• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گھر کی روٹی کے بدلے تندور کی دو روٹی کا تبادلہ کرنا

استفتاء

اگر گھر کی ایک روٹی کے بدلے تندور کی ایک یا دو روٹیوں کا تبادلہ کیا جائے یا اس کے برعکس لین دین کیا جائے تو یہ شرعاً رِبا (سود)  کے زُمرے میں آتا ہے یا  نہیں؟نیز مذکورہ بالا معاملہ خواہ ہاتھ در ہاتھ ہو یا ادھار ۔شرعی حکم سے مطلع فرمائیں۔

وضاحت مطلوب ہے:کیا یہ فرضی صورت پوچھی جا رہی ہے یا آپ ایسا معاملہ کرتے ہیں نیز اس معاملے کی صورت کیا ہوتی ہے؟

جواب وضاحت: ہم چند اساتذہ جامعہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہمیں عرصہ دراز سے مدرسہ کی روٹی (جو کہ تندور سے تیار کی جاتی ہے)کھانے کے بعد صحت کے مسائل پیش آ رہے ہیں بالخصوص اس میں موجود زائد بیکنگ سوڈا کی وجہ سے معدہ اور ہاضمے پر اثر پڑتا ہے متعدد بار باورچی خانہ سے بات کرنے کے باوجود سوڈے کی مقدار کم نہیں ہو سکی۔ یہ مسئلہ تین چار اساتذہ کو مشترک طور پر درپیش ہے اور چونکہ میری دو گھنٹے کی خدمت دار الافتاء میں بھی ہے تو اساتذہ نے مجھ سے فرمایا کہ باحوالہ جواب دیں ۔اس لیے شرعی وضاحت کے ساتھ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔

کیا ایسی صورت میں ہمارے  لیے جائز ہے کہ ہم کسی  طالب علم سے باہمی رضامندی سے بات کر کے اپنے لیے جامعہ کی روٹی کی جگہ سادہ گھریلو روٹی کا انتظام کر لیں اس میں نہ جامعہ کے اصول کی خلاف ورزی ہو نہ فساد کا اندیشہ ہو اور نہ کوئی مالی فائدہ یا ضرر سامنے ہو صرف صحت کا پہلو اور رواداری ملحوظ ہو۔ شرعی اور اصولی طور پر رہنمائی فرما دیجیے کہ آیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

 

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved