• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“حسین لڑکے کا بوسہ لے تو یہ اپنی ماں کے ساتھ ستربارزناکے برابرہے” کی تحقیق

استفتاء

ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جو حسین لڑکے کا بوسہ لے  تو یہ اپنی ماں کے ساتھ  ستربارزناکے برابرہے۔

کیا یہ حدیث درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ حدیث  نہ ہمیں علامہ ابن تیمیہؒ کے حوالے سے کہیں ملی ہے اور نہ   کسی اور کے حوالے سے مل سکی ۔

البتہ “حلیۃ الأولياء وطبقات الأصفياء لابی نعيم الأصبہانی، تلبیس ابليس لابن الجوزی اور ذم الہوى لابن الجوزی”میں  اس  کے قریب قریب الفاظ میں حضرت ابوسائب رحمہ اللہ کاقول مذکور ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔

حلیۃ الاولیاء (9/323)میں اس قول کے الفاظ درج ذیل ہیں:

“حدّثنا أبو بكر محمّد بنُ أحمد المُفِيدُ، ثنا عبد الله بنُ الفَرَج، ثنا القاسم بنُ عثمان، ثنا عبد العزيز بنُ أبي السّائب عن أبيه قال: لَأَنا أخوفُ على عابدٍ مِنْ  غُلامٍ مِنْ سبعين عَذْراء”.

ترجمہ: (حضرت) عبد العزیز بن ابو سائب (رحمہ اللہ ) اپنے والد( حضرت ابو  سائب رحمہ اللہ ) سے نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں:  میں کسی عابد کے بارے میں  ستر  کنواری لڑکیوں (کے فتنے) سے بھی زیادہ   ایک  (بے ریش) لڑکے (کے فتنے ) کا خوف رکھتا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved