- فتوی نمبر: 36-301
- تاریخ: 04 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز پڑھنے کا طریقہ
استفتاء
میر ا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی فرض نماز پڑھ رہا ہے اور اس نے تین رکعتیں پڑھ لیں اور چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہے اور اب اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اب وہ وضو کرکے شروع سے نماز پڑھے گا یا جہاں وضو ٹوٹا تھا وہاں سے پڑھے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایسی صورت میں بہتر تو یہ ہے کہ پہلی نماز کھڑے کھڑے سلام پھیر کر ختم کردی جائے اور وضو کرکے نئے سرے سے نماز پڑھی جائے لیکن اگر کوئی آدمی اپنی نماز ختم نہیں کرتا تو یہ بھی جائز ہے کہ وضو کرکے وہیں سے آگے نماز پڑھے جہاں تک وہ پڑھ چکا تھا بشرطیکہ وضو قصداً نہ توڑا ہو، وہ فوراً یعنی وضو ٹوٹتے ہی بغیر سلام پھیرے وضو کرنے چلا جائے اور اس دوران کوئی ایسا عمل نہ کرے جو نماز کے منافی ہو مثلاً کسی سے بات چیت نہ کرے۔
البنایہ (2/565) میں ہے:
وفي المحيط يقطعها قائما بتسليمة واحدة وهو الأصح لأنه قطع وليس بتحلل
ہندیہ (1/94) میں ہے:
(الباب السادس في الحدث في الصلاة) من سبقه حدث توضأ وبنى. كذا في الكنز.
والرجل والمرأة في حق حكم البناء سواء. كذا في المحيط ولا يعتد بالتي أحدث فيها ولا بد من الإعادة هكذا في الهداية والكافي والاستئناف أفضل. كذا في المتون وهذا في حق الكل عند بعض المشايخ وقيل هذا في حق المنفرد قطعا وأما الإمام والمأموم إن كانا يجدان جماعة فالاستئناف أفضل أيضا وإن كانا لا يجدان فالبناء أفضل صيانة لفضيلة الجماعة وصحح هذا في الفتاوى كذا في الجوهرة النيرة
(ثم لجواز البناء شروط) : (منها) أن يكون الحدث موجبا للوضوء ولا يندر وجوده وأن يكون سماويا لا اختيار للعبد فيه ولا في سببه. هكذا في البحر الرائق ………….. (ومنها) أن ينصرف من ساعته حتى لو أدى ركنا مع الحدث أو مكث مكانه قدر ما يؤدي ركنا فسدت صلاته ……….. (ومنها) أن لا يفعل بعد الحدث فعلا منافيا للصلاة لو لم يكن أحدث إلا ما لا بد منه أو كان من ضرورات ما لا بد منه أو من توابعه وتتماته ….. (ومنها) أن لا يظهر حدثه السابق بعد الحدث السماوي. كذا في البحر الرائق ……. (ومنها) إذا كان مقتديا أن يعود إلى الإمام إن لم يكن فرغ الإمام وكان بينهما حائل يمنع جواز الاقتداء ولو فرغ إمامه لا يعود ولو عاد اختلفوا في فساد صلاته ولو لم يكن بينهما مانع فله الاقتداء من مكانه من غير عود. هكذا في البحر الرائق …… (ومنها) أن لا يتذكر فائتة عليه بعد الحدث السماوي وهو صاحب ترتيب. كذا في البحر الرائق.
(ومنها) إذا كان إماما أن لا يستخلف من لا يصلح للإمامة فلو استخلف امرأة استقبل. كذا في البحر الرائق
آپ کے مسائل اور ان کا حل (3/575) میں ہے:
سوال: دوران نماز اگر وضو ٹوٹ جائے تو بقیہ نماز کس طرح ادا کرنی چاہیے؟
جواب: نماز کو وہیں چھوڑ کر چپ چاپ وضو کر آئے کسی سے بات چیت نہ کرے اور جہاں سے نماز چھوڑی تھی واپس آکر وہیں سے دوبارہ شروع کرلے مگر اس کے مسائل بڑے دقیق ہیں عوام کے لیے مناسب یہی ہے کہ وضو کرنے کے بعد از سر نو نماز شروع کریں۔
بہشتی زیور (ص:708) میں ہے:
چونکہ یہ مسائل باریک ہیں اور آجکل علم کی کمی ہے ضرور غلطی کا احتمال ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ بناء نہ کریں بلکہ وہ نماز سلام کیساتھ قطع کرکے پھر از سر نو نماز پڑھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved