• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دوست کے گھر جانے پر سات طلاقوں کو معلق کیا پھر اس کے دوسرے گھر چلا گیا

استفتاء

مفتی صاحب آج سے پانچ سال پہلے میں اپنے دوست کے گھر  پرتھا کہ  کسی بات پر کچھ تلخی ہوگئی جس پر اس نے کہا کہ  مکان میں بیٹھے ہو اور میرے بھائی کو چھیڑرہے ہو !      تو میں نے کہہ دیا  کہ ” سات طلاقیں اگر آج کے بعد میں  مکان آیا ”  وہ مکان اس کا کرایہ کا تھا ۔ پانچ سال بعد  اس نے وہ تبدیل کرلیا اور دوسرے مکان میں چلا گیا پھر میں اس دوسرے مکان میں اس کے پاس چلا گیا ۔  لیکن  چونکہ بات پرانی ہوگئی ہے اس لیے مجھے اس وقت کے الفاظ میں شک ہوگیا ہے کہ میں نے کیا الفاظ کہے تھے   “اِس مکان  ” کہا تھا یا  “آپ کےمکان ”  کہا تھا یا صرف” مکان” کہا تھا  ۔ اب میرے لیے کیا حکم ہے؟

وضاحت مطلوب ہے  : اس بارے میں جو غالب گمان ہے وہ بتائیں  ۔

جواب وضاحت :  غالب گمان یہ ہے  کہ “ا ِس مکان  ” بولا تھا  ۔پشتو کے الفاظ یہ تھے :  “وہ طلاقہ  دی کہ پہ ٹول ژوند د تادے مکان تہ ھم  راغلم “جس کا ترجمہ یہ ہے سات طلاقیں ہیں اگر میں زندگی بھر تمہارے اس گھر میں آیا   ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ  آپ  کا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے  “اس مکان  ” کا لفظ  بولا تھا لہٰذا آپ کے دوست  کا وہی  مکان تعلیق   طلاق کے لیے  متعین ہوگیاتھا  ۔    اور آپ پانچ سال بعد  جس مکان میں گئے ہیں وہ  دوسرا مکان تھا اس  لیے کوئی طلاق واقع  نہیں ہوئی  ۔

فتاوی عالمگیری(1/420) میں ہے:

وإذا أضافه إلى الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق

بدائع الصنائع  (3/ 38) میں ہے :

«وقال ابن سماعة عن محمد في رجل حلف لا يدخل هذا المسجد فزيد فيه طائفة فدخلها لم يحنث؛ لأن اليمين وقعت على ‌بقعة معينة فلا يحنث بغيرها،»

فتاوی الولوالجیۃ (2/32) میں ہے :

امراة تخرج من دارها الى سطح جارتها فغضب الرجل فقال ان خرجت من هذه الدار  الى سطح الجار والى الباب فانت طالق  فخرجت الى سطح جار آخر لم يحنث لان دلالة الحال اوجبت التقييد بذلك الجار ولو لم تتقدم هذه المقدمة حنث لان اللفظ عام ولم يوجد المخصص.

الاشباہ والنظائر (1/222) میں ہے:

وغالب الظن عندهم ‌ملحق ‌باليقين، وهو الذي يبتنى عليه الأحكام يعرف ذلك من تصفح كلامهم في الأبواب، صرحوا في نواقض الوضوء بأن الغالب كالمتحقق، وصرحوا في الطلاق بأنه إذا ظن الوقوع لم يقع، وإذا غلب على ظنه وقع .

فتاوی محمودیہ (12/143) میں ہے :

سوال :- زید نے غصہ میں اپنے مکان میں جانے سے قسم کھائی اور کہا ہے اپنی بیوی کو کہ اگر میں اس مکان میں آؤں تو تجھ پرتین طلاق، صرف یہ الفاظ ایک دفعہ کہے ہیں، تین دن ہوگئے ہیں، زید اپنے مکان مسکونہ میں نہیں گیا ہے، لیکن زید اس مکان کا مالک نہیں ہے، پس سوال یہ ہے کہ زید اب اس مکان میں جانا چاہتا ہے، وہ اس مکان میں کس صورت سے جاسکتا ہے، کہ گنہ گار بھی نہ ہو اورطلاق بھی واجب نہ ہو۔

الجواب حامداً ومصلیاً :زید نے اشارہ کر کے متعین کردیا کہ اس مکان میں آؤں تو تجھ پر تین طلاق اب وہ مکان خواہ زید کی ملک ہو یا نہ ہو، بہر صورت اس میں جانے سے اس کی بیوی پر تین طلاق واقع ہوجائیں گی۔۔۔ الخ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved