوجود اوپر کی منزل میں کھڑے ہونا مکروہ ہے۔

2۔ اگر رومال صاف ستھرا ہو تو رومال باندھ کر نماز پڑھنی چاہیے البتہ ایسے طریقے سے رومال نہیں باندھنا چاہیے کہ جس سے سر کا درمیانی حصہ کھلا رہے۔

درمختار(2/374) میں ہے:

ولو صلى على ‌رفوف ‌المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامة في صف خلف صف فيه فرجة

درمختار(2/491) میں ہے:

(وصلاته ‌حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل

درمختار مع ردالمحتار(2/511) میں ہے:

يكره اشتمال الصماء ‌والاعتجار والتلثم والتنخم وكل عمل قليل بلا عذر

(قوله ‌والاعتجار) لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عنه وهو شد الرأس أو تكوير عمامته على رأسه وترك وسطه مكشوفا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved