• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گناہ نہ کرنے پر متعدد بار قسم کھا کر توڑنے کا حکم

استفتاء

میں ایک بُری عادت کو چھوڑنا چاہتا تھا تو اس کے لیے میں اکثر اللہ کی قسم کھاتا تھا کہ میں یہ  کام نہیں کروں گا لیکن انسانی فطرت کی وجہ سے میں ناکام ہوجاتا۔ یہ کام لاتعداد مرتبہ ہوا ہے اور میں نے سنا ہے کہ قسم توڑنے کا کفارہ بھی ہے تو اب مجھے کیا کرنا ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ  نے جتنی مرتبہ قسم توڑی ہے اتنے ہی کفارے لازم ہیں  اور ایک قسم کے توڑنے کا کفارہ یہ  ہے کہ دس مسکینوں (مستحق زکوٰۃ لوگوں)  کو دو وقت کا کھانا کھلا دیا جائے  یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو  پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت  دے دی جائےاگر اس کی استطاعت  نہ ہو تو پھر  ہر قسم کے توڑنے کے بدلے میں تین دن مسلسل روزے رکھے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ  گناہ نہ کرنے پر متعدد مرتبہ قسم کھا کر توڑ ی ہے  لہذا اس صورت میں ہر قسم کا الگ سے کفارہ دینا ہوگا۔

نوٹ: مذکورہ صورت میں اگر آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ کتنی قسمیں ٹوٹیں ہیں تو آپ اپنے غالب گمان پر عمل کریں۔

فتح القدير (5/ 79) میں ہے:

«في التجريد عن أبي حنيفة رحمه الله: ‌إذا ‌حلف ‌بأيمان عليه لكل يمين كفارة والمجلس والمجالس سواء»

المبسوط للسرخسی (6/ 186) میں ہے:

«وإذا حلف الرجل ‌على ‌أمر ‌لا ‌يفعله ‌أبدا، ثم حلف في ذلك المجلس أو في مجلس آخر لا يفعله أبدا، ثم فعله، كانت عليه كفارة يمينين؛ لأن اليمين عقد يباشره بمبتدأ وخبر، وهو شرط وجزاء، والثاني في ذلك مثل الأول فهما عقدان، فبوجود الشرط مرة واحدة يحنث فيهما، وهذا إذا نوى يمينا أخرى، أو نوى التغليظ؛ لأن معنى التغليظ بهذا يتحقق، أو لم يكن له نية؛ لأن المعتبر صيغة الكلام عند ذلك، ثم الكفارات لا تندرئ بالشبهات خصوصا في كفارة اليمين فلا تتداخل»

حاشیۃ الطحطاوی على مراقی الفلاح (ص447) میں ہے:

«خاتمة ‌من ‌لا ‌يدري ‌كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء»

فتاویٰ ہندیہ (3/146) میں ہے:

الكفارة وهي احد ثلاثة اشياء ان قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار او كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وادناه ما يجوز فيه الصلاة او اطعامهم والاطعام فيها كالاطعام في كفارة الظهار….فان لم يقدر على احد هذه الاشياء الثلاثة صام ثلاثة ايام متتابعات

تنویر الابصار (3/523,524) میں ہے:

وكفارته تحرير رقبة او اطعام عشرة مساكين او كسوتهم ….وان عجز عنها كلها صام ثلاثة ايام ولاء.

مسائل بہشتی زیور (2/162) میں ہے:

اگر کسی نے قسم توڑ ڈالی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس محتاجوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا کچا اناج دیدے اور ہر فقیر کو پونے دو کلو گندم دینا چاہیے اور اگر جو دے تو اس کے دو گنا دے یا دس فقیروں کو کپڑا پہنا دے اگر کوئی ایسا غریب ہے کہ نہ کھانا  کھلا سکتا ہے اور نہ  کپڑا پہنا سکتا ہے تو لگاتار تین روزے رکھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved