- فتوی نمبر: 36-175
- تاریخ: 31 اگست 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
اگر کسی شخص نے شفتل یعنی کھڑی گھاس خریدى ہو اور اس گھاس کو پانی دینا اور کاٹ کر کے مشتری کے سپرد کرنا بائع کے ذمے لگایا ہو تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے: 1۔ گھاس خودرو ہے یا کسی نے خود اگائی ہے؟2۔ گھاس کب کٹے گی اور یہ معاملہ صرف اس شخص نے کیا ہے یا آپ کے علاقے میں عموماً ایسا ہی ہوتا ہے؟3۔ جس وقت آپ نے گھاس خریدی ہے اس وقت گھاس مکمل اُگ چکی تھی؟
جواب وضاحت: 1۔گھاس اس بائع نے خود اگائی ہے ۔2۔ گھاس روزانہ تھوڑا تھوڑا کرکے گائے وغیرہ کے لئے کاٹتے رہتے ہیں۔ رہا یہ سوال کہ معاملہ صرف اس شخص کا ہے یا تعامل تو مہربانی کرکے دونوں شقوں کے اعتبار سے جواب دیجئے۔3۔گھاس مکمل اگ چکی تھی یا نہیں دونوں شقوں کا حکم واضح کریں ۔
تنقیح: سائل سے مزید معلومات لی گئی ہیں جن کے مطابق ان کے علاقہ میں گھاس کا معاملہ ایسے ہی ہوتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت کا اگر کسی علاقہ میں عرف ہو تو گنجائش ہے پھر چاہے مکمل گھاس اگی ہو یا کچھ اگی ہو ، اور اگر عرف نہ ہو تو مذکورہ معاملہ جائز نہیں ۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ گھاس بائع نے خود اگائی ہے اس لیے فی نفسہ اس کو بیچنے کی گنجائش ہے (دیکھیے حوالہ نمبر3،2،1 )
البتہ مندرجہ بالا صورت میں درج ذیل باتیں قابل اشکال ہیں:
(۱)کچھ گھاس اگنے کی صورت میں مکمل گھاس بیچنا۔
(۲) گھاس کاٹنے کی بائع پر ذمہ داری ڈالنا ۔
(۳) چونکہ یہ طے ہے کہ تھوڑی تھوڑی گھاس کاٹی جائے گی جس سے لازم آتا ہے کہ یہ بیع بشرط الترک ہے۔
(۴) اتنی دیر تک اس گھاس کو پانی دینے کی ذمہ داری بائع کی ہونا ۔
اصل کے اعتبار سے یہ ساری باتیں عقد کے لیے مفسد ہیں کیونکہ یہ شرائط نہ تو مقتضائے عقد ہیں نہ ملائم عقد ہیں بلکہ مقتضائے عقد کے مخالف ہیں اور ان میں ایک فریق کا نفع بھی ہے اور ایسی شرطوں سے خرید وفروخت کا معاملہ فاسد ہوجاتا ہے لیکن اگر ان شرطوں کا عرف ہوجائے تو پھر ان شرطوں سے معاملہ فاسد نہ ہوگا۔ چنانچہ عرف ہونے کی صورت میں پہلی بات کے جائز ہونے کی لیے حوالہ نمبر 4،5 ملاحظہ فرمائیں ۔
دوسری بات کے جواز کے لیے حوالہ نمبر 6 ملاحظہ فرمائیں ۔
تیسری بات کے جواز کے لیے حوالہ نمبر 6،7 ملاحظہ فرمائیں ۔
چوتھی بات کے لیے اگرچہ باقاعدہ حوالہ نہیں مل سکا لیکن چونکہ اس کے مفسد عقد ہونے کی وجہ شرط زائد ہونا ہے جس میں مشتری (خریدار) کا فائدہ ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ عرف ہونے کی صورت میں ایسی شرط مفسد نہیں ہوتی اس لیے مذکورہ شرط کی بھی عرف کی بنا ء پر گنجائش ہوگی ۔
1) شامی (6/440) میں ہے:
الكلام في الكلأ على أوجه أعمها ما نبت في موضع غير مملوك لأحد، فالناس شركاء في الرعي والاحتشاش منه كالشركة في ماء البحار وأخص منه، وهو ما نبت في أرض مملوكة بلا إنبات صاحبها، وهو كذلك إلا أن لرب الأرض المنع من الدخول في أرضه، وأخص من ذلك كله وهو أن يحتش الكلأ أو أنبته في أرضه فهو ملك له، وليس لأحد أخذه بوجه لحصوله بكسبه ذخيرة وغيرها ملخصا
2) امداد الفتاویٰ (6/381) میں ہے:
سوال : بہشتی زیور میں گھاس کے ملک ہونے کے متعلق حضرت نے تحریر فرمایا ہے کہ البتہ اگر پانی دے کر سینچا اور خدمت کی ہو تو اس کی ملک ہو جاوے گی اب بیچنا بھی جائز ہے ، اور لوگوں کو منع کرنا بھی جائز ہے،خدمت کی صراحت فرمادی جائے کہ کس طور کی خدمت ، یا مالک زمین اگر گھاس کا پھول ڈال دے جس کی وجہ سے گھاس اُگے، آیا اس صورت میں بھی گھاس اس کی ملک ہو جائے گی یا نہیں ؟
الجواب: بدرجہ اولیٰ ملک ہو جاوے گی سقی سے غرس کو اس کے حصول میں زیادہ دخل ہے۔
وفي ردالمحتار: وأخص من ذلک کله، وهو أن یحتش الکلاء أو انبته في أرضه فهو ملک له، ولیس لأحد أخذه بوجه لحصوله بکسبه ذخیرة وغیرها.
3) مسائل بہشتی زیور (2/229) میں ہے:
خود رو گھاس کی بیع
……………البتہ اگر پانی دے کر سینچا اور دیکھ بھال کی ہو تو اس کی ملک ہوجائے گی اب بغیر کاٹے بیچنا بھی جائز ہے ۔
4) شامی (7/85) میں ہے:
(ومن باع ثمرة بارزة) أما قبل الظهور فلا يصح اتفاقا. (ظهر صلاحها أو لا صح) في الأصح. (ولو برز بعضها دون بعض لا) يصح. (في ظاهر المذهب) وصححه السرخسي وأفتى الحلواني بالجواز لو الخارج أكثر زيلعي.
(قوله: وأفتى الحلواني بالجواز) وزعم أنه مروي عن أصحابنا وكذا حكى عن الإمام الفضلي، وقال: استحسن فيه لتعامل الناس، وفي نزع الناس عن عادتهم حرج قال: في الفتح: وقد رأيت رواية في نحو هذا عن محمد في بيع الورد على الأشجار فإن الورد متلاحق، وجوز البيع في الكل وهو قول مالك ……….
قلت: لكن لا يخفى تحقق الضرورة في زماننا ولا سيما في مثل دمشق الشام كثيرة الأشجار والثمار فإنه لغلبة الجهل على الناس لا يمكن إلزامهم بالتخلص بأحد الطرق المذكورة، وإن أمكن ذلك بالنسبة إلى بعض أفراد الناس لا يمكن بالنسبة إلى عامتهم وفي نزعهم عن عادتهم حرج كما علمت، ويلزم تحريم أكل الثمار في هذه البلدان إذ لا تباع إلا كذلك، والنبي – صلى الله عليه وسلم – إنما رخص في السلم للضرورة مع أنه بيع المعدوم، فحيث تحققت الضرورة هنا أيضا أمكن إلحاقه بالسلم بطريق الدلالة، فلم يكن مصادما للنص، فلذا جعلوه من الاستحسان؛ لأن القياس عدم الجواز، وظاهر كلام الفتح الميل إلى الجواز ولذا أورد له الرواية عن محمد بل تقدم أن الحلواني رواه عن أصحابنا وما ضاق الأمر إلا اتسع ولا يخفى أن هذا مسوغ للعدول عن ظاهر الرواية كما يعلم من رسالتنا المسماة نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف فراجعها.
(قوله: لو الخارج أكثر) ذكر في البحر عن الفتح أن ما نقله شمس الأئمة عن الإمام الفضلي لم يقيده عنه بكون الموجود وقت العقد أكثر بل قال: عنه أجعل الموجود أصلا، وما يحدث بعد ذلك تبعا
5) مسائل بہشتی زیور (2/229) میں ہے:
باغ کے پھل کی بیع کی مختلف صورتیں
کچھ پھل ظاہر ہوا ہو اور کچھ ظاہر نہ ہوا ہو تو اس میں اختلاف ہے جواز راجح ہے۔۔۔۔
6) شامی (7/85) میں ہے:
(ومن باع ثمرة بارزة) أما قبل الظهور فلا يصح اتفاقا. (ظهر صلاحها أو لا صح) في الأصح. (ولو برز بعضها دون بعض لا) يصح. (في ظاهر المذهب) وصححه السرخسي وأفتى الحلواني بالجواز لو الخارج أكثر زيلعي. (ويقطعها المشتري في الحال) جبرا عليه (وإن شرط تركها على الأشجار فسد) البيع كشرط القطع على البائع حاوي. (وقيل:) قائله محمد. (لا) يفسد (إذا تناهت) الثمرة للتعارف فكان شرطا يقتضيه العقد (وبه يفتى) بحر عن الأسرار، لكن في القهستاني عن المضمرات أنه على قولهما الفتوى فتنبه. قيد باشتراط الترك لأنه لو شراها مطلقا وتركها بإذن البائع طاب له الزيادة وإن بغير إذنه تصدق بما زاد في ذاتها وإن بعدما تناهت لم يتصدق بشيء
(قوله: فسد) أي مطلقا كما يرشد إليه التفصيل في القول المقابل له فافهم. وعلل في البحر الفساد بأنه شرط لا يقتضيه العقد وهو شغل ملك الغير.
(قوله: كشرط القطع على البائع) في البحر عن الولوالجية: باع عنبا جزافا وكذا الثوم في الأرض والجزر والبصل، فعلى المشتري قطعه إذا خلى بينه وبين المشترى؛ لأن القطع إنما يجب على البائع إذا وجب عليه الكيل أو الوزن ولم يجب؛ لأنه لم يبع مكايلة ولا موازنة.
(قوله: وبه يفتى) قال: في الفتح: ويجوز عند محمد استحسانا وهو قول الأئمة الثلاثة، واختاره الطحاوي لعموم البلوى
(قوله: فتنبه) أشار به إلى اختلاف التصحيح وتخيير المفتي في الإفتاء بأيهما شاء لكن حيث كان قول محمد هو الاستحسان يترجح على قولهما تأمل
7) فقہ البیوع (1/332،333) میں ہے:
أما إذا اشترط تركها على الأشجار قبل أن يتناهى عِظَمُها، أو قبل أن يبدو صلاحها، فظاهر مذهب الأئمة الأربعة أنه يُفسد البيع، وذلك لأحاديث النهي عن بيع الثمرة قبل أن يبدو صلاحها، ولأنه يؤدى إلى بيع المعدوم. لكن ذكر ابن الهمام أن محمداً رحمه الله تعالى إنما فرق بين ما تناهى عِظَمُه ومالم يتناه أن التعامل إنما جرى بشرط الترك في المتناهي، ولم يجر فيمالم يتناه عظمه، وإلا فهما سواء في كون الشرط لا يقتضيه العقد. وهذا يقتضى أنه لو جرى العرف والتعامل في غير المتناهي، جاز أيضاً، لأن العرف الحادث معتبر في كون الشرط جائزاً، كما قال ابن عابدين في مبحث الشرط الفاسد. ) وعلى هذا فرع الإمام التهانوي رحمه الله تعالى أنه إذا جرى العرف باشتراط الترك على الأشجار، جاز هذا الشرط للغرف. وكذلك أفتى شيخنا المفتى رشيد أحمد رحمه الله في فتاواه.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved