- فتوی نمبر: 31-382
- تاریخ: 16 اپریل 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
حضور ﷺ سے رخصت ہوتے وقت کا سلام
الوَدَاعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْفِرَاقُ يَا نَبِيَّ الله لَا جَعَلَهُ اللهُ تَعَالَى آخِرَ العَهْدِ لَا مِنْكَ وَلا مِنْ زِيَارَتِكَ وَلَا مِنَ الْوُقُوفِ بَيْنَ يَدَيْكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ وَعَافِيةٍ وَصِحَةٍ وَسَلَامَةٍ إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى جِئْتُكَ وَإِنْ مِتُ فَأَوْدَعْتُ عِنْدَكَ شَهَادَتِي وَأَمَانَتِي وَعَهْدِى وَمِيثَاقَى مِنْ يَوْمِنَا هَذَا إِلى يَوْمِ القِيامَةِ وَهِيَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ
” یا رسول اللہﷺ رخصت ہوتا ہوں ۔ اے اللہ کے نبی آپ سے جدا ہوتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس زیارت کو اور آپ کے حضور میں حاضری کو آخری نہ بنائے ۔ اگر میں خیر و عافیت اور صحت و سلامتی کے ساتھ زندہ رہا توان شاء اللہ دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اگر مر گیا تو آپ کے پاس امانت رکھتا ہوں آج کے دن سے اپنا عہد اور پختہ وعدہ قیامت کے دن تک، اور وہ (عہد ) گواہی ہے اس بات کی کہ نہیں کوئی معبود سوائے خدا کے، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور (اس کے ساتھ میں یہ ) گواہی بھی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ پاک ہے آپ کا رب عزت والا ان تمام عیبوں سے جو کافر اس کی ذات پر لگاتے ہیں اور سلام ہو اس کے رسولوں پر اور تمام تعریفیں ہیں اللہ کے لئے جو دونوں جہانوں کا مالک ہے ۔”
کیا یہ دعا یا اس جیسی دعا خیر القرون میں کسی سے ثابت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ دُعا یااس جیسی دُعا (یعنی جس میں حضور ﷺ کو مخاطب کرکے مذکورہ باتیں کہی گئی ہوں ) کا ثبوت ہمیں خیرالقرون میں سے کسی سے نہیں ملا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved