• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک حدیث کی تحقیق

استفتاء

حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے ایک شخص کے کان میں کچھ آیات تلاوت کیں جو کسی بیماری کی وجہ سے بیہوش تھا ، وہ شخص ہوش میں آگیا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ آیات “افحسبتم أنما خلقنكم عبثا …….. الخ” (ترجمہ: کیا تم نے سمجھ رکھا  تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے. ….. الخ) پڑھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی شخص یہ آیات یقین کیساتھ کسی پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ہل جائے۔

کیا یہ بات حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ بات حدیث سے ثابت ہے۔

مسند ابی یعلیٰ (8/458) میں ہے:

عن ابن لهيعة عن عبد الله بن هبيرة، عن حنش الصنعانى، عن عبد الله، ‌أنه ‌قرأ ‌في ‌أذن مبتلى، فأفاق، فقال له رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “ما قرأت في أذنه؟ ” قال: قرأت {أفحسبتم أنما خلقناكم عبثا} [المؤمنون: 115]، حتى فرغ من آخر السورة، فقال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “لو أن رجلا موقنا قرأ بها على جبل لزال”

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے کسی مرض میں مبتلا شخص کے کان میں کچھ آیات پڑھیں  تو اس مریض کو افاقہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے اس کے کان میں کیا پڑھا؟  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ یہ آیات”افحسبتم أنما خلقنكم عبثا …….. الخ” (ترجمہ: کیا تم نے سمجھ رکھا  تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے. ….. الخ)   پڑھیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے   فرمایا اگر کوئی شخص یقین کے ساتھ یہ آیات کسی پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ہل جائے۔

مجمع الزوائد (5/115) میں ہے:

وعن حنش الصنعاني، «عن عبد الله ‌أنه ‌قرأ ‌في ‌أذن مبتلى، فأفاق فقال له رسول الله  صلى الله عليه وسلم : ” ما قرأت في أذنه؟ ” قال: قرأت: (أفحسبتم أنما خلقناكم عبثا)، حتى فرغ من آخر السورة، فقال رسول الله  صلى الله عليه وسلم : ” لو أن رجلا موقنا قرأ بها على جبل لزال».

رواه أبو يعلى، وفيه ابن لهيعة، وفيه ضعف وحديثه حسن، وبقية رجاله رجال الصحيح

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved