• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عید کی چھٹیوں کی تنخواہ کاٹنے کا حکم

استفتاء

ایک مدرس تدریسی فرائض انجام دے رہا تھا ،جمعرات  والے دن دوپہر کو چھٹی لیکر گھر جاتا پھر جمعہ پڑھانے کے لیے آجاتا جمعہ پڑھانے کے بعد پھر گھر چلا جاتا  اور ہفتہ کو  صبح مدرسے میں پہنچ جاتا  پھر سوموار والے دن عصر کے وقت جاتا پھر منگل  کے دن صبح مدرسے میں پہنچ جاتا ، یہ اس کی ترتیب  تقریباً 3 ماہ چلتی رہی  پھر مدرسہ انتظامیہ کی طرف سے سختی کی جانے لگی کہ چھٹی اب صرف جمعرات عصر کے بعد سے جمعہ کے ٹائم تک ہوگی  اس پر مدرس نے کہا کہ اس ترتیب پر مجھ سے عمل نہیں ہوسکتا جو میری ترتیب ہے وہی رہے گی باقی انتظامیہ کی طرف سے جو فیصلہ ہو  اس موقع پر مدرسے کی انتظامیہ نے مدرس کو رخصت کر دیا کہ ہمارا گزارہ نہیں چل سکتا مدرس نے شوال کا مہینہ پورا کیا ہوا تھا بلکہ 5 دن اوپر بھی ہوچکے تھے اب مدرس کو شوال کے مہینے کا جو وظیفہ دیا گیا تھا اس میں سے عید الفطر کی جو دس چھٹیاں مدرسے کی جانب سے تھیں ان دس دنوں کا 6 ہزار کاٹ لیا گیا جبکہ مدرس مدرسہ کی مسجد میں ان چھٹی کے دنوں میں جمعہ بھی پڑھانے جاتا رہا ہے ۔

مدرس کو رخصت کرتے وقت مدرسے کے مہتمم صاحب نے کہا تھا کہ آپ کا بقایا آپ کو عید الاضحی کے موقع پر  دیا جائے گا جب مطالبہ کیا گیا تو کہا کہ ہم نے ان دس چھٹیوں کی مد میں یہ پیسے کاٹے ہیں  اب آپ راہنمائی فرمائیں کہ مدرس ان دس دنوں کے وظیفے کا مستحق ہے یا نہیں ؟

وضاحت مطلوب ہے: مدرسہ انتظامیہ کا نمبر اور مؤقف بھی ارسال کریں۔

جواب وضاحت: انتظامیہ کا رابطہ نمبر *****ہے،اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ ” مدرس ان چھٹیوں کی تنخواہ کا مستحق نہیں ہے اگر پورا سال گزارتا تب تنخواہ کا مستحق ہوتا اور مدرس کہتا ہے کہ کسی بھی رجسٹرڈ  ادارے کا یہ اصول ہو یا کم از کم اس مذکورہ ادارے کا اصول ہو تو پھر میں نہیں لوں گا جبکہ مدرس اور مدرسہ انتظامیہ کے درمیان کوئی بھی شرائط طے نہیں کی گئی تھیں”

سائل کی طرف سے  دیے گئے نمبر پر رابطہ کیا گیا تھا تو انہوں نے یہ موقف بھیجا ہے:

میں اور تو کچھ نہیں کہتا بس یہ کہتا ہوں کہ جب مدرس استعفی دے کر جاتا ہے تو ہمارے خلاف باتیں کیوں کرتا ہے مزید کچھ نہیں کہتا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ سائل شوال میں بھی کام کرتا رہا ہے اس لیے وہ  ان  دس ایام کی تنخواہ کا مستحق ہوگا مدرسہ کا اس کی ان دس ایام کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں ۔

الاشباہ والنظائر (ص:81) میں ہے:

ومنها البطالة في المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، ‌وشهر ‌رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم.

والمسألة على وجهين: فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي، وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ في يوم البطالة؛ لأنه يستريح لليوم الثاني ……….. فينبغي أن يكون كذلك في المدارس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة يكون للمطالعة والتحرير عند ذي الهمة

شامی (4/372) میں ہے:

‌وهل ‌يأخذ ‌أيام البطالة كعيد ورمضان لم أره وينبغي إلحاقه ببطالة القاضي. واختلفوا فيها والأصح أنه يأخذ؛ لأنها للاستراحة أشباه من قاعدة العادة محكمة

امداد الفتاویٰ (7/314) میں ہے:

سوال: عربی مدارس میں رمضان شریف کی تعطیل ہوتی ہے تو اس کی تنخواہ کا بلا معاوضہ کام ہونا تو ظاہر ہے باقی وقت بھی مدرس اپنا وقت مدرسہ میں محبوس نہیں رکھتا کہ اس کی وجہ سے لے سکے اب لینا اس کو کیسے درست ہے اگر مدرسہ کے مہتمم کسی مدرس کو شعبان کی ۲۹ تاریخ کو مدرسہ کی ملازمت سے علیحدہ  کردے تو یہ مدرس رمضان کی تنخواہ کا مستحق ہے یا نہیں ؟مدرس مدرسہ میں بحال رہتے ہوئے رمضان کی تعطیل میں رمضان کی تنخواہ کا کب مستحق ہوگا جب سب رمضان ختم ہوجائے یا ختم شعبان پر؟

الجواب:تنخواہ تو ایامِ عمل ہی کی ہے مگر تعطیل کا زمانہ تبعاً ایامِ عمل کے ساتھ ملحق ہے تاکہ استراحت کرکے ایامِ عمل میں عمل کرسکے اس سے سب اجزا کا جواب نکل آیا، اول کا یہ حکماً بلا معاوضہ کام کے نہیں ، دوسرے کا یہ کہ شعبان کے ختم پر معزول ہوجانے سے تنخواہ نہ ملے گی اور عدم عزل میں رمضان کے ختم پر تنخواہ ملے گی بشرطیکہ شوال میں بھی کام کیا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved