- فتوی نمبر: 35-301
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > احرام کا بیان
استفتاء
عرض یہ کرنا ہے کہ میرے دونوں پیروں میں درد رہتا ہے پاؤں پر سادی پٹی لپیٹے بغیر چلا نہیں جاتا ہے بغیر پٹی کے درد بھی ہوتا ہے اور زیادہ دور تک پیدل چلا بھی نہیں جاتا اور دوسرے پاؤں پر پٹی نہ باندھ کر چلوں تو وہ پھٹ جاتا ہے اور چلنے میں تکلیف ہوتی ہے، اور میں امسال حج پر جا رہا ہوں تو کیا میں دونوں پیروں میں پٹیاں باندھ کر حج اور عمرہ کر سکتا ہوں؟
تنقیح : پٹی پاؤں کے مطابق نہیں بنی بلکہ ایک لمبا کپڑا ہے جس کو میں پاؤں پر لپیٹ لیتا ہوں آخر میں چیپی لگی ہوئی ہے جس سے پٹی چپک جاتی ہے لیکن اس کی چیپی خراب ہے اس لیے میں اس کو اڑیس دیتا ہوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں عذر کی وجہ سے پاؤں پر سادہ پٹی باندھ کر بلا کراہت حج اور عمرہ کر سکتے ہیں۔
المبسوط للسرخسی (4/127) میں ہے :
و ان عصب شيئا من جسده لعلة أو غير علة فلا شيء عليه لأنه غير ممنوع عن تغطية سائر الجسد سوى الرأس والوجه لكن يكره له أن يفعل ذلك من غير علة.
بدائع الصنائع (3/221) میں ہے :
و لو عصب شيئا من جسده لعلة أو غير علة ( لا شيء عليه لأنه غير ممنوع عن تغطية بدنه بغير المخيط، ويكره أن يفعل ذلك بغير عذر ) لأن الشد عليه يشبه لبس المخيط.
معلم الحجاج (ص: 133) میں ہے :
سر اور منہ کے علاوہ اور بدن پر بلاوجہ کے پٹی باندھنا مکروہ ہے، اگر ضرورت ہو تو مکروہ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
